"siikh le ham se koi zabt-e-junun ke andaz barson paband rahe par na hila.i zanjir"
Karamat Ali Shaheedi
Karamat Ali Shaheedi
Karamat Ali Shaheedi
Sherشعر
siikh le ham se koi zabt-e-junun ke andaz
سیکھ لے ہم سے کوئی ضبط جنوں کے انداز برسوں پابند رہے پر نہ ہلائی زنجیر
ayyam musibat ke to kaaTe nahin kaTte
ایام مصیبت کے تو کاٹے نہیں کٹتے دن عیش کے گھڑیوں میں گزر جاتے ہیں کیسے
ji chahega jis ko use chaha na karenge
جی چاہے گا جس کو اسے چاہا نہ کریں گے ہم عشق و ہوس کو کبھی یکجا نہ کریں گے
Popular Sher & Shayari
6 total"ayyam musibat ke to kaaTe nahin kaTte din aish ke ghaDiyon men guzar jaate hain kaise"
"ji chahega jis ko use chaha na karenge ham ishq o havas ko kabhi yakja na karenge"
siikh le ham se koi zabt-e-junun ke andaaz
barson paaband rahe par na hilaai zanjir
ayyaam musibat ke to kaaTe nahin kaTte
din aish ke ghaDiyon mein guzar jaate hain kaise
ji chaahegaa jis ko use chaahaa na kareinge
ham ishq o havas ko kabhi yakjaa na kareinge
Ghazalغزل
dar-parda sitam ham pe vo kar jaate hain kaise
در پردہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں کیسے گر کیجے گلا صاف مکر جاتے ہیں کیسے آنے میں تو سو طرح کی صحبت تھی شب وصل دیکھیں گے پر اب اٹھ کے سحر جاتے ہیں کیسے رنجش کا مری پاس نہیں آپ کو مطلق برہم تجھے ہم دیکھ کے ڈر جاتے ہیں کیسے غصے میں نیا رنگ نکالے ہیں پری رو جوں جوں یہ بگڑتے ہیں سنور جاتے ہیں کیسے اس صاحب عصمت کو یہی سوچ ہے ہر صبح بے وجہ مرے بال بکھر جاتے ہیں کیسے ایام مصیبت کے تو کاٹے نہیں کٹتے دن عیش کے گھڑیوں میں گزر جاتے ہیں کیسے وہ وقت تو آنے دے بتا دیں گے شہیدیؔ بن آئے کسی شخص پہ مر جاتے ہیں کیسے
saamne mere na ghairon se milaataa aankhein
سامنے میرے نہ غیروں سے ملاتا آنکھیں کچھ بھی اس شوخ کے ہوتی جو حیا آنکھوں میں خون اگر روؤں کہوں پائے نگاریں کس کے ملے آنکھوں سے کہ ہے رنگ حنا آنکھوں میں ایک شب دیکھ کے اس رشک پری کو رقاص آج تک پھرتی ہے وہ جنبش پا آنکھوں میں رشک گلنار مری آنکھوں کو رکھتا ہے مدام بسکہ اک شاہد گل رنگ قبا آنکھوں میں آئنہ دیکھ کے مشاطہ سے کہتا ہے وہ شوخ چشم بد دور غضب سرمہ گھلا آنکھوں میں کیا ملاحت رخ جاناں میں ہے اللہ اللہ آ گیا جس کے تصور سے مزا آنکھوں میں ہم نے دیکھی ہے تری آنکھوں کے ڈوروں کی بہار کیا رگ گل کو ہے یاں نشو و نما آنکھوں میں مردم دیدہ کو ہے خلعت زر کی خواہش جلوہ فرما ہو تو اے مہر لقا آنکھوں میں سات پردے میں اگر رہنے سے ہے شوق تجھے یہ بھی اک منظر پاکیزہ ہے آ آنکھوں میں دل خوں کشتہ مرا مجھ کو نہایت ہے عزیز سینہ جب چاک ہوا ہے اسی جا آنکھوں میں حق نے اس واسطے آنکھوں میں بنائے پردے جوش گریہ میں تو لے اشک چھپا آنکھوں میں ایک عشوہ میں کیا اس نے شہیدیؔ کو شہید خنجر و تیغ ہی بھر رکھے تھے کیا آنکھوں میں
mohabbat qata ki tum ne vo koson uD gayaa tum se
محبت قطع کی تم نے وہ کوسوں اڑ گیا تم سے دل اپنا رشتۂ الفت کا تھا اے گل رخاں باندھا ابھی جوہر کروں گا اپنا ورنہ سچ بتا مجھ کو تری تیغ نگہ نے مشورہ کیا میری جاں باندھا غریق بحر ہشیاری کو ہر دم فکر ساماں ہو کبھی یاں کشتیٔ مے پر نہ ہم نے بادباں باندھا عداوت نیم جاں مجنوں سے کیا ہے تجھ کو اے ظالم مغیلاں میں جو خالی ناقہ لا کر ساریاں باندھا کیا ہجراں کی شب میں کوہ غم نے مجھ کو چور ایسا کہ جراحوں نے صبح آ کر مرا ہر استخواں باندھا بنا تھا پنجۂ جراح رشک پنجۂ مرجاں ترے زخمی کا جس دم اس نے زخم خوں چکاں باندھا مرا ہر مصرعۂ دیواں ہے اک شاخ شکر گویا لب شیریں کا مضموں میں نے اے شیریں زباں باندھا زمان نزع دیکھا اک نظر حور بہشتی کو یہ بہتان اپنے عاشق پر عبث اے بد گماں باندھا کوئی اے حاملان عرش تم سے داد لیتا ہوں ستون اک اب مرے نالوں نے سوئے لامکاں باندھا شہید اس قدردانی کا ہوں ٹکڑے کر کے عاشق کو لحد پر نخل ماتم یار نے بہر نشاں باندھا مجھے اک عمر سے تھا موتیوں کے سہرے کا ارمان شب فرقت میں تو نے دیدۂ گوہر فشاں باندھا رسائی ایک تیرے بام تک اس کو نہیں ظالم کمند آہ میں سو بار میں نے آسماں باندھا وہ گنج ذات کیا کچھ ہوگا یارب میں تو حیراں ہوں حفاظت کے لیے جس پر طلسم دو جہاں باندھا شہیدیؔ کثرت عصیاں سے مجھ کو خوف آتا ہے سفر ہے دور کا اور دوش پر بار گراں باندھا
ishq mein kamtar hanse aur beshtar royaa kiye
عشق میں کمتر ہنسے اور بیشتر رویا کیے ایک شب کا لطف برسوں یاد کر رویا کیے تار رونے کا نہ ٹوٹا اپنے ماتم خانہ میں مر گئے جب ہم ہمارے نوحہ گر رویا کیے رونے والوں پر تھا واجب عاشق گریاں کا عرس ہر برس ابر آ کے میری خاک پر رویا کیے ذوق ہے رونے سے یاں تک وصل کی شب میں بھی ہم یار کے پاؤں پہ رکھ کر اپنا سر رویا کیے طور یہ بگڑا ہے اس کی بزم کا اک دم کو ہم واں گئے تھے آ کے پہروں اپنے گھر رویا کیے خلق کو پردہ نشیں کے عشق کا شبہہ ہوا آنکھ پر اکثر جو ہم رومال دھر رویا کیے اپنے رونے پر جو رحم آیا اسے ہم اور بھی اس کے دکھلانے کو مل مل چشم تر رویا کیے عشق میں تاثیر گر رکھتا ہے کچھ ابر سفید ہم عبث خون دل و لخت جگر رویا کیے ان کے دیوانوں کو بھی کیا ضبط ہے اوقات کا دو پہر ہنستے رہے گر دو پہر رویا کیے رونے میں کل رات غفلت اس قدر طاری ہوئی یار آ کر پھر گیا ہم بے خبر رویا کیے کچھ ہمیں گریاں نہیں ہیں دوریٔ احباب سے حشر تک اس غم میں سب جن و بشر رویا کیے دل کے جانے کا شہیدیؔ حادثہ ایسا نہیں کچھ نہ روئے آہ اگر ہم عمر بھر رویا کیے
kyaa vaqt-e-sahar hausla baaqi ho duaa kaa
کیا وقت سحر حوصلہ باقی ہو دعا کا جب کر کے دعا دیکھتے ہوں روئے سحر ہم تو چاند سے بہتر ہے کہ رونق ترے منہ پر پاتے ہیں فزوں شام سے بھی وقت سحر ہم بن ٹھن کے ہو وہ رشک پری سامنے جس دم کیوں غش ہمیں آ جائے نہ آخر ہیں بشر ہم دربانوں کی شفقت سے رہائی نہیں ہوتی برسوں میں کسی دن اسے پاتے ہیں اگر ہم ہر وضع کے انساں سے ملاقات ہے ان کو سب خلق مدارات کے قابل ہے مگر ہم جاتے کدھر آتش کدۂ عشق سے اڑ کر مانند سمندر کے اگر رکھتے بھی پر ہم اب چین سے سونا تہ افلاک ہمیشہ اے اہل زمیں مژدہ ہو تم کو گئے مر ہم دیکھے ہیں مگر بکھرے ہوئے بال کسی کے کچھ آج شہیدیؔ کا عجب حال ہے درہم
umr-bhar ishq ke aazaar ne sone na diyaa
عمر بھر عشق کے آزار نے سونے نہ دیا ہائے ہائے دل بیمار نے سونے نہ دیا خواب میں شکل دکھاتا وہ مقرر مجھ کو شوق کے طالع بیدار نے سونے نہ دیا عیش کی شب بھی مرے بخت کو آ جاتی نیند اس کی پازیب کی جھنکار نے سونے نہ دیا میرے مرقد پہ کہا کس نے قیامت ہے قریب یاد آ کر تری رفتار نے سونے نہ دیا رت جگے ہوتے رہے ہیں کہ بڑھے غم کی عمر ایک شب درد دل زار نے سونے نہ دیا میں نے سونے نہ دیا شام سے اس کو شب وصل صبح تک ضد سے مجھے یار نے سونے نہ دیا نیش غم نے رگ مژگاں سے نکالا یہ لہو مجھ کو راتوں مرے غم خوار نے سونے نہ دیا مے کشو سرخ ہیں آنکھیں جو تمہاری شاید شب تمہیں ساقیٔ سرشار نے سونے نہ دیا خوف تھا اس کو شہیدیؔ تری بد مستی کا شب جو ہم بزموں کو عیار نے سونے نہ دیا





