SHAWORDS
Khaqan Khavar

Khaqan Khavar

Khaqan Khavar

Khaqan Khavar

poet
5Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

یوں ہراساں ہیں مسافر بستیوں کے درمیاں ہو گئی ہو شام جیسے جنگلوں کے درمیاں زندگی سے اب یہی دو چار پل کا ساتھ ہے پانیوں سے آ گیا ہوں دلدلوں کے درمیاں چار جانب پھیلتے ہی جا رہے ہیں ریگزار تشنگی ہی تشنگی ہے خواہشوں کے درمیاں دیکھتے ہی دیکھتے آپس میں دشمن ہو گئے خون کا دریا رواں ہے بھائیوں کے درمیاں اب تو اس کی زد میں ہے سارا نگر آیا ہوا وہ بھی دن تھے سیل تھا جب ساحلوں کے درمیاں ادھ کھلی آنکھیں ہیں خاورؔ اور سانسوں کا عذاب لاش کی صورت پڑا ہوں کرگسوں کے درمیاں

yuun hiraasaan hain musaafir bastiyon ke darmiyaan

غزل · Ghazal

بار بار ایک ہی نظارہ نہ دکھلایا کر بات دل کش بھی اگر ہو تو نہ دہرایا کر لوگ گر جاتے ہیں مٹی کے گھروندوں کی طرح اس طرح بارش دیدار نہ برسایا کر پیڑ کا سایا نہیں ٹوٹا ہوا پتہ ہوں مجھ کو جذبات کے دریا میں نہ ٹھہرایا کر ٹوٹ جائے نہ کسی روز ترا شیش محل یوں سر راہ نہ دیوانوں کو سمجھایا کر میرے احساس کو اک پھول بہت ہے خاورؔ میرے احساس پہ یوں سنگ نہ برسایا کر

baar baar ek hi nazzaara na dikhlaayaa kar

غزل · Ghazal

ترے ستم کی زمانہ دہائی دیتا ہے کبھی یہ شور تجھے بھی سنائی دیتا ہے شجر سے ٹوٹنے والے ہر ایک پتے میں ترے بچھڑنے کا منظر دکھائی دیتا ہے جو دل میں بات ہو کھلتی نہیں کسی پہ مگر کہے جو آنکھ وہ سب کو سنائی دیتا ہے میں اختیار تمہیں اپنا سونپ دوں کیسے کبھی خدا بھی کسی کو خدائی دیتا ہے اداس رات کے آنگن میں ڈوبتا سایہ بچھڑنے والے کا پیکر دکھائی دیتا ہے خزاں مزاج ہے وہ چھوڑ دو اسے خاورؔ وہ موسموں کے سفر میں جدائی دیتا ہے

tire sitam ki zamaana duhaai detaa hai

غزل · Ghazal

ہر ایک لمحہ ہے مجھ پہ طاری خیال تیرا میں اک پرندہ محیط جس پر ہے جال تیرا بچھڑ کے کنج اپنی ڈار سے بین کر رہی ہے جدا ہے تو ہم سے جانے کیا ہوگا حال تیرا یہ ایک ٹہنی ہے میرا مسکن نہ چھین مجھ سے ہوائے سرکش جنوب تیرا شمال تیرا جو سبز پتے تھے ڈھال تیری وہ جھڑ گئے ہیں صلیب شاخوں پہ جھولتا ہے زوال تیرا لہو کی کرنوں سے شب کو چھلنی کیا ہے تو نے رہے گا سورج کی طرح روشن کمال تیرا

har ek lamha hai mujh pe taari khayaal teraa

غزل · Ghazal

وہ سنور سکتا ہے معقول بھی ہو سکتا ہے میرا اندازہ مری بھول بھی ہو سکتا ہے اب پس ابر ہے جب ابر سے باہر نکلا وہ چمک سکتا ہے مقبول بھی ہو سکتا ہے دور سے دیکھا ہے نزدیک سے بھی دیکھوں گا پھول سا لگتا ہے جو پھول بھی ہو سکتا ہے آج کی شب بھی ستاروں نے اگر ساتھ دیا دل جو بے کار ہے مشغول بھی ہو سکتا ہے کیوں سمجھتا ہوں کہ آتا ہے وہ میری خاطر سیر اس شخص کا معمول بھی ہو سکتا ہے تخت تبدیل بھی ہو سکتا ہے تختے میں کبھی اپنے عہدے سے وہ معزول بھی ہو سکتا ہے جانتا کون تھا خاورؔ وہ درخشاں تارا گر کے آنکھوں سے کبھی دھول بھی ہو سکتا ہے

vo sanvar saktaa hai maaqul bhi ho saktaa hai

غزل · Ghazal

شاخ سے پتے پرندے آشیاں سے جا چکے کیسی رت ہے سب مکیں اپنے مکاں سے جا چکے میں خلاؤں میں بھٹکنے کو اکیلا رہ گیا میرے ساتھی چاند تارے آسماں پر جا چکے خشک پتے اڑتے پھرتے ہیں یہاں اب جا بہ جا رنگ و نکہت کے مسافر گلستاں تک جا چکے تیرے قابو میں تھے جب تیرے تھے اب تیرے نہیں اڑ کے اب الفاظ کے پنچھی زباں سے جا چکے کہہ رہے ہیں درد میں ڈوبے ہوئے دیوار و در ڈھونڈتے پھرتے ہو جن کو تم یہاں سے جا چکے زندگی میں دیکھنے تھے یہ بھی دن خاورؔ ہمیں جو کبھی بچھڑے نہ تھے وہم و گماں سے جا چکے

shaakh se patte parinde aashiyaan se jaa chuke

Similar Poets