"hamari sada-dili ham ne de diya khanjar unhon ne zikr kiya tha ki azmana hai"

Mahwar Sirsivi
Mahwar Sirsivi
Mahwar Sirsivi
Sherشعر
See all 44 →hamari sada-dili ham ne de diya khanjar
ہماری سادہ دلی ہم نے دے دیا خنجر انہوں نے ذکر کیا تھا کہ آزمانا ہے
ek muddat se niind taari hai
ایک مدت سے نیند طاری ہے ایک مدت سے سو نہیں پائے
taan li ankhon ne chadar niind ki
تان لی آنکھوں نے چادر نیند کی آپ کا دیدار کرنے کے لیے
nafraton ka ilaaj karna hai
نفرتوں کا علاج کرنا ہے کچھ محبت عطا کرو جاناں
ku-e-janan se apni sanson par
کوئے جاناں سے اپنی سانسوں پر دل کی میت اٹھا کے لے آئے
ye sada aa rahi hai qabron se
یہ صدا آ رہی ہے قبروں سے عشق قاتل ہے ہم غریبوں کا
Popular Sher & Shayari
88 total"ek muddat se niind taari hai ek muddat se so nahin paa.e"
"taan li ankhon ne chadar niind ki aap ka didar karne ke liye"
"nafraton ka ilaaj karna hai kuchh mohabbat ata karo janan"
"ku-e-janan se apni sanson par dil ki mayyat uTha ke le aa.e"
"ye sada aa rahi hai qabron se 'ishq qatil hai ham gharibon ka"
zavaal ye hai ki ham zindagi se haar gae
kamaal ye hai ki ham zindagi guzaar gae
apne haathon ko chumtaa hogaa
teri zulfein sanvaarne vaalaa
firaaq-e-yaar ke dukhDe sunaaeinge kab tak
ki saama'in bhi mauzu' jadid chaahte hain
nafraton kaa ilaaj karnaa hai
kuchh mohabbat ataa karo jaanaan
ik haath mein mere chaae kaa cup ik haath mein mere haath tiraa
haathon ko talab hai haathon ki aur dil ko talab hai saath tiraa
ek muddat se niind taari hai
ek muddat se so nahin paae
Ghazalغزل
fikr ke dhaage mein lafzon ko piro dene ke baad
فکر کے دھاگے میں لفظوں کو پرو دینے کے بعد میں وہ شاعر ہوں جو ہنس دیتا ہے رو دینے کے بعد حوصلہ تو دیکھیے آئے عیادت کے لیے یار میری پشت میں خنجر چبھو دینے کے بعد یاں نہیں تو واں کھلے گا راز میرے قتل کا بچ نہیں سکتے لہو کے داغ دھو دینے کے بعد چھوڑنے والے تجھے معلوم ہونا چاہیے قیمتی شے ڈھونڈنے نکلے گا کھو دینے کے بعد ذات کے سید ہیں اپنی بات کے پکے ہیں ہم دل تو کیا کچھ بھی نہیں لیتے سنو دینے کے بعد ہم محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں ہر طرف نفرتوں کے بیج زیر قلب بو دینے کے بعد
rasta bhaTak na jaaein tire naqsh-e-paa se ham
رستہ بھٹک نہ جائیں ترے نقش پا سے ہم ہم سے جدا خدا ہو جدا ہوں خدا سے ہم دست دعا بلند ہیں سوئے فلک مگر واقف نہیں ہیں آج بھی حرف دعا سے ہم ہم ہیں مریض عشق ہمیں یار چاہیے اچھے نہ ہو سکیں گے طبیبو دوا سے ہم جھک کر سلام کرتے ہیں پردا نشین کو کرتے نہیں کلام کسی بے ردا سے ہم سہ روز بھوک پیاس میں ثابت قدم رہے ہو کر شہید ہارے نہ جور و جفا سے ہم گوندھا گیا تراب کو آتش کے چاک پر آئے حقیقی شکل میں آب و ہوا سے ہم چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے یزیدیت تنہا کھڑے ہیں رن میں فقط کربلا سے ہم نظریں ملا نہ پائے گی ہم سے کوئی خوشی اتنا قریب ہو گئے آہ و بکا سے ہم ساقی سے پوچھیے گا ہماری حقیقتیں دکھتے ہیں صرف ہیں نہیں صوفی نما سے ہم بچپن سے پڑھ رہے ہیں انیسؔ و دبیرؔ کو محورؔ سخن شناس رہے ابتدا سے ہم
aankh paD jaae agar paikar-e-raanaai par
آنکھ پڑ جائے اگر پیکر رعنائی پر اک قیامت سی گزر جائے گی بینائی پر میرا دعویٰ ہے مرا زخم نہیں بھر سکتا شہر کے شہر اتر آئیں مسیحائی پر چاک کرتی ہے ندامت کی انی سینے کو غیظ میں ہاتھ اٹھایا تھا بڑے بھائی پر پتلیاں کر نہ سکیں جسم طواف جاناں دل فدا ہو بھی گیا زلف کی انگڑائی پر آپ اک ریت کا انبار نظر آئیں گے گر مہارت ہی نہیں قوت گویائی پر ایک دیوان کے سانچے میں تجھے ڈھالوں گا ایک دیوان لکھوں گا ترے شیدائی پر عصر عاشور اک آواز اٹھی مقتل سے تبصرہ لوگ کریں گے مری تنہائی پر میں کوئی یوسف کنعان نہیں محورؔ ہوں ہوش میں آؤ نہ کٹ جائیں زلیخائی پر
junun ke shahr se guzar nahin huaa to kyaa huaa
جنوں کے شہر سے گزر نہیں ہوا تو کیا ہوا اگر یہ معرکہ بھی سر نہیں ہوا تو کیا ہوا یہ سوچ کر گزار دیں گے چار دن کی زندگی کوئی ہمارا ہم سفر نہیں ہوا تو کیا ہوا شب وصال کے ہمارے جسم پر نشان ہیں ہمارا عشق معتبر نہیں ہوا تو کیا ہوا مرے کسی رقیب کی دعا قبول ہو گئی نصیب کوئے یار گر نہیں ہوا تو کیا ہوا ہوا نے کیوں بنا لیا ہے فاصلہ چراغ سے جواب دو یہ خوف و ڈر نہیں ہوا تو کیا ہوا وہ بے پنہ حسین ہے سو میں فقط حسین ہوں حسین ہوں حسین تر نہیں ہوا تو کیا ہوا یہاں پہ صبر کیجئے یہ کارزار عشق ہے جو چاہتے تھے وہ اگر نہیں ہوا تو کیا ہوا یہ شہر ہے یہاں کے لوگ کب وفا پرست ہیں وفا کا ذکر رات بھر نہیں ہوا تو کیا ہوا ہر ایک شے پلٹ رہی ہے اپنی اصل کی طرف اگر میں آخری بشر نہیں ہوا تو کیا ہوا ہمارا مسئلہ ہے ہم خدا سے کیوں گلہ کریں وہ محور دل و نظر نہیں ہوا تو کیا ہوا
charaagh dosh-e-havaa pe raushan khaDe hue the
چراغ دوش ہوا پہ روشن کھڑے ہوئے تھے کمال یہ ہے قضا کے سر پر چڑھے ہوئے تھے فلک کے دامن پہ جو ستارے چمک رہے ہیں ہماری چوکھٹ پہ سر بہ سجدہ پڑے ہوئے تھے نئے شجر کھلکھلا رہے تھے خزاں کی رت میں قدیمی پیڑوں کے تازہ پتے جھڑے ہوئے تھے کسی کی غربت کا نور رخ سے چھلک رہا تھا کسی کی بالی میں ہیرے موتی جڑے ہوئے تھے وہاں پہ صبر و رضا نے خیمے لگائے اپنے جہاں پہ ظلم و ستم کے پرچم گڑے ہوئے تھے ہمارے زخموں سے مکھیوں نے مزے اٹھائے کچھ عہد ماضی کے گھاؤ اب تک سڑے ہوئے تھے مہاجروں کو پتا ہے اپنے وطن کی قیمت یہ وہ پرندے ہیں جو یہاں پر بڑے ہوئے تھے اسی نے پہلا قدم بغاوت کی سمت رکھا وہ جس کی الفت کے تیر دل میں گڑے ہوئے تھے اجل سے ملنے کی آرزو میں جناب محورؔ شراب خانے میں زندگی سے لڑے ہوئے تھے
vo zakhm mile ruuh ko patthar ke sanam se
وہ زخم ملے روح کو پتھر کے صنم سے کرتے ہیں شب و روز وضو دیدۂ نم سے افسوس جوانی میں کمر جھک گئی اس کی حیرت ہے کہ وہ ہار گیا رنج و الم سے راس آ گئی صحرا کو مری اشک فشانی اشجار سکوں پاتے ہیں اکثر مرے غم سے یہ سوچ کے تصویر جلائی نہیں اس کی محروم نہ ہو جاؤں کہیں نظر کرم سے وہ وصل کی شب ایک قدم پیچھے ہٹا تھا پھر فاصلے بڑھتے گئے اس ایک قدم سے یادوں کا محل آج بھی تعمیر ہے دل پر یا یوں کہوں روشن ہے یہ گھر آپ کے دم سے وہ بت جو عبادت میں خلل بنتا ہے میری اس بت کو نکالوں گا کسی روز حرم سے صدقہ ہیں ترے حسن کا یہ چاند ستارے سورج کو ملا نور ترے نقش قدم سے ہم اہل عزا اہل بکا اہل فغاں ہیں کیا خاک تقابل ہو زمانے ترا ہم سے دو شعر کہے خود کو سمجھنے لگے غالبؔ قرطاس سے واقف ہیں نہ واقف ہیں قلم سے یوں کوچۂ جاناں سے نکالا گیا محورؔ آدم کو نکالا گیا جس طور ارم سے





