baat teri suni nahin main ne
dhyaan meraa tiri nazar par thaa

Manzoor Arif
Manzoor Arif
Manzoor Arif
Popular Shayari
4 totalvo kyaa gayaa ki har ik shakhs rah gayaa tanhaa
usi ke dam se thiin baaham rifaaqatein saari
aisaa dil-kash thaa ki thi maut bhi manzur hamein
ham ne jis jurm ki kaaTi hai sazaa zindaan mein
har shai lamhe ki mehmaan hai kyaa gul kyaa khushbu
kyaa mai kyaa nasha-e-aaina kyaa aaina-ru
Ghazalغزل
کوتاہ قد ہیں ہم تو کوئی سر کشیدہ ہو آوازہ ہو کچھ ایسا کہ ہر کس شنیدہ ہو وہ التفات خاص پہ مائل ہوا تو کیا پھیلائے کیا وہ شخص جو دامن دریدہ ہو اس وقت تک تو شاخ میں رہنا ہی چاہیے جب تک کہ کوئی غنچۂ گل نو دمیدہ ہو کیسی یہ شاخ ہے کہ ثمر سے جھکی نہیں ہر شخص دل میں کہتا ہے پیاری خمیدہ ہو جی چاہتا ہے کھل کے کسی کی ثنا کریں لیکن یہ سوچتے ہیں کہ کس کا قصیدہ ہو عارفؔ تمام عمر رہی دل میں آرزو جو لکھوں چھپ سکے کوئی ایسا جریدہ ہو
kotaah-qad hain ham to koi sar-kashida ho
پایاب موج اٹھی تو سر سے گزر گئی اک سرو قد جوان کی دستار اتر گئی کرنے لگا تھا غرق سمندر جہان کو طوفاں ہی موجزن تھا جہاں تک نظر گئی اس تیرگی میں برق کی شوخی عجیب تھی آباد وہ ہوا جسے ویران کر گئی سوئے بدن کے بحر میں جاگی تھی خوں کی لہر جب چڑھ کے سر تک آئی تو جانے کدھر گئی صحن چمن میں دل کے لہو کی ہر ایک بوند پتے کو پھول شاخ کو تلوار کر گئی ناصح نے کوئے یار کا رستہ بھلا دیا اچھا ہوا کہ حسرت دیدار مر گئی
paayaab mauj uTThi to sar se guzar gai
غم دوراں بھی نہیں ہے غم جاناں بھی نہیں سخت مشکل میں ہے اب دل کہ غم جاں بھی نہیں مجھ سے ناراض ہیں سب جان و جہان و جاناں میں کہ دل سے بھی جدا شے ہوں پریشاں بھی نہیں دل نے کچھ اور کہاں عقل نے کچھ اور کہی سن کے دونوں کی نہ مانی کہ میں ناداں بھی نہیں حد امکان تصور میں سہی میرا سراغ لیکن اے دل مجھے اب ڈھونڈھنا آساں بھی نہیں ایک وہ دن کہ تری دید پہ قرباں تھی نگاہ ایک یہ دن کہ ترے وصل کا ارماں بھی نہیں جانے کس خطۂ افلاک سے اترا عارفؔ جو اک انسان کی صورت بھی ہے انساں بھی نہیں
gham-e-dauraan bhi nahin hai gham-e-jaanaan bhi nahin
وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے وہ روگ پرایا کیا سمجھے وہ پریت پرائی کیا جانے پروانۂ حسن کا شیدائی پاپی بھنورا رس کا لوبھی چاہت کو سودائی سمجھے اس کو ہرجائی کیا جانے محفل میں جسے معلوم نہیں احساس کی کروٹ کیا شے ہے وہ دل کی سونی وادی میں غم کی انگڑائی کیا جانے یہ خاک آلود جواں چہرے گل جن کی قسمیں کھاتے ہیں جو آرائش پر مرتا ہو ان کی رعنائی کیا جانے عارفؔ اپنا راز الفت یوں ہے جیسے منہ بند کلی یہ بھید زمانہ کیا سمجھے یہ راز خدائی کیا جانے
vo vasl ki lazzat mein gum hai vo soz-e-judaai kyaa jaane
مری غزل میں تھیں اس کی نزاکتیں ساری اسی کے روئے حسیں کی صباحتیں ساری وہ بولتا تھا تو ہر اک تھا گوش بر آواز وہ چپ ہوا تو ہیں بہری سماعتیں ساری وہ کیا گیا کہ ہر اک شخص رہ گیا تنہا اسی کے دم سے تھیں باہم رفاقتیں ساری ڈبو گیا وہ مرا لفظ لفظ دریا میں وہ غرق کر گیا میری علامتیں ساری وہ ایک لمحہ سر دار جو چمک اٹھا اس ایک لمحے پہ قربان ساعتیں ساری جہاں پہ دفن ہے اس کے بدن کا تاج محل ادھر دریچے رکھیں گی عمارتیں ساری
miri ghazal mein thiin us ki nazaakatein saari
کیسے آ پہنچی ہے گلشن کی ہوا زنداں میں دل کا جو زخم تھا اک پھول بنا زنداں میں ایسا دلکش تھا کہ تھی موت بھی منظور ہمیں ہم نے جس جرم کی کاٹی ہے سزا زنداں میں میں گلستاں میں بھی تنہا تھا مگر یاد تو تھی کیسا بے یار و مددگار ہوا زنداں میں میں نے تنہائی سے تنگ آ کے اسے یاد کیا اب مرے ساتھ ہی رہتا ہے خدا زنداں میں وہ جو گلشن میں مرے غم کا مداوا نہ ہوا چاند نکلا تو اسے یاد کیا زنداں میں آج جب آنکھ کھلی ہے تو فضا ہے خاموش صبح دم کون سوئے دار گیا زنداں میں
kaise aa pahunchi hai gulshan ki havaa zindaan mein





