"suraj chaDha to pighli bahut choTiyon ki barf andhi chali to ukhDe bahut saya-dar log"

Manzar Saleem
Manzar Saleem
Manzar Saleem
Sherشعر
suraj chaDha to pighli bahut choTiyon ki barf
سورج چڑھا تو پگھلی بہت چوٹیوں کی برف آندھی چلی تو اکھڑے بہت سایہ دار لوگ
ab rah-e-vafa ke patthar ko ham phuul nahin samjhenge kabhi
اب راہ وفا کے پتھر کو ہم پھول نہیں سمجھیں گے کبھی پہلے ہی قدم پر ٹھیس لگی دل ٹوٹ گیا اچھا ہی ہوا
dahshat khuli faza ki qayamat se kam na thi
دہشت کھلی فضا کی قیامت سے کم نہ تھی گرتے ہوئے مکانوں میں آ بیٹھے یار لوگ
Popular Sher & Shayari
6 total"ab rah-e-vafa ke patthar ko ham phuul nahin samjhenge kabhi pahle hi qadam par Thes lagi dil TuuT gaya achchha hi hua"
"dahshat khuli faza ki qayamat se kam na thi girte hue makanon men aa baiThe yaar log"
suraj chaDhaa to pighli bahut choTiyon ki barf
aandhi chali to ukhDe bahut saaya-daar log
dahshat khuli fazaa ki qayaamat se kam na thi
girte hue makaanon mein aa baiThe yaar log
ab raah-e-vafaa ke patthar ko ham phuul nahin samjheinge kabhi
pahle hi qadam par Thes lagi dil TuuT gayaa achchhaa hi huaa
Ghazalغزل
dariyaa hain phir bhi milte nahin mujh se yaar log
دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ جرأت کہاں کہ صحرا سے ہوں ہم کنار لوگ جادو فضا کا تھا کہ ہوا میں ملا تھا زہر پتھر ہوئے جہاں تھے وہیں بے شمار لوگ اب سایہ و ثمر کی توقع کہاں رکے سوکھے ہوئے شجر ہیں سر رہ گزار لوگ دہشت کھلی فضا کی قیامت سے کم نہ تھی گرتے ہوئے مکانوں میں آ بیٹھے یار لوگ اک دوسرے کا حال نہیں پوچھتا کوئی اک دوسرے کی موت پہ ہیں شرمسار لوگ سورج چڑھا تو پگھلی بہت چوٹیوں کی برف آندھی چلی تو اکھڑے بہت سایہ دار لوگ
jis tarah badlaa huun main badlegi kyaa
جس طرح بدلا ہوں میں بدلے گی کیا میری بستی مجھ کو پہچانے گی کیا زخم سر ہے آپ اپنی داستان پتھروں سے زندگی پوچھے گی کیا تیرگی نے مسخ کر دیں صورتیں آنے والی روشنی دیکھے گی کیا ذہن میں رکنے نہیں پاتے خیال جسم کے اوپر قبا ٹھہرے گی کیا میں تو جاں دیتے ہوئے بھی ہنس پڑوں تلخی زہراب غم سوچے گی کیا دھوپ ایسی ہے کہ دریا سوکھ جائیں خون کے چھینٹوں سے رت بدلے گی کیا جی رہا ہوں دوسروں کے جسم میں موت جینے سے مجھے روکے گی کیا
jism ke neze par jo rakkhaa hai
جسم کے نیزے پر جو رکھا ہے اس مرے سر میں جانے کیا کیا ہے بت بنایا مرے ہنر نے مجھے میرے ہاتھوں نے مجھ کو توڑا ہے بستیاں اجڑی ہیں تو سناٹا میری آواز میں سمایا ہے میں بھی بے جڑ کا پیڑ ہوں شاید مجھ کو بھی ڈر ہوا سے لگتا ہے شہر میں کچھ عمارتوں کے سوا اب مرا کون ملنے والا ہے کہنے سننے کو کچھ نہیں باقی ملنا جلنا عجب سا لگتا ہے
us chashm-e-fusun-gar ke paimaane ki baatein hon
اس چشم فسوں گر کے پیمانے کی باتیں ہوں میخانے میں بیٹھے ہیں میخانے کی باتیں ہوں زلف و لب و عارض کی جنت میں پہنچ جائیں اس حسن مجسم کے کاشانے کی باتیں ہوں لوٹی ہے صبا حل کر اس جان بہاراں سے ارمانوں کی کلیوں کے کھل جانے کی باتیں ہوں پھر دکھنے لگے شانے بار غم ہستی سے پھر شانے پہ زلفوں کے لہرانے کی باتیں ہوں پھر وقت کے سینے کی دھڑکن نہ سنائی دے پھر جام کے شیشے سے ٹکرانے کی باتیں ہوں اس دور حقیقت میں افسانہ سہی الفت کچھ رات کٹے آؤ افسانے کی باتیں ہوں الفاظ سے کھینچیں ہم تصویر لب شیریں زہر غم دنیا کو پی جانے کی باتیں ہوں
muddat se jism barf mein jakDaa huaa saa hai
مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے ماحول میرے سینے میں بیٹھا ہوا سا ہے کہرے میں آنکھ پھوٹ گئی تب خبر ملی سورج مری تلاش میں نکلا ہوا سا ہے ہر آنکھ مجھ پہ پڑتی ہے تلوار کی طرح ہر شخص میرے خوں میں نہایا ہوا سا ہے نفرت کے جس پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوں میں وہ ساری کائنات پہ پھیلا ہوا سا ہے گھر میں دھواں بھرا ہے کہ بیٹھوں تو دم گھٹے باہر تمام شہر سلگتا ہوا سا ہے ہاں میں غنودگی کے دھندلکے میں ہوں اسیر ہاں میرا ذہن صدیوں کا جاگا ہوا سا ہے
naakaam hi dil jo rahnaa thaa naakaam rahaa achchhaa hi huaa
ناکام ہی دل جو رہنا تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا اب کیجے کسی کا شکوہ کیا جو کچھ بھی ہوا اچھا ہی ہوا کچھ منزل کا غم بڑھ جاتا کچھ راہیں مشکل ہو جاتیں اس تپتی دھوپ میں زلفوں کا سایہ نہ ملا اچھا ہی ہوا اب راہ وفا کے پتھر کو ہم پھول نہیں سمجھیں گے کبھی پہلے ہی قدم پر ٹھیس لگی دل ٹوٹ گیا اچھا ہی ہوا دو چار گھڑی ہنس بول کے ہم برسوں خوں کے آنسو روتے دو چار گھڑی بھی بزم طرب میں جی نہ لگا اچھا ہی ہوا ان جادو کرنے والوں کے کچھ بھید سمجھ میں آ تو گئے دل پیار کے پیچھے پاگل تھا ناکام رہا اچھا ہی ہوا دو گھونٹ سے اپنی تشنہ لبی کیا کم ہوتی کیوں کم ہوتی چھلکا ہوا ساغر ہاتھوں سے گر کر ٹوٹا اچھا ہی ہوا ہر وقت خزاں کے جھونکوں سے ڈرتے رہتے ہم بھی منظرؔ سینے میں کبھی ارمانوں کا غنچہ نہ کھلا اچھا ہی ہوا





