"bhiiD men zamane ki ham sada akele the vo bhi duur hai kitna jo rag-e-gulu men hai"
Jami Rudaulvi
Jami Rudaulvi
Jami Rudaulvi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"zahr zindagani ka pi ke aql aa.i hai daru-e-gham-e-hasti talkhi-e-subu men hai"
bhiiD mein zamaane ki ham sadaa akele the
vo bhi duur hai kitnaa jo rag-e-gulu mein hai
zahr zindagaani kaa pi ke aql aai hai
daaru-e-gham-e-hasti talkhi-e-subu mein hai
Ghazalغزل
aati hai zindagi mein khizaan bhi bahaar bhi
آتی ہے زندگی میں خزاں بھی بہار بھی صحن چمن میں پھول بھی ہوتے ہیں خار بھی ناراضگی نہ ہو تو محبت ہے بے مزہ ہستی خوشی بھی غم بھی ہے نفرت بھی پیار بھی بے اعتنائیوں میں بھی ہے چاشنی کا لطف ہوتا ہے التفات کبھی ناگوار بھی چھوڑا نہ خوف ہجر نے دامن تمام رات آغوش پرسکوں میں تھا دل بیقرار بھی ارماں کا خوں سماج کی تلوار نے کیا مجبور مصلحت سے ہوا اختیار بھی محنت کی سخت دھوپ میں پیپل کی چھاؤں میں ہے دشت غم میں ابر کرم کی پھوار بھی ہر چند بے دریغ بہا خون آرزو لیکن ہوا ہے دامن دل لالہ زار بھی گنجینۂ صفات ہے اس کی ہر ایک بات صورت بھی گفتگو بھی ادا بھی شعار بھی انگور کے یہ باغ لب جو یہ چہچہے ہوگا یہیں کہیں پہ ہمارا مزار بھی جامیؔ پہ کیا بنے گی خدا جانے حشر میں جنت کی آرزو ہے گناہوں سے پیار بھی
aaj kuchh kahne ko thi shokhi-e-tadbir miri
آج کچھ کہنے کو تھی شوخئ تدبیر مری ہنس پڑی پاس کھڑی تھی کہیں تقدیر مری ٹوٹتے ہی سے ہوئی دل میں کشاکش پیدا میری تخریب میں پوشیدہ تھی تعمیر مری حریت ظلمت زنداں میں جنم لیتی ہے انقلابات کی تاریخ ہے زنجیر مری اپنی جانب کبھی دیکھا ہی نہیں تھا ورنہ وسعتیں دونوں جہانوں کی ہیں جاگیر مری دوستی کیسی رہ و رسم عمومی بھی گئی پیار کی بات کہی آپ سے تقصیر مری میں کہاں آپ کہاں دید کی امید کہاں یاد آؤں جو کبھی دیکھیے تصویر مری عبرت آموز ہے دنیا کا تغیر جامیؔ مجھ سے ملتی نہیں دو روز کی تصویر مری
dil mein un ko basaa ke dekh liyaa
دل میں ان کو بسا کے دیکھ لیا آگ گھر میں لگا کے دیکھ لیا زندگانی وبال دوش ہوئی دل کی باتوں میں آ کے دیکھ لیا اشک بھر لائی ہیں مری آنکھیں اس نے جب مسکرا کے دیکھ لیا اور اب کس کا اعتبار کریں دل کو اپنا بنا کے دیکھ لیا ان کی عادت ہے مسکرا دینا ہم نے آنسو بہا کے دیکھ لیا ہم کو جادو کا اعتبار نہ تھا ان سے نظریں ملا کے دیکھ لیا غنچۂ دل کبھی کھلا ہی نہیں بارہا مسکرا کے دیکھ لیا اختصار جواب کے قرباں مسکرا مسکرا کے دیکھ لیا کام آتی نہیں وفا جامیؔ بارہا آزما کے دیکھ لیا
dil ko bachaa ke laae the saare jahaan se ham
دل کو بچا کے لائے تھے سارے جہاں سے ہم آخر میں چوٹ کھا گئے اک مہرباں سے ہم بے فکریوں کا راج ہو رسہ کشی کے ساتھ وہ مدرسہ حیات کا لائیں کہاں سے ہم اب گرد بھی ہماری نہ پائیں گے قافلے آگے نکل گئے ہیں بہت کارواں سے ہم اپنا شمار ہی نہیں پھولوں میں باغ کے ایسے میں کیا امید کریں باغباں سے ہم جامیؔ وطن میں اپنے مسافر تھی زندگی لندن میں بن بلائے ہوئے میہماں سے ہم
ab apne des ki aab-o-havaa ham ko nahin bhaati
اب اپنے دیس کی آب و ہوا ہم کو نہیں بھاتی غلامی ایک ذلت تھی سراپا درد آزادی قیادت کرنے والوں کو مسیحائی کا دعویٰ تھا کسی نے لیکن اب تک قوم کی بیڑی نہیں کاٹی ابھی تک پاؤں سے چمٹی ہیں زنجیریں غلامی کی دن آ جاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی انہیں اقوام کے رحم و کرم پر اب بھی جیتے ہیں غرور حریت نے جن سے حاصل کی تھی آزادی بجائے فکر نو رجعت پسندی عام شیوہ ہے حقیقت میں مسلماں ہر جگہ ہے کشتۂ ماضی کراچی میں مہاجر اور انگلستان میں کالے تری تقدیر میں جامیؔ لکھی ہے خانہ بربادی
har taar-e-nafas khaar hai maalum nahin kyuun
ہر تار نفس خار ہے معلوم نہیں کیوں آسان بھی دشوار ہے معلوم نہیں کیوں سو بار مروں اور جیوں تب انہیں پاؤں دل اس پہ بھی تیار ہے معلوم نہیں کیوں سو طرح کے آرام میسر سہی لیکن دل جینے سے بیزار ہے معلوم نہیں کیوں جو لذتیٔ جور و جفا تھا اسی دل پر اک شوخ نظر بار ہے معلوم نہیں کیوں اک بار ملی ان سے نظر پی نہیں کوئی پھر بہکی سی رفتار ہے معلوم نہیں کیوں سو جان سے ہم جس پہ فدا ہوتے ہیں دن رات وہ درپئے آزار ہے معلوم نہیں کیوں جامیؔ وہ مخاطب ہیں مگر عرض تمنا پھر بھی مجھے دشوار ہے معلوم نہیں کیوں





