zindagi ne ajab savaal kiye
raaegaan saari parchiyaan niklin

Irfan Khan
Irfan Khan
Irfan Khan
Popular Shayari
5 totalkabhi mauqe pe kaam aayaa karegi
kisi ke saath rakhiye dushmani bhi
ham ko darkaar ik tabib ki hai
aap aaein to ham bhi achchhe hon
kaam aasaan kar diyaa jaae
ishq mein vaapsi ke raaste hon
un ko bhi apni jhurriyaan dikh jaaein
aainon ke bhi apne chehre hon
Ghazalغزل
محفل سے پھر تنہائی تک آنے میں وقت لگے گا خاموشی اپنانے میں اس سے بچھڑنا مجبوری ہو سکتی ہے کافی وقت لگا دل کو سمجھانے میں ہوش آیا تو اپنے آپ سے پوچھیں گے خود کو کتنا کھویا اس کو پانے میں
mahfil se phir tanhaai tak aane mein
غم کے بادل بھلے ہی گہرے ہوں بس تری یاد کے اجالے ہوں ہم کو درکار اک طبیب کی ہے آپ آئیں تو ہم بھی اچھے ہوں کام آسان کر دیا جائے عشق میں واپسی کے رستے ہوں ان کو بھی اپنی جھریاں دکھ جائیں آئنوں کے بھی اپنے چہرے ہوں
gham ke baadal bhale hi gahre hon
درد کی روشنی میں رہتے ہیں ہم ذرا سادگی میں رہتے ہیں وہ مری آنکھ میں نمی کی طرح ہم بھی اس کی خوشی میں رہتے ہیں اس سے اظہار ہو نہیں پاتا ہاں نہیں پھر کبھی میں رہتے ہیں جس میں وہ تھا کبھی ہمارے ساتھ ہم اسی زندگی میں رہتے ہیں
dard ki raushni mein rahte hain
ہر اک شے میں کمی رکھی گئی ہے آنکھ میں یوں نمی رکھی گئی ہے سوچتا ہوں کہ اس سراپے میں کس قدر سادگی رکھی گئی ہے موت سے سب گریز کرتے ہیں اس لیے زندگی رکھی گئی ہے چاند کی چاندنی ث تنگ آ کر اس کے لب پر ہنسی رکھی گئی ہے میری جانب بھی اک نظر اس کی ہاں مری بات بھی رکھی گئی ہے میرے سارے کلام رکھے گئے اس کی بس خامشی رکھی گئی ہے دن تو میں کاٹ لوں مگر عرفان ہجر میں رات بھی رکھی گئی ہے
har ik shai mein kami rakhi gai hai





