vo nahin aaj-kal khafaa ham se
koi niklaa hai raasta shaayad

Jatinder Vir Yakhmi Jayaveer
Jatinder Vir Yakhmi jayaveer
Jatinder Vir Yakhmi jayaveer
Popular Shayari
6 totalkhuub gahri jo lagi choT to ham ne jaanaa
vaqt lagtaa hai kisi dard ko jaate jaate
laakh chaahaa ki ho pahchaan koi apni bhi
kaash ham aap ke hi naam se jaane jaate
dukh kaTe zahmat kaTe kaT jaae bad-hali sabhi
vaqt kaaTe naa kaTe to kyaa karein kis se kahein
aae hain sunte ki aisaa vaqt bhi aataa hai jab
ho davaa yaa phir duaa kuchh kaargar hotaa nahin
mere khvaabon ke jharokon ko sajaate rahiye
na sahi vasl magar yaad to aate rahiye
Ghazalغزل
مسکرانے کا یہی انجام ہے سب کے ہونٹوں پر ترا ہی نام ہے تھی کشش کی آپ میں ہی کچھ کمی غیر پہ کیوں بے وجہ الزام ہے خط کا مضموں ہے مرے ہی واسطے گو لفافے پر کسی کا نام ہے خواب میں بھی یہ سفر جاری رہے زندگی آوارگی کا نام ہے لوگ کیوں کھل کے کبھی ملتے نہیں اس شہر میں ہر کوئی بد نام ہے رتبے داری کی لگی اک ہوڑ ہے قابلیت بس برائے نام ہے مے کدے سے دور ہی رہتا ہوں میں تشنگی ہی بس مرا انعام ہے جام، ہو محفل، نہ ہو ساقی کوئی ہم کو اپنی بے خودی سے کام ہے
muskuraane kaa yahi anjaam hai
پھر کوئی یاد آ گیا شاید ہم کو جینا سکھا گیا شاید ہوگی تکلیف تو دعا کیجے پھر وہی درد ہے اٹھا شاید وہ نہیں آج کل خفا ہم سے کوئی نکلا ہے راستہ شاید پھیر لی آنکھ آپ نے جب سے ہے برا وقت آ گیا شاید دل یہ ٹوٹا ہے آپ کے ہاتھوں لوگ سمجھے ہیں حادثہ شاید
phir koi yaad aa gayaa shaayad
نہ میں وہ رہا کیا سے کیا ہو گیا کیا ملے تم مجھے میں خدا ہو گیا وقت کاٹے نہ کٹتا تھا کل تک مرا دل ہے مصروف جب سے فدا ہو گیا اک ترا نام ہی بس مجھے یاد ہے آج کل یہ مرا فلسفہ ہو گیا ہر کسی کی زباں پہ ہے چرچے مرے مانو اخبار میں آج کا ہو گیا اس کے در پہ شب و روز جا بیٹھنا کام ہم سے یہی اک بڑا ہو گیا نا ملے ایسے شاعر زمانے ہوئے ایک غالبؔ تھا میں دوسرا ہو گیا
na main vo rahaa kyaa se kyaa ho gayaa
جانے اس میں غم یا خوشی ہے پہلی بار محبت کی ہے اپنے لیے تو بات نئی ہے پہلی بار محبت کی ہے کسے بتائیں کس سے پوچھیں کیوں یہ تڑپ ہر دم رہتی ہے کیسے کہیں یہ خوش خبری ہے پہلی بار محبت کی ہے بے سدھ سا رہتا ہوں میں کیوں بھول گیا اپنوں غیروں کو اک بس ان کی یاد بچی ہے پہلی بار محبت کی ہے ملنے پر بھی پابندی ہے لوگ کہیں یہ خود غرضی ہے اس میں ہماری کیا غلطی ہے پہلی بار محبت کی ہے سن رکھا ہے بے شک ہم نے لوگ نہیں دیں گے اب جینے دنیا کر لے جو کرتی ہے پہلی بار محبت کی ہے
jaane is mein gham yaa khushi hai pahli baar mohabbat ki hai
بے وجہ آپ ہمیں کاش نہ یوں ٹھکراتے آزما لیتے یا دستور بدلتے جاتے لاکھ چاہا کہ ہو پہچان کوئی اپنی بھی کاش ہم آپ کے ہی نام سے جانے جاتے یہ بھی احساں نہ کیا آپ نے روٹھو ہم سے اک بہانہ تو ملا ہوتا منانے آتے خوب گہری جو لگی چوٹ تو ہم نے جانا وقت لگتا ہے کسی درد کو جاتے جاتے
be-vajah aap hamein kaash na yuun Thukraate
جانب منزل سفر میں روشنی سی ہے ابھی اس اندھیری رات میں بھی چاندنی سی ہے ابھی جو ہمارے دل میں ہے وہ بوجھ لیں گے خود کبھی بات کیا سمجھایئے جو ان کہی سی ہے ابھی ہے وہی دھڑکن پرانی پر مری سانسوں میں کیوں اک نئی خوشبو ہے مانو تازگی سی ہے ابھی کیا وہی آئے گی لے کر چلچلاتی دوپہر اک سہانی دھوپ جو لگتی بھلی سی ہے ابھی ہو سکے دہرائیے نہ بات جو سچی لگے دشمنی بن جائے گی جو دوستی سی ہے ابھی
jaanib-e-manzil safar mein raushni si hai abhi





