azaab-e-zindagi aakhir azaab-e-aakhirat niklaa
hazaaron baar mar-mar ke yahaan jiinaa paDaa mujh ko

Khizr Nagpuri
Khizr Nagpuri
Khizr Nagpuri
Popular Shayari
3 totalna rakhnaa thaa kahin kaa bhi na rakkhaa zauq-e-hasti ne
tamaashaa karnaa thaa aakhir tamaashaa kar diyaa mujh ko
kiyaa ishq-e-majaazi ne haqiqat aashnaa mujh ko
buton ne zulm vo Dhaayaa ki yaad aaya khudaa mujh ko
Ghazalغزل
کم بھی تھے اگر فن کے خریدار بہت تھے بکنے پر اتر آتے تو بازار بہت تھے پھر بھی نہ کھلی آنکھ تو کیا کیجئے ورنہ احباب کے جھٹکے ہمیں دو چار بہت تھے دن نکلا بہتر کے سوا کوئی نہیں تھا کل رات تو سر دینے کو تیار بہت تھے لگنے نہ دیا جوہر ذاتی کو کبھی زنگ ٹوٹے ہوئے آئینے تھے خوددار بہت تھے اک حوصلہ تھا جس نے رکھا ہم کو سلامت حالات وہاں ورنہ دل آزار بہت تھے کردار کا شہکار وہاں کوئی نہیں تھا محفل میں تری غازیٔ گفتار بہت تھے اے خضرؔ کہاں غالبؔ و ناطقؔ کہاں ہم تم دریا تھے وہ ایسے جو گہر بار بہت تھے
kam bhi the agar fan ke kharidaar bahut the
دل نشیں ہے نقش تیری شوخیٔ تحریر کا مٹنا تو انجام ہے ہر پیکر تصویر کا زور وحشت ہو گیا رسوا سر صحرائے شوق ہنس رہا ہے مجھ پہ ہر حلقہ مری زنجیر کا دیکھ کر مجھ کو مقابل دیکھ کر اپنا حریف دیکھ لے وہ اڑ گیا پانی تری شمشیر کا ہر شکن بستر کی ہے آئینہ دار کیفیت رات بھر جھگڑا رہا تقدیر سے تدبیر کا اپنی بربادی پہ خوش ہونے کا کچھ سامان کر کوئی پہلو ڈھونڈ لے تخریب میں تعمیر کا یاد آئے گا خدا اس کو مرے مرنے کے بعد میں تو ایماں لے کے ڈوبوں گا بت بے پیر کا شاعری طرز سخن میں خضرؔ کچھ آساں نہیں شعر کہہ لینا بھی تو لانا ہے جوئے شیر کا
dil-nashin hai naqsh teri shokhi-e-tahrir kaa
سینوں میں انا الحق کی چبھن دیکھ رہا ہوں اک سلسلۂ دار و رسن دیکھ رہا ہوں پھر آئی نہ ہو شامت اعمال کسی کی پھر وقت کے ماتھے پہ شکن دیکھ رہا ہوں تھوڑی سی بھی دنیا میں شرافت نہیں باقی مدت سے زمانے کا چلن دیکھ رہا ہوں رہنے دو یہ سب جھوٹی محبت کے تماشے کس کو ہے یہاں کس کی لگن دیکھ رہا ہوں پردا نہیں دنیا میں کسی کو بھی کسی کی ہر شخص کو اپنے ہی مگن دیکھ رہا ہوں اک آگ لگا دی مری رنگینیٔ دل نے میں داغ محبت کی جلن دیکھ رہا ہوں تقریر کے انداز تمہیں خضرؔ مبارک کس سمت کو ہے روئے سخن دیکھ رہا ہوں
sinon mein anal-haq ki chubhan dekh rahaa huun
نہیں ہے کوئی چمن قلب داغ دار کے بعد یہاں خزاں نہیں آتی کبھی بہار کے بعد بہار پر تھا چمن تھا چمن میں جوش بہار بہار کے یہ کرشمے تھے اور بہار کے بعد سکوں بدوش گھڑی دو ہی گزری ہیں مجھ پر اک انتظار سے پہلے اک انتظار کے بعد ستا لے رندوں کو واعظ ستا لے جی بھر کے رہے گا تو نہ کہیں کا خدا کی مار کے بعد کچھ اور جوش میں لاتا ہے اس کی رحمت کو گناہ گار کا آنا گناہ گار کے بعد لطافتوں نے بھی زخموں پہ میرے چھڑکا نمک بتایا رنگ ہر اک گل نے مجھ کو خار کے بعد چھپائے بیٹھے تھے رسوائیوں میں راز خودی ہم آئے سامنے خضرؔ امتحان دار کے بعد
nahin hai koi chaman qalb-e-daagh-daar ke baad
عشرت کی حقیقت کیا ہستی کی مصیبت کیا میرے لئے دنیا میں اب رنج کیا راحت کیا اف وسعت صحرائے ہستی کی یہ کوتاہی سب قیدئ زنداں ہیں میں کیا مری وحشت کیا روؤں تو سکوں پائے تڑپوں تو مزا آئے پائی ہے مقدر سے ظالم نے طبیعت کیا کس حال میں ہونا تھا کس حال کو جا پہنچی ہے جنس وفا تیری بازار میں قیمت کیا جب خود کو مٹا ڈالا گھر بار لٹا ڈالا جب جا کے یہ جانا ہے ہوتی ہے مروت کیا آنکھوں سے ٹپک جائے یا خاک میں مل جائے دل کیوں رہے سینے میں اب اس کی ضرورت کیا اے خضرؔ دھڑکتا ہے دل کیوں مرا رہ رہ کر حیراں ہوں بتاؤں بھی اس بات کی بابت کیا
ishrat ki haqiqat kyaa hasti ki musibat kyaa
دل جو بیٹھا تو اضطراب اٹھا بزم جاناں اب انقلاب اٹھا آج واعظ سے بات کرنی ہے ساقیا چل ذرا شراب اٹھا قابلیت کا رعب ڈالنے کو کوئی موٹی سی اک کتاب اٹھا راہ چلتے پڑے بھی ملتے ہیں کھلی آنکھوں سے کوئی خواب اٹھا رنج اٹھانے کی ان سے ٹھہری تھی یہ کہاں سے دل خراب اٹھا کیا چراغوں کو لے کے بیٹھا ہے آ مرے ساتھ آفتاب اٹھا خضرؔ مے نوش میکدہ میں جھوٹ چل قسم کھا اٹھا شراب اٹھا
dil jo baiThaa to iztiraab uThaa





