"gulshan se koi phuul mayassar na jab hua titli ne rakhi bandh di kanTe ki nok par"

Lucky Farooqi Hasrat
Lucky farooqi Hasrat
Lucky farooqi Hasrat
Sherشعر
gulshan se koi phuul mayassar na jab hua
گلشن سے کوئی پھول میسر نہ جب ہوا تتلی نے راکھی باندھ دی کانٹے کی نوک پر
mere allah mujhe aise khayalon se navaz
میرے اللہ مجھے ایسے خیالوں سے نواز وہ جنہیں میر تقی میرؔ نہیں سوچ سکا
dayar-e-mir-taqi-'mir' ko salam karo
دیار میر تقی میرؔ کو سلام کرو یہاں خدائے سخن گاہ گاہ بیٹھتے ہیں
Popular Sher & Shayari
6 total"mere allah mujhe aise khayalon se navaz vo jinhen mir-taqi-'mir' nahin soch saka"
"dayar-e-mir-taqi-'mir' ko salam karo yahan khuda-e-sukhan gaah gaah baiThte hain"
mere allaah mujhe aise khayaalon se navaaz
vo jinhein mir-taqi-'mir' nahin soch sakaa
gulshan se koi phuul mayassar na jab huaa
titli ne raakhi baandh di kaanTe ki nok par
dayaar-e-mir-taqi-'mir' ko salaam karo
yahaan khudaa-e-sukhan gaah gaah baiThte hain
Ghazalغزل
du'aa ki narm panaahon mein jaa ke leT gayaa
دعا کی نرم پناہوں میں جا کے لیٹ گیا میں بھیک مانگتے شاہوں میں جا کے لیٹ گیا گزشتہ رات زمانے کی آنکھ لگتے ہی میں ایک چاند کی باہوں میں جا کے لیٹ گیا ہر اک زبان پہ غیبت کے پھنسی پھوڑے تھے سو کار خیر گناہوں میں جا کے لیٹ گیا کسی بھی زخم نے بیعت نہ کی شہادت سے مرا جہاد کراہوں میں جا کے لیٹ گیا کچھ ایسے جھوٹ کو پہنایا اس نے سچ کا لباس یقین وہم کی باہوں میں جا کے لیٹ گیا
taasir-e-mukhtalif ki ravaani se jal gae
تاثیر مختلف کی روانی سے جل گئے سورج کے ہونٹھ برف کے پانی سے جل گئے لفظوں کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے خیال کاغذ پہ آ کے سوز معانی سے جل گئے اب صبح شام کیجیے پانی کی پٹیاں صحرا ہماری تشنہ دہانی سے جل گئے اس شعر کے تھا مصرع اول میں ذکر آب نقاد جس کے مصرع ثانی سے جل گئے کچھ لوگ خاک ہو گئے ہجرت کی آگ سے کچھ لوگ شوق نقل مکانی سے جل گئے آواز کے درخت کا معیار کیا گرا ہونٹوں کے پھول تلخ بیانی سے جل گئے
markaz-e-nur pe kaajal kaa andheraa kar le
مرکز نور پہ کاجل کا اندھیرا کر لے اپنی پلکوں کو ذرا اور گھنیرا کر لے یہ زمیں چاند کی رعنائی سے ناواقف ہے دل کے آنگن میں کبھی پاؤں کا پھیرا کر لے ہم الگ طرح کی رکھتے ہیں توقع تجھ سے اپنی زلفوں کو بکھیر اور سویرا کر لے میں تری باہیں جھٹک کر نہ چلا جاؤں کہیں اور مضبوط اس آغوش کا گھیرا کر لے میرے سینے میں کوئی شمع ہوس روشن ہے اس اجالے کے توسل سے اندھیرا کر لے موم کی ان چھوئی چڑیا کو یہی خوف ہے بس برف کے پیڑ پہ سورج نہ بسیرا کر لے
joban ki garm shawl se aage na baDh saki
جوبن کی گرم شال سے آگے نہ بڑھ سکی خواہش ترے وصال سے آگے نہ بڑھ سکی مصرعے اگرچہ کرتے رہے ذہن کا طواف لیکن غزل خیال سے آگے نہ بڑھ سکی جب جب مباحثے ہوئے حسن و جمال پر دنیا تری مثال سے آگے نہ بڑھ سکی کی کوششیں تو لاکھ مگر آنسوؤں کی فوج کاٹن کے اک رومال سے آگے نہ بڑھ سکی کچھ میں بھی کر سکا نہ محبت کا اعتراف کچھ وہ بھی بول چال سے آگے نہ بڑھ سکی حالانکہ پھول اور بھی گلشن میں تھے مگر تتلی تمہارے گال سے آگے نہ بڑھ سکی
na qumqume na sitaare na sang chaahti hai
نہ قمقمے نہ ستارے نہ سنگ چاہتی ہے غزل کی مانگ تخیل کا رنگ چاہتی ہے ہیں اندھی قبر کی گمنامیاں تعاقب میں مگر یہ خاک بدن نام و ننگ چاہتی ہے کسی فقیر کا حجرہ ہے زندگی شاید یہ قاعدہ نہ سلیقہ نہ ڈھنگ چاہتی ہے بنام امن بنائی گئی تھی یہ دنیا مگر یہ خلق خدا صرف جنگ چاہتی ہے محققین کا کیا کام اس خرابے میں کھنڈر میں اونگھتی وحشت ملنگ چاہتی ہے
sone chaandi ke taar silte hain
سونے چاندی کے تار سلتے ہیں ان کے جوتے سنار سلتے ہیں جرم کے تار تار دامن کو منصف با وقار سلتے ہیں اپنے مہمان کے لئے غنچے تیری خوشبو سے ہار سلتے ہیں شہر غربت کے نامور درزی میرے کپڑے ادھار سلتے ہیں میرے دشمن کی آہنی پوشاک میرے دیرینہ یار سلتے ہیں گھوس کی سوئی سے کئی افسر مرسڈیز اور تھار سلتے ہیں فکر کی ذو الفقار سے حسرتؔ ہم غزل کا وقار سلتے ہیں





