main apne jism ke andar na dafn ho jaaun
mujhe vajud ke girte hue makaan se nikaal

Jeem Jazil
Jeem Jazil
Jeem Jazil
Popular Shayari
6 totalashk aankhon se ye kah kar niklaa
ye tire zabt ki had hai? had hai
rakkhi thi tasvir tumhaari aankhon mein
ham ne saari raat guzaari aankhon mein
ek bachcha saa be-sabab 'jaazil'
baiThaa rahtaa hai ruuTh kar mujh mein
chhaanv chhaanv pukaartaa jaae
kaun karne lagaa safar mujh mein
zindagi tujh ko tire dard ke har ik pal ko
ham ne jis tarah guzaaraa hai khudaa jaantaa hai
Ghazalغزل
ہر طرف دھوپ کا نگر مجھ میں کٹ گرا آخری شجر مجھ میں چھاؤں چھاؤں پکارتا جائے کون کرنے لگا سفر مجھ میں مجھ سے ہو کر الگ پریشاں تھا لوٹ آیا مرا ہنر مجھ میں ایک بچہ سا بے سبب جاذلؔ بیٹھا رہتا ہے روٹھ کر مجھ میں
har taraf dhuup kaa nagar mujh mein
گر ہمیں تیرا سہارا ہے، خدا جانتا ہے پھر تو ہر ظلم گوارہ ہے، خدا جانتا ہے میری ہر راہ گزرتی ہے ترے کوچے سے تو مرا قطبی ستارہ ہے، خدا جانتا ہے زندگی تجھ کو ترے درد کے ہر اک پل کو ہم نے جس طرح گزارا ہے خدا جانتا ہے بیٹھا رہتا ہے جہاں ہجر کا تنہا آنسو میری آنکھوں کا کنارہ ہے، خدا جانتا ہے دل دھڑکتا ہے تو اٹھتی ہیں بدن میں ٹیسیں عشق نے باندھ کے مارا ہے، خدا جانتا ہے
gar hamein teraa sahaaraa hai, khudaa jaantaa hai
مجھے یقین دلا حالت گماں سے نکال غم حیات کو بڑھتے ہوئے زیاں سے نکال پھر اس کے بعد جہاں تو کہے گزاروں گا بس ایک بار ذرا کرب جسم و جاں سے نکال میں عین اپنے ہدف پر لگوں گا، شرط لگا ذرا سا کھینچ مجھے اور پھر کماں سے نکال میں اپنے جسم کے اندر نہ دفن ہو جاؤں مجھے وجود کے گرتے ہوئے مکاں سے نکال میں ایک شعلۂ بدمست ہی سہی لیکن میں جل رہا ہوں مجھے میرے درمیاں سے نکال اے ڈالیوں پہ نئے پھل اگانے والی دعا مرے شجر کو بھی اس حالت خزاں سے نکال بلا رہی ہے تجھے بھی ہوس کی شہزادی تو اپنے آپ کو اس لمحۂ رواں سے نکال جسے بہشت میں آدم نے چکھ لیا تھا اطیبؔ میں کھا رہا ہوں وہی پھل، مجھے یہاں سے نکال
mujhe yaqin dilaa haalat-e-gumaan se nikaal
رکھی تھی تصویر تمہاری آنکھوں میں ہم نے ساری رات گزاری آنکھوں میں بندیا، چوڑی، گجرا، کنگن ایک طرف سب پر بھاری کاجل دھاری آنکھوں میں ممتا کے پہلو میں پہلی پہلی نیند پہلا پہلا خواب کنواری آنکھوں میں رات ہوئی تو سارے بدن میں پھیل گئی دن بھر جتنی آگ اتاری آنکھوں میں ساری ساری رات تماشہ چلتا ہے آتا ہے جب خواب مداری آنکھوں میں جیتے جی دھندلا جائے نا ممکن ہے جینے کی امید ہماری آنکھوں میں جاذلؔ ہر منظر سے حیرت چن چن کر ڈال رہا ہوں باری باری آنکھوں میں
rakkhi thi tasvir tumhaari aankhon mein
مجھ سے اونچا ترا قد ہے، حد ہے پھر بھی سینے میں حسد ہے؟ حد ہے میرے تو لفظ بھی کوڑی کے نہیں تیرا نقطہ بھی سند ہے، حد ہے تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر میری ہر بات ہی رد ہے، حد ہے عشق میری ہی تمنا تو نہیں تیری نیت بھی تو بد ہے، حد ہے زندگی کو ہے ضرورت میری اور ضرورت بھی اشد ہے، حد ہے بے تحاشہ ہیں ستارے لیکن چاند بس ایک عدد ہے، حد ہے اشک آنکھوں سے یہ کہہ کر نکلا یہ ترے ضبط کی حد ہے؟ حد ہے روک سکتے ہو تو روکو جاذلؔ یہ جو سانسوں کی رسد ہے، حد ہے
mujh se unchaa tiraa qad hai, had hai





