har ek gaam pe ranj-e-safar uThaate hue
main aa paDaa huun yahaan tujh se duur jaate hue

Kaami Shah
Kaami Shah
Kaami Shah
Popular Shayari
7 totalmain apne dil ki kahtaa huun
tum apne dil ki sunti ho
vaise tum achchhi laDki ho
lekin meri kyaa lagti ho
faqat ghussa piye jaate hain roz o shab ke jhagDe mein
koi hangaama kar sakte jo vahshat raas aa jaati
main uDtaa rahtaa huun niile samundaron mein kahin
so titliyon ke liye khvaab laataa rahtaa huun
le uDaa hai tiraa khayaal hamein
aur ham qaafile se nikle hain
diye ke aur havaaon ke maraasim khul nahin paate
nahin khultaa ki in mein se ye kis ki aazmaaish hai
Ghazalغزل
ہر ایک گام پہ رنج سفر اٹھاتے ہوئے میں آ پڑا ہوں یہاں تجھ سے دور جاتے ہوئے عجیب آگ تھی جس نے مجھے فروغ دیا اک انتظار میں رکھے دیے جلاتے ہوئے طویل رات سے ہوتا ہے برسر پیکار سو چاک تیز ہوا ہے مجھے بناتے ہوئے یہ تیز گامئ صحرا الگ مزاج کی ہے جو مجھ سے بھاگ رہی ہے قریب آتے ہوئے ہے ایک شور گزشتہ مرے تعاقب میں میں سن رہا ہوں جسے اپنے پار آتے ہوئے شریک آتش و آب و ہوا و خاک رہے مرے عناصر ترتیب شکل پاتے ہوئے بہت قریب سے گزری ہے وہ نوائے سفید مرے حواس کا نیلا دھواں اڑاتے ہوئے میں امتزاج قدیم و جدید ہوں کامیؔ سو اسم عصر ہی پڑھنا مجھے بلاتے ہوئے
har ek gaam pe ranj-e-safar uThaate hue
اک نئے مسئلے سے نکلے ہیں یہ جو کچھ راستے سے نکلے ہیں کاغذی ہیں یہ جتنے پیراہن ایک ہی سلسلے سے نکلے ہیں لے اڑا ہے ترا خیال ہمیں اور ہم قافلے سے نکلے ہیں یاد رہتے ہیں اب جو کام ہمیں یہ اسے بھولنے سے نکلے ہیں
ik nae masale se nikle hain
دل کی آواز میں قیام کریں آ مرے یار آ کلام کریں تتلیاں ڈھونڈنے میں دن کاٹیں اور جنگل میں ایک شام کریں آئنوں کو بلائیں گھر اپنے اور چراغوں کا اہتمام کریں اس کے ہونٹوں کو دھیان میں رکھ کر سرخ پھولوں کا انتظام کریں جس کے دم سے ہے یہ سخن آباد یہ غزل بھی اسی کے نام کریں
dil ki aavaaz mein qayaam karein
اگر کار محبت میں محبت راس آ جاتی تمہارا ہجر اچھا تھا جو وصلت راس آ جاتی گلا پھاڑا نہیں کرتے رفو دریافت کرنے میں اگر بے کار رہنے کی مشقت راس آ جاتی تمہیں صیاد کہنے سے اگر ہم باز آ جاتے ہمیں بھی اس تماشے میں سکونت راس آ جاتی فقط غصہ پیے جاتے ہیں روز و شب کے جھگڑے میں کوئی ہنگامہ کر سکتے جو وحشت راس آ جاتی اگر ہم پار کر سکتے یہ اپنی ذات کا صحرا تو اپنے ساتھ رہنے کی سہولت راس آ جاتی
agar kaar-e-mohabbat mein mohabbat raas aa jaati
نبود و بود کے منظر بناتا رہتا ہوں میں زرد آگ میں خود کو جلاتا رہتا ہوں ترے جمال کا صدقہ یہ آتش روشن چراغ آب رواں پر بہاتا رہتا ہوں دعائیں اس کے لیے ہیں صدائیں اس کے لیے میں جس کی راہ میں بادل بچھاتا رہتا ہوں اداس دھن ہے کوئی ان غزال آنکھوں میں دیے کے ساتھ جسے گنگناتا رہتا ہوں عجیب سست روی سے یہ دن گزرتے ہیں میں آسمان پہ شامیں بناتا رہتا ہوں میں اڑتا رہتا ہوں نیلے سمندروں میں کہیں سو تتلیوں کے لیے خواب لاتا رہتا ہوں یہ مجھ میں پھیل رہا ہے جو اضطراب شدید تو پھر یہ طے ہے اسے یاد آتا رہتا ہوں
nabud o buud ke manzar banaataa rahtaa huun
اگر میں سچ کہوں تو صبر ہی کی آزمائش ہے یہ مٹی امتحاں پیارے یہ پانی آزمائش ہے نکل کر خود سے باہر بھاگنے سے خود میں آنے تک فرار آخر ہے یہ کیسا یہ کیسی آزمائش ہے تلاش ذات میں ہم کو کسی بازار ہستی میں ترا ملنا ترا کھونا الگ ہی آزمائش ہے نبود و بود کے پھیلے ہوئے اس کارخانے میں اچھلتی کودتی دنیا ہماری آزمائش ہے مرے دل کے دریچے سے اچک کر جھانکتی باہر گلابی ایڑیوں والی انوکھی آزمائش ہے یہ تو جو خود پہ نافذ ہو گیا ہے شام کی صورت تو جانی شام کی کب ہے یہ تیری آزمائش ہے دیے کے اور ہواؤں کے مراسم کھل نہیں پاتے نہیں کھلتا کہ ان میں سے یہ کس کی آزمائش ہے
agar main sach kahun to sabr hi ki aazmaaish hai





