SHAWORDS
J

Javed Akhtar Bedi

Javed Akhtar Bedi

Javed Akhtar Bedi

poet
3Shayari
20Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

روشنی کا پردہ ہے درمیاں ترے میرے اور پیار جاری ہے پیار میں محبت میں ہم نہ خود کو بدلیں گے ایسی اپنی یاری ہے ہاتھ میں جو آنکھیں ہیں ان پہ ہی فقط تکیہ کس قدر ہے نا کافی کچھ مدد بھی لی جائے دوسروں سے اوروں سے یہ بھی ہوشیاری ہے ڈھنگ ہے سماعت کا رنگ ہے بصارت کا بے طرح و بے معنی ننگ کے لیے دوڑیں ہم بھی ساری دنیا میں ایک جنگ جاری ہے سرخ لفظ ہیں میرے میں بھی شعر کہتا ہوں اور جب سناتا ہوں کوئی بول اٹھتا ہے شعر شعر میں تیرے ایک غم گساری ہے سر برہنہ شاخوں پر ایک دن وہ آتا ہے اور گلاب کھلتے ہیں تجربہ ہے یہ اپنا ہم نے بھی یہاں آخر زندگی گزاری ہے آنکھ والے ساون میں ایک بات دیکھی ہے اور کہہ بھی دوں تم سے تشنگی مٹاتا ہے دل کی تشنگی کا یہ قدرتی شکاری ہے بجھ رہی ہیں کیوں آنکھیں ساتھ ماہ و انجم کے کون سا یہ سورج ہے زندگی نہ چھن جائے عارضی سی تو بیدیؔ زندگی ہماری ہے

raushni kaa parda hai darmiyaan tire mere aur pyaar jaari hai

غزل · Ghazal

کروں گا زندگی میں خلق آشنا ہو کر سواد سنگ جہاں میں اک آئنہ ہو کر خزاں کا دور ہے اور دل میں آرزو یہ ہے کہ میں گلاب کھلاتا پھروں صبا ہو کر یہ چپ کا شہر مرے ساتھ جو سلوک کرے میں چپ کے شہر میں زندہ رہوں صدا ہو کر جو حشر تک رہا دنیا میں تیرگی کا سماں تو حشر تک میں رہوں گا چراغ پا ہو کر مرے سکوت و صدا کے شریک ہو جاؤ رہ حیات سے گزریں گے قافلہ ہو کر فنا کا شہر ہے یہ زیست کا جہاں بیدیؔ یہاں مرو بھی تو پیغمبر بقا ہو کر

karungaa zindagi mein khalq-aashnaa ho kar

غزل · Ghazal

تیرگی کی شدت کو صبح کا ستارا لکھ پھیلنے ہی والا ہے ہر طرف اجالا لکھ رزم گاہ ہستی میں یوں برا نہ سوچ اپنا دشمنوں کے اندر کے صلح جو کو اچھا لکھ نقش پا کے جنگل میں کیا شمار رستوں کا ہے جدا زمانے سے لیکن اپنا رستہ لکھ بے حسی کا یہ جادو ٹوٹ ہی تو جائے گا اس لیے نہ قریے کو پتھروں کا صحرا لکھ اس نگر کے لوگوں کو پہلے بخش بینائی اور بعد میں خود کو اس نگر کا عیسیٰ لکھ حرف ذہن میں بیدیؔ رنگ سے تہی کب ہیں صرف تیرا کاغذ ہے جو ابھی ہے سادہ لکھ

tirgi ki shiddat ko subh kaa sitaaraa likh

غزل · Ghazal

وہ روشنی دماغ کو دینا خیال کی حاجت رہے مجھے نہ تمہارے وصال کچھ یوں فنا ہوا ہوں محبت کی آگ میں دنیا کو دے چلا ہوں کہانی ملال کی وہ میری خامشی کو بڑھاتا ہے حشر سے رکھتا ہے لاج میرے لب بے سوال کی سیلاب کی شکست پہ ہنستا ہوا یہ شہر اور آسماں پہ قوس قزح بھی کمال کی ہر دم ہوا کے ساتھ سفر کی ترنگ میں کیسی حیات ہے مری خاک فعال کی بیدیؔ مریض دل کا ہوں اور درد کا سفیر مر جاؤں گا نہ اس نے اگر دیکھ بھال کی

vo raushni dimaagh ko denaa khayaal ki

غزل · Ghazal

یہ اپنا شہر جو ہے دشت بے اماں ہی تو ہے اس اعتبار سے دل درد کا مکاں ہی تو ہے نہیں ہے پرسش احوال کے لیے کوئی بس ایک مجمع ارواح رفتگاں ہی تو ہے یہ داستان تمنا عجب سہی پھر بھی بھلا ہی دے گا زمانہ کہ داستاں ہی تو ہے یہ اور بات ابھی انقلاب آ جائے حیات ورنہ ابھی تک وبال جاں ہی تو ہے سکوں کا ایک بھی لمحہ ہو کیوں مقدر میں یہ عہد زیست بھی دور ستم گراں ہی تو ہے رلا دیا ہے گھٹا کے سلوک نے بیدیؔ مگر یہ تشنہ لبی ایک امتحاں ہی تو ہے

ye apnaa shahr jo hai dasht-e-be-amaan hi to hai

غزل · Ghazal

درد بھی گنتے رہو اور خواب بھی گنتے رہو کتنا اچھا کام ہے لیکن اکیلے مت کرو میں نے اس کی روشنی میں جس قدر نظمیں کہیں ان کو دیواروں پہ لکھنا ہے مرا تم ساتھ دو عمر کے یہ سال بھی آخر گزر ہی جائیں گے چاند وعدے کی طرف تکتے رہو اور خوش رہو رزق کی مچھلی کی خاطر قتل کر دیتے ہیں لوگ ہو سکے تو اپنا سب کچھ دوسروں میں بانٹ دو اب تھے اس کے پاس بیدیؔ پیش اس نے کر دئے آرزو انجام تک پہنچی میاں جیتے رہو

dard bhi ginte raho aur khvaab bhi ginte raho

Similar Poets