sunaa iqbaal-e-isyaan khalvaton mein vajh-e-bakhshish hai
kalisaaon mein ye tarz-e-ibaadat aam hai saaqi

Mani Nagpuri
Mani Nagpuri
Mani Nagpuri
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
خوش کام کرو خاطر ناکام ہمیں دو خالی ہو کہ لبریز کوئی جام ہمیں دو مایوس نہیں ہم ابھی اصلاح بشر سے ہر کوئے غلط منزل بدنام ہمیں دو جولاں گہہ خاصان محبت سے گزارو کہتے نہیں ہم شاہرہ عام ہمیں دو آراستہ گیسو سے عطا ہو فن سعدی نظروں سے ادب پارۂ خیام ہمیں دو مسلک ہے محبت کا ولاتمام من اللہ کیوں کشمکش خاطر ناکام ہمیں دو گنجان ہوا گیسوؤں والوں سے محلہ ہم طرز حسینان اودھ شام ہمیں دو مانیؔ یہی سقراط کا سجادہ نشیں ہے دینا ہے اسے زہر بھرا جام ہمیں دو
khush-kaam karo khaatir-e-naakaam hamein do
خیال حسن ضروری ہے زندگی کے لیے چراغ لے لو اندھیرے میں روشنی کے لیے چھپائے سے بھی کہیں عشق و مشک چھپتے ہیں سوال بن گئی بے پردگی کسی کے لیے مجھے جو فیض اٹھانا ہے میں اٹھا لوں گا غرض نگاہ کرم ہے وہ اب کسی کے لیے وہ دل نظر سے گرا دیں تو غم کی بات نہیں یہ جام وضع ہوا ہے شکستگی کے لیے بہکنے لگتی ہے دنیا شرابیوں کی طرح نظر اٹھانا بھی دشوار ہے کسی کے لیے زمانہ جب کبھی آمادۂ فریب ہوا کسی نے پردہ اٹھایا ہے آگہی کے لیے سرور چشم نگاراں نہ پوچھئے مانیؔ طبیعت آج بھی موزوں ہے شاعری کے لیے
khayaal-e-husn zaruri hai zindagi ke liye
دل تباہ بھی ہے عالم خراب بھی ہے نگاہ دوست یہی وقت انقلاب بھی ہے دو آتشہ سر رخسار ہو گئے آنسو گلوں پہ قطرۂ شبنم نہیں شراب بھی ہے نگاہ شوق لرزتے ہیں تار چلمن کے تلاش کر انہی کرنوں میں آفتاب بھی ہے کہاں سے دیکھیے موج سرور اٹھتی ہے نگاہ ناز بھی ہے ساغر شراب بھی ہے خلاف اہل سفینہ ہی ناخدا سے نہیں جبین بحر پہ لرزاں خط عتاب بھی ہے ہوائے دہر نے پھر دامنوں پہ ڈال دیا وہ گرد جس میں نہاں بوئے انقلاب بھی ہے اے جستگان رہ غم چلے چلو آگے کوئی مقام بہ نام بہشت خواب بھی ہے یہی وہ مانیؔ ہے سلمائے گونڈوانہ ترا جو فیض رخ سے ترے صاحب کتاب بھی ہے
dil-e-tabaah bhi hai aalam-e-kharaab bhi hai
عیش رفتہ کا یہی ہے وہ شبستاں اے دوست یہیں خوابیدہ تھی آرام دل و جاں اے دوست بے خبر سونے میں وہ جسم کھلا شانوں تک جیسے جنت کا نہ ہو کوئی نگہباں اے دوست ساز ہاتھوں میں اٹھایا تری انگڑائی نے چوڑیاں پہلو بدلتے ہی غزل خواں اے دوست پیش آئینہ مسہری پہ کھلے گیسوئے ناز دور بادل میں کوئی حور پریشاں اے دوست مختلف وضع ترے حسن کو ملبوس نے دی شوق کے میں نے تراشے کئی عنواں اے دوست روکنا گھر تجھے جانے سے بخوف ہجراں جاگزیں دل میں ترے یاد عزیزاں اے دوست جو امنگوں کو اداسی کے حوالے کر دے آہ وہ تند مزاجیٔ بزرگاں اے دوست نقش ہے وقت کی پیشانی پہ عہد رنگیں ہم سے گو رک نہ سکی عمر گریزاں اے دوست
aish-e-rafta kaa yahi hai vo shabistaan ai dost
قید جب ہم پہ لگی وسعت داماں کے لیے کتنی کثرت سے کھلے پھول گلستاں کے لیے وہ مناجاتیں کہاں ہیں ترے احساں کے لیے کثرت شوق نہیں عالم حرماں کے لیے جیسے ہر حسن سے ممتاز ہے وہ حسن تمام ہم ہیں اعزاز کے قابل نہیں جاناں کے لیے قارئین نگہ ناز ہی سمجھے وہ خط سرخ ڈوروں میں جو تحریر ہے ارماں کے لیے رند لائے مے و ساغر کی حسیں تشبیہیں استعارہ نگہ حسن تھی پیکاں کے لیے خوف کیا ہو رہ تاریک بیاباں کا ہمیں کم نہیں کرمک شب تاب چراغاں کے لیے اشک غم روکے رہیں فاقہ گزاروں سے کہو پانی گلخن سے چلا نوح کے طوفاں کے لیے کی نہ جب اہل سیاست نے ستم سے توبہ ہم اتارے گئے اس قوم بد عنواں کے لیے در جہان گل بے خار نچیدست کسے غم نہ کر مانیؔٔ نشتر کش دوراں کے لیے
qaid jab ham pe lagi vusat-e-daamaan ke liye
خراب شوق ہوا جب سے اس نگاہ کا دل چراغ مے کدہ ہے گاہ خانقاہ کا دل نہ جانے خاک نشیں کس کے انتظار میں ہیں کنار راہ دھڑکتا ہے کب سے راہ کا دل نوازش غم دوراں سبھی پہ یکساں ہے گناہ گار کا دل ہو کہ بے گناہ کا دل بہار سے بھی نمایاں ہے عشق کا کردار یہ لہلہاتا چمن ہے کہ بے گناہ کا دل فلاح خلق میں اٹھتے ہیں ناگہاں طوفاں دھڑک رہا ہے ہواؤں میں شمع راہ کا دل دعائیں کرتے چلو تا بہ منزل مقصود کہ رہزنوں سے نہ مل جائے خضر راہ کا دل تمہاری راہ میں آثار زندگی تو ملے ہے ذرہ ذرہ کسی عاشق تباہ کا دل سنا ہے شاعر خوش فکر ہو گیا مانیؔ نیاز مند ہے اک حسن خوش نگاہ کا دل
kharaab-e-shauq huaa jab se is nigaah kaa dil





