saaraa hisaab-e-jaan-o-dil rakkhaa hai tere saamne
chaahe to de amaan mujhe chaahe to darguzar na kar

Majeed Akhtar
Majeed Akhtar
Majeed Akhtar
Popular Shayari
4 totalraat bhi chaand bhi samundar bhi
mil gae kitne gham-gusaar mujhe
zaraa Thahro ki paDh luun kyaa likhaa mausam ki baarish ne
miri divaar par likhti rahi hai daastaan vo bhi
karam ke baab mein apnon se ibtidaa kiyaa kar
zaraa si baat pe dil ko na yuun buraa kiyaa kar
Ghazalغزل
کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر ذرا سی بات پہ دل کو نہ یوں برا کیا کر نماز عشق ہے ٹوٹے دلوں کی دل داری مرے عزیز نہ اس کو کبھی قضا کیا کر اجالے کے لئے ہے چشم و دل کا آئینہ بپا کبھی کسی مظلوم کی عزا کیا کر بنام مذہب و ملت یہ خوں بہانا کیا ہری ہری وہ کریں تو خدا خدا کیا کر بجا سہی یہ حیا اور یہ احتیاط مگر کبھی کبھی تو محبت میں حوصلہ کیا کر نظر میں رکھ مرے اظہار کی ضرورت کو کبھی تو نون کا اعلان بھی روا کیا کر وہ عیب ڈھکتا ہے تیرے سبھی مجید اخترؔ سو تو بھی درگزر احباب کی خطا کیا کر
karam ke baab mein apnon se ibtidaa kiyaa kar
نظر میں اک جہاں ہے اور تمنا کا جہاں وہ بھی جو طیر فکر ہے رہتا ہے ہر دم پرفشاں وہ بھی ذرا ٹھہرو کہ پڑھ لوں کیا لکھا موسم کی بارش نے مری دیوار پر لکھتی رہی ہے داستاں وہ بھی محبت میں دلوں پر جانے کب یہ سانحہ گزرا جگہ شک نے بنا لی اور ہمارے درمیاں وہ بھی سنو اے رفتگاں رہتا نہیں کچھ فاصلہ اتنا بس اک دیوار باقی ہے مری دیوار جاں وہ بھی جہاں پر نارسائی ہی ریاضت کا صلہ ٹھہرے ہمیں دل نے سکھا رکھا ہے اک کار زیاں وہ بھی نئے امکان کی جانب سفر میں جب تردد ہو صدا کانوں میں آتی ہے صدائے کن فکاں وہ بھی کسی دل دار ساعت میں کسی محبوب لہجے کا دکھاتی ہے تماشہ اور مری عمر رواں وہ بھی
nazar mein ik jahaan hai aur tamannaa kaa jahaan vo bhi
قصے مری آشفتہ نوائی کے بہت تھے چرچے تری انگشت نمائی کے بہت تھے دنیا کی طلب ہی سے نہ فرصت ہوئی ورنہ ارمان ترے در کی گدائی کے بہت تھے کچھ دل ہی نہ مائل ہوا اس راہ پہ ورنہ سامان تو جنت کی کمائی کے بہت تھے کل شب مرے کردار پہ تنقید کی شب تھی کردار میں پہلو بھی برائی کے بہت تھے آزار کی خصلت بھی تھی لوگوں میں نمایاں کچھ شوق بھی اس دل کو بھلائی کے بہت تھے اب ساتھ نہیں ہے بھی تو شکوہ نہیں اخترؔ احسان بھی مجھ پر مرے بھائی کے بہت تھے
qisse miri aashufta-navaai ke bahut the
نشہ شوق ہے فزوں شب کو ابھی سحر نہ کر دیکھ حدیث دلبراں اتنی بھی مختصر نہ کر سارا حساب جان و دل رکھا ہے تیرے سامنے چاہے تو دے اماں مجھے چاہے تو درگزر نہ کر اپنوں سے ہار جیت کا کیسے کرے گا فیصلہ اے مرے دل ٹھہر ذرا یہ جو مہم ہے سر نہ کر اس کا یہ حسن وہم ہے تیرا یہ عشق ہے گماں اتنا یقین دل مرے وہم و گمان پر نہ کر ہجرت نو کا مسئلہ بڑھتے قدم نہ روک لے سو مری جاں سفر میں رہ دار فنا میں گھر نہ کر اتنا تو وقت دے کبھی خود سے کروں مکالمہ اے مری عمر تیز رو ایسے مجھے بسر نہ کر میری اڑان ہے مرے رب کریم کی عطا یوں مرے ضد میں منتشر اپنے یہ بال و پر نہ کر
nashsha-e-shauq hai fuzun shab ko abhi sahar na kar
دل سے منظور تری ہم نے قیادت نہیں کی یہ الگ بات ابھی کھل کے بغاوت نہیں کی ہم سزاوار جو ٹھہرے تو سبب ہے اتنا حکم حاکم پہ کبھی ہم نے اطاعت نہیں کی ہم نے مالک تجھے مانا ہے تو سچا مانا اس لیے تیری کبھی جھوٹی عبادت نہیں کی دوستی میں بھی فقط ایک چلن رکھا ہے دل نے انکار کیا ہے تو رفاقت نہیں کی تو نے خود چھوڑا محبت کا سفر یاد تو کر میں نے تو تجھ سے الگ ہو کے مسافت نہیں کی جھوم اٹھے گا اگر اس کو سناؤں جا کر یہ غزل میں نے ابھی نذر سماعت نہیں کی اس کو بھی اپنے رویے پہ کوئی عذر نہ تھا ہم بھی تھے اپنی انا میں سو رعایت نہیں کی یہ تو پھر تجھ سے محبت کا تھا قصہ مری جاں میرے کس فعل پہ دنیا نے ملامت نہیں کی تو نے چرچے کیے ہر جا مری رسوائی کے میں نے خود سے بھی کبھی تیری شکایت نہیں کی دوستوں کو بھی رہی وقت کی قلت اخترؔ حال دل ہم نے سنانے کی بھی عادت نہیں کی
dil se manzur tiri ham ne qayaadat nahin ki
بخش دے کچھ تو اعتبار مجھے پیار سے دیکھ چشم یار مجھے رات بھی چاند بھی سمندر بھی مل گئے کتنے غم گسار مجھے روشنی اور کچھ بڑھا جاؤں سوز غم اور بھی نکھار مجھے کچھ ہی دن میں بہار آ جاتی اور کرنا تھا انتظار مجھے دیکھ دنیا یہ پینترے نہ بدل دیکھ شیشے میں مت اتار مجھے آئنے میں نظر نہیں آتا اپنا چہرہ کبھی کبھار مجھے کس قدر شوخ ہو کے تکتا تھا رات بند قبائے یار مجھے دیکھ میں ساعت مسرت ہوں اتنی عجلت سے مت گزار مجھے مرکب خاک پر سوار ہوں میں دیکھ اے شہر زر نگار مجھے رزق مقسوم کھا کے جینا تھا کھا گئی فکر روزگار مجھے
bakhsh de kuchh to e'tibaar mujhe





