"karta hai lahu dil ko har ik harf-e-tasalli kahne ko to yuun qurbat-e-gham-khvar bahut hai"

Irfana Azeez
Irfana Azeez
Irfana Azeez
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"dil ke angan men ubharta hai tira aks-e-jamil chandni raat men ho raat ki raani jaise"
kartaa hai lahu dil ko har ik harf-e-tasalli
kahne ko to yuun qurbat-e-gham-khvaar bahut hai
dil ke aangan mein ubhartaa hai tiraa aks-e-jamil
chaandni raat mein ho raat ki raani jaise
Ghazalغزل
har kaasa-e-dil kaif se sarshaar bahut hai
ہر کاسۂ دل کیف سے سرشار بہت ہے مائل بہ کرم کوئی طرح دار بہت ہے کب سطوت اسباب کی ہے دل کو تمنا ہم اہل طریقت کو تو پندار بہت ہے یہ عہد عبارت نہیں شمشیر و سناں سے شوریدہ سرو! جرأت گفتار بہت ہے کرتا ہے لہو دل کو ہر اک حرف تسلی کہنے کو تو یوں قربت غم خوار بہت ہے ہر چند رسائی میں نہیں فصل بہاراں ارباب جنوں دامن دل دار بہت ہے ہونٹوں سے ہو مانوس اگر حق تو جنوں کو اک نعرۂ منصور سر دار بہت ہے
har chand zakhm zakhm darida-badan rahe
ہر چند زخم زخم دریدہ بدن رہے گل رنگ تیری یاد کے سب پیرہن رہے دیکھا تجھے تو رنگ پس رنگ تھی نظر یہ سلسلے بھی دل کے چمن در چمن رہے پہروں تصورات کی محفل سجی رہی پہروں ترے خیال سے محو سخن رہے ذوق جنوں پہ تنگ رہیں دل کی وسعتیں کس دشت کی تلاش میں شوریدہ تن رہے ہر چند تھیں خموش مرے دل کی دھڑکنیں دیوار و در کو یاد ترے سب سخن رہے
charaagh-e-fikr jalaayaa hai raat bhar ham ne
چراغ فکر جلایا ہے رات بھر ہم نے اور اس کے بعد نکھارا رخ سحر ہم نے ہمیں شعور نے دھوکے دیئے ہیں رہ رہ کر فریب کھائے ہیں دانستہ بیشتر ہم نے صلہ خرد کا زمانے میں جام زہر سہی نکھار دی ہے مگر عظمت بشر ہم نے نظر ہو دولت ہر دوجہاں پہ کیا مائل سمیٹ لی ہے بہت دولت نظر ہم نے صدائے پا کی سنی باز گشت ہی ہر گام تلاش کی ہے جہاں تیری رہ گزر ہم نے نگار گل نے لیا نام زیر لب تیرا اداس چاند کو دیکھا پس شجر ہم نے
har nafas vaqf-e-aarzu kar ke
ہر نفس وقف آرزو کر کے کچھ بھی پایا نہ جستجو کر کے سو شگوفے کھلا دیئے دل میں خندۂ گل سے گفتگو کر کے مسکراتا ہی کیوں نہ رہنے دو فائدہ چاک دل رفو کر کے کتنے نو خیز و نو دمیدہ پھول مر مٹے خواہش نمو کر کے غیرت دل نے آہ سوزاں کو رکھ دیا سرمۂ گلو کر کے
dil par gahraa naqsh hai saathi laakh tiri daanaai kaa
دل پر گہرا نقش ہے ساتھی لاکھ تری دانائی کا سات سمندر بھی تو نہ پائیں راز مری گہرائی کا چشمۂ خوں میں ڈوب گئی بارات سہانے تاروں کی بوجھل پلکوں پر گہنا یا چاند مری تنہائی کا جھوم رہے ہیں کالے بادل درس کی پیاسی آنکھوں میں کاجل بن کر پھیل گیا ہے داغ مری رسوائی کا کتنا ہے آنند ترے اس دھیمے دھیمے لہجے میں تیرے دھیرج سے نکھرا ہے رنگ مری رعنائی کا میرے دل سے پوچھے کوئی قدر ابھرتے سورج کی میری آنکھ سے دیکھے کوئی روپ مرے سودائی کا صندل جیسی رنگت پر قربان سنہری دھوپ کروں روشن ماتھے پر میں واروں سارا حسن خدائی کا میرا بکھرا بکھرا تن من سمٹ گیا کسی چاہت سے جان گئی ہوں بھید میں تیری باہوں کی گیرائی کا
ruup ke paanv chumne vaale sun le meri baani
روپ کے پاؤں چومنے والے سن لے میری بانی پھول کی ڈالی بہت ہی اونچی تو ہے بہتا پانی سوندھی سوندھی خوشبو کے بہتے ہیں شیتل جھرنے کھیتوں پر لہراتا ہے جب میرا آنچل دھانی تو میرا آدرش سہانا میں سپنوں کی ڈالی ہریالی دھن تیرا میرا دولت آنی جانی چاند سے ماتھے پر ہیں گہری سوچ کی تین لکیریں بھول گئی رستہ ان بھول بھلیوں میں اک رانی پھیل گیا ہے قریہ قریہ تیرا رنگ سنہرا تو ہے میرا روپ سویرا میں ہوں شام سہانی بیراگی کے روپ میں میرے در پر آنے والے تیرے دل کی دھڑکن لگتی ہے جانی پہچانی کتنی اونچی پریت ہے تیری جنتا کے رکھوالے شکتی کا پرچار کرے گی تیری پریم دوانی





