dam-ba-dam uThti hain kis yaad ki lahrein dil mein
dard rah rah ke ye karvaT si badaltaa kyaa hai

Jamal Panipati
Jamal Panipati
Jamal Panipati
Popular Shayari
2 totalkyaa ho gayaa gulshan ko saakit hai fazaa kaisi
sab shaakh o shajar chup hain hiltaa nahin pattaa bhi
Ghazalغزل
سدا رہے تیرا غم سلامت یہی اثاثہ ہے آبرو کا یہ دولت دل بہم نہ ہوتی تو کون پرساں تھا آرزو کا امڈ کے آیا ہے اے عزیزو روش روش سیل رنگ و بو کا مگر نہ پھر بھی نصیب چمکا اگر مری خاک بے نمو کا مثال صبح بہار تو ہے تو میں ہوں شام خزاں کی صورت چمن چمن خار و خس سے میرے فروغ ہے تیرے رنگ و بو کا بسے تو میرے مشام جاں میں مہک ترے نامۂ نفس کی کھلے تو پرچم کبھی مرے دوش پر تری زلف مشکبو کا مسافران سفینۂ جاں رواں ہیں کن منزلوں کی جانب ہوا کی زد پر شب سیہ میں علم کئے بادباں لہو کا قبائے جاں تار تار اپنی ہوئی بہت کاوش رفو میں مگر اسی سے کھلا ہے آخر بھرم ہر اک چاک ہر رفو کا جو میرے احساس بے زباں کو زباں ملی تو چمک اٹھا ہے شرارہ بن کر کہیں نوا کا چراغ بن کر کہیں پہ لو کا
sadaa rahe teraa gham salaamat yahi asaasa hai aabru kaa
1 views
جانے کیا ہوگا ہر اک دل کو یہ دھڑکا کیا ہے دور تک پھیلا ہوا خوف کا سایہ کیا ہے بحر و بر وادی و صحرا میں ہے ہلچل کیسی یہ افق تا بہ افق شور سا برپا کیا ہے بین کرتی ہوئی چلتی ہے ہوا کیوں سر شام دل کا مارا کوئی راتوں کو سسکتا کیا ہے کیا ہے یہ سوز دروں جس سے سلگتا ہے بدن جو بھڑکتا ہے دل و جاں میں وہ شعلہ کیا ہے دم بہ دم اٹھتی ہیں کس یاد کی لہریں دل میں درد رہ رہ کے یہ کروٹ سی بدلتا کیا ہے کیسی تلخی ہے کہ نس نس میں بسی جاتی ہے زہر سا کوئی رگ و پے میں اترتا کیا ہے بجھ گئی شمع نظر جب تو وہ چہرہ چمکا دل جو ڈوبا ہے تو اب چاند سا نکلا کیا ہے
jaane kyaa hogaa har ik dil ko ye dhaDkaa kyaa hai
1 views
رات یادوں کی برکھا برستی رہی دھیان بچھڑے زمانوں کا آتا رہا آنکھ میں راکھ بیتے دنوں کی لئے میں گئے موسموں کو بلاتا رہا شہر سے دشت میں دشت سے شہر میں لہر سی اک ملاتا ہوا لہر میں میں سر شہر جاں رقص کرتا رہا میں سر دشت دل خاک اڑاتا رہا آنکھ میں در کھلا تھا طلسمات کا بھید کھلتا نہ تھا پر کسی بات کا آئنہ سا دکھاتی رہیں حیرتیں کوئی پردے اٹھاتا گراتا رہا رات کی اوڑھنی کے ستارے بجھے بجھنے والے جو تھے دیپ سارے بجھے درد کے چاند کی چاندنی میں مگر شہر جاں رات بھر جگمگاتا رہا کچھ خیالوں کا خوابوں کا میں نقش گر اور تو کچھ نہ تھا پاس اپنے مگر کچھ خیال آنکھ میں صورت خواب تھے نقش کیا کیا انہی سے بناتا رہا
raat yaadon ki barkhaa barasti rahi dhyaan bichhDe zamaanon kaa aataa rahaa
وہ لہو روئی ہیں آنکھیں کہ بتانا مشکل اب کوئی خواب ان آنکھوں میں سجانا مشکل کتنی یادیں تھیں کہ گرد رہ ایام ہوئیں کتنے چہروں کا ہوا دھیان میں لانا مشکل کتنے شب خوں تھے اجالوں پہ جو مارے نہ گئے کتنی شمعیں تھیں ہوا جن کا جلانا مشکل کتنے دروازے دلوں کے تھے جو دیوار بنے ایسی دیوار کہ در جس میں بنانا مشکل رنگ جتنے تھے بہاروں میں بہاروں سے گئے اس چمن زار میں اب جی کا لگانا مشکل وہ بھی اے شہر نگاراں تھا کوئی موسم خواب بیت جانے پہ بھی ہے جس کو بھلانا مشکل رقص کرتے ہوئے کانٹوں پہ چلے ہم ورنہ ہر قدم راہ میں تھا پھول کھلانا مشکل یوں ہی چڑھتا رہا گر درد کا دریا تو جمالؔ کشتیٔ جاں کو کنارے سے لگانا مشکل
vo lahu roi hain aankhein ki bataanaa mushkil
بے فیض عجب نکلی یہ فصل تمنا بھی پھوٹی نہیں کونپل بھی چٹکا نہیں غنچہ بھی کیا ہو گیا گلشن کو ساکت ہے فضا کیسی سب شاخ و شجر چپ ہیں ہلتا نہیں پتا بھی لو جس سے لگائی تھی وہ آس بھی مدھم ہے دل جس سے چراغاں تھا بجھتا ہے وہ شعلہ بھی اس عشق میں کیا کھویا اس درد سے کیا پایا تم نے نہیں پوچھا بھی ہم نے نہیں سوچا بھی آنگن ہی میں اب دل کے ہم خاک اڑاتے ہیں گھر ہی میں نکل آئی گنجائش صحرا بھی اندھوں کے لیے روؤں بہروں کے لیے گاؤں ہے ذوق نوا مجھ کو لیکن نہیں اتنا بھی
be-faiz ajab nikli ye fasl-e-tamannaa bhi





