havaa se kah do ki yuun khud ko aazmaa ke dikhaae
bahut charaagh bujhaati hai ik jalaa ke dikhaae
Kamal Hatvi
Kamal Hatvi
Kamal Hatvi
Popular Shayari
3 totalbichhaD jaane kaa gham tauba are tauba are tauba
ye vo hai jo ki dimak ki tarah sab chaaT jaataa hai
nazar aankhon ki gum si ho rahi hai
ki ab tum bas sunaai de rahe ho
Ghazalغزل
کس سلیقے سے دل جلاتا ہے جو بھی کہتا ہوں مان جاتا ہے جب اٹھاتا ہوں بزم دل سے اسے آ کے آنکھوں میں بیٹھ جاتا ہے جان کر میں سدا نہیں دیتا عادتاً دل اسے بلاتا ہے دوسروں کی سجائی محفل میں تیرا ہنسنا مجھے رلاتا ہے روٹھنا چھوڑ ہی دیا تم نے اس طرح کون آزماتا ہے اتفاقا میں یاد کرتا ہوں انتقاماً وہ یاد آتا ہے مجھ کو چھوتا ہے احتیاط کے ساتھ اور رسماً گلے لگاتا ہے
kis saliqe se dil jalaataa hai
کنارے پر جب اس نے پاؤں ڈالے ندی پانی سے بولی جا نہا لے اسے کہنا کوئی رستا نکالے برائے نام ہی مجھ کو منا لے گلے سے تو جسے ہنس کر لگا لے وہ سارے شہر کو سر پر اٹھا لے قیامت تک وہی زندہ رہے گا جسے درد محبت مار ڈالے یہ جو صحرا ہے دیوانوں کا گھر ہے نہ دیواریں نہ دروازے نہ تالے نہیں ہیں عشق کی دولت سے واقف مری بربادیوں پر ہنسنے والے تصور میں تری آہٹ کو سن کر خوشی سے ناچ اٹھتے ہیں اجالے وہ پاگل ہے گلوں میں کھوجتا ہے پسینے سے ترے خوشبو بنا لے اب اس سے یوں بچھڑنا بھی نہیں ہے اسے کہنا نئے پہلو نکالے نہیں ہے اب کسی آندھی کے بس میں مرے گھر سے تری خوشبو اڑا لے
kinaare par jab us ne paanv Daale
زندگی بھر کا رونا گانا ہے قید خانہ تو قید خانہ ہے چوک کے نام پر بھی چوک نہیں کتنا ظالم ترا نشانا ہے وہ زمانہ بھی کیا زمانا تھا یہ زمانہ بھی کیا زمانا ہے جیسے چاہیں سجا کے پیش کریں آپ ہیں اور غریب خانہ ہے کیا عجب شرط ہے محبت کی وقت رخصت بھی مسکرانا ہے میں ہوں بیمار تم چلے آؤ اب یہی آخری بہانا ہے اور کچھ دن خراب کر لو یہیں پھر تمہیں لوٹ کر بھی آنا ہے یاد کرنا ہے ایک پل تم کو اور پھر دیر تک بھلانا ہے ہاں تعلق ہمیں نے توڑ دیا اب سبھی کو یہی بتانا ہے
zindagi bhar kaa ronaa gaanaa hai
ایک دنیا حسین چاہتے ہیں سانپ اب آستین چاہتے ہیں رخصتی کے لئے نہیں اٹھتے ہاتھ آرا مشین چاہتے ہیں چھو نہیں سکتے آسماں سے تجھے چاند تارے زمین چاہتے ہیں تم جدا ہو کے لوٹ آؤ گے ہم یہی تو یقین چاہتے ہیں میری خواہش تو صرف آپ ہی ہیں آپ کیا بہترین چاہتے ہیں
ek duniyaa hasin chaahte hain
تعلق ٹوٹنے کا غم اٹھانا بھی ضروری تھا ضروری تم بھی تھے لیکن زمانہ بھی ضروری تھا تیری آنکھوں کی بے چینی مری زنجیر تھی لیکن کھڑی تھی ریل گاڑی اور جانا بھی ضروری تھا محبت کا بدل کچھ بھی اگر ہے تو محبت ہے گئے تھے جس طرح ویسے ہی آنا بھی ضروری تھا اگر میں فرض تھا تو پھر نبھایا کیوں نہیں تم نے اگر میں قرض تھا تو پھر چکانا بھی ضروری تھا میں کب تک راز رکھتا دل میں اپنی بے وفائی کا یہ بات آ کر تمہیں اک دن بتانا بھی ضروری تھا فضا میں اس طرح اڑتا رہے گا مستقل کب تک پرندے کے لئے اک آشیانا بھی ضروری تھا
taalluq TuTne kaa gham uThaanaa bhi zaruri thaa
اس طرح میں اسے بھلاتا ہوں پتھروں پر لکھا مٹاتا ہوں تاکہ اس زندگی کو ڈر نہ لگے موت کے فائدے گناتا ہوں روز مرتا ہوں اپنے اندر میں روز اک لاش میں اٹھاتا ہوں درد میں کچھ کمی سی لگتی ہے زخم پر زخم جب لگاتا ہوں سانس جاتی ہے لے کے دور مجھے سانس آتی ہے لوٹ آتا ہوں وصل کا تجربہ نہیں ہے مجھے ہجر کی شاعری سناتا ہوں رقص کرتی ہیں گمشدہ یادیں آج سب آئنہ بجھاتا ہوں جانتا ہوں کہ در کھلیں گے نہیں بے سبب چابیاں گھماتا ہوں پہلے کرتا ہوں خود اسے ناراض اور پھر دیر تک مناتا ہوں دھڑکنوں شور کم کرو کچھ دیر میں بس ان کو بلا کے لاتا ہوں
is tarah main use bhulaataa huun





