"zamin par ghar banaya hai magar jannat men rahte hain hamari khush-nasibi hai ki ham bharat men rahte hain"

Mehshar Afridi
Mehshar Afridi
Mehshar Afridi
Sherشعر
See all 12 →zamin par ghar banaya hai magar jannat men rahte hain
زمیں پر گھر بنایا ہے مگر جنت میں رہتے ہیں ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم بھارت میں رہتے ہیں
mujhe jis haal men chhoDa usi halat men paogi
مجھے جس حال میں چھوڑا اسی حالت میں پاؤگی بڑی ایمانداری سے تمہارا ہجر کاٹا ہے
main is liye bhi hamesha khamosh rahta huun
میں اس لیے بھی ہمیشہ خموش رہتا ہوں مرے دماغ میں اک شور مچتا رہتا ہے
'aql aur 'ishq laDte rahe der tak
عقل اور عشق لڑتے رہے دیر تک عقل ماری گئی عشق زندہ رہا
tum mujhe apni qasam de kar kaho
تم مجھے اپنی قسم دے کر کہو آفریدیؔ آپ سگریٹ چھوڑ دیں
tumhare husn ko kab tak varaq varaq paDhte
تمہارے حسن کو کب تک ورق ورق پڑھتے سو ایک رات میں پوری کتاب پڑھ ڈالی
Popular Sher & Shayari
24 total"mujhe jis haal men chhoDa usi halat men paogi baDi iman-dari se tumhara hijr kaaTa hai"
"main is liye bhi hamesha khamosh rahta huun mire dimagh men ik shor machta rahta hai"
"'aql aur 'ishq laDte rahe der tak 'aql maari ga.i 'ishq zinda raha"
"tum mujhe apni qasam de kar kaho 'afridi' aap cigarette chhoD den"
"tumhare husn ko kab tak varaq varaq paDhte so ek raat men puuri kitab paDh Daali"
'aql aur 'ishq laDte rahe der tak
'aql maari gai 'ishq zinda rahaa
vo kuchh ghalat nahin thaa hamin bevaquf the
shishe ko saaf karte rahe is taraf se ham
jab tumhaari ye maatami aankhein
muskuraati hain shor thamtaa hai
visaal-e-yaar furqaton ki rut badal nahin rahaa
badan qaraar paa gayaa hai dil sanbhal nahin rahaa
tumhaare husn ko kab tak varaq varaq paDhte
so ek raat mein puuri kitaab paDh Daali
zaraa baahon ke halqe aur kas lo
mohabbat saans lenaa chaahti hai
Ghazalغزل
jo chand lamhon mein ban gayaa thaa vo silsila khatm ho gayaa hai
جو چند لمحوں میں بن گیا تھا وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے یہ تم نے کیسا یقیں دلایا مغالطہ ختم ہو گیا ہے زبان ہونٹوں پہ جا کے پھیکی ہی لوٹ آتی ہے کچھ دنوں سے نمک نہیں ہے ترے لبوں میں یا ذائقہ ختم ہو گیا ہے گمان گاؤں سے میں چلا تھا یقین کی منزلوں کی جانب مگر توہم کے جنگلوں میں ہی راستہ ختم ہو گیا ہے وہ گفتگوؤں کے نرم چشمے کہیں فضا میں ہی جم گئے ہیں وہ سارے میسج وہ شاعری کا تبادلہ ختم ہو گیا ہے کل ایک صدمہ پڑا تھا ہم پر کے جس نے دل کو ہلا دیا تھا چلو کے سینے کا جائزہ لیں کہ زلزلہ ختم ہو گیا ہے مرے تصور میں اتنی وسعت نہیں کے تیرا بدن سمائے میں تجھ کو سوچوں تو ایسا لگتا ہے حافظہ ختم ہو گیا ہے میں تجھ کو پا کر ہی مطمئن ہوں اب اور کوئی طلب نہیں ہے جو آج تک تھا نصیب سے وہ مطالبہ ختم ہو گیا ہے
anaa kaa bojh kabhi jism se utaar ke dekh
انا کا بوجھ کبھی جسم سے اتار کے دیکھ مجھے زباں سے نہیں روح سے پکار کے دیکھ میری زمین پہ چل تیز تیز قدموں سے پھر اس کے بعد تو جلوے مرے غبار کے دیکھ یہ اشک دل پہ گریں تو بہت چمکتا ہے کبھی یہ آئنہ تیزاب سے نکھار کے دیکھ نہ پوچھ مجھ سے ترے قرب کا نشہ کیا ہے تو اپنی آنکھ میں ڈورے مرے خمار کے دیکھ ذرا تجھے بھی تو احساس ہجر ہو جاناں بس ایک رات میرے حال میں گزار کے دیکھ ابھی تو صرف کمال غرور دیکھا ہے تجھے قسم ہے تماشے بھی انکسار کے دیکھ
josh-e-junun mein aap kaa aanchal pakaD liyaa
جوش جنوں میں آپ کا آنچل پکڑ لیا گھبرا کے ایک سانپ نے صندل پکڑ لیا آنسو بہ ضد کہ ساتھ ہمارے ہی جائے گا لیکن گھنیری پلکوں نے کاجل پکڑ لیا یہ مشورہ ہے آپ بھی ہمراز ڈھونڈ لیں ہم نے تو اک محلے کا پاگل پکڑ لیا تیرے تصورات سے فرصت نہیں مجھے اس بھوت نے تو گاؤں کا پیپل پکڑ لیا ہم خود کو عقل مند جتاتے تو کس طرح سو یہ کیا اک عقل سے پیدل پکڑ لیا
jism phulon ke gaThile ho gae
جسم پھولوں کے گٹھیلے ہو گئے نرم لہجے بھی نکیلے ہو گئے کیا اندھیرے کے لبوں میں زہر تھا روشنی کے ہونٹ نیلے ہو گئے انکساری اور انا کی جنگ میں میرے اندر دو قبیلے ہو گئے عشق کی فصلیں ابھی پکی نہیں صبر کے پھل تو رسیلے ہو گئے سانس اکھڑے گی ابھی تو دیکھنا آندھیوں کے کس تو ڈھیلے ہو گئے ہم اندھیرے میں بہت سرسبز تھے روشنی پڑتے ہی پیلے ہو گئے
ye jo paude hain junun ke ye javaan bhi honge
یہ جو پودے ہیں جنوں کے یہ جواں بھی ہوں گے رشک صحرا ہی نہیں رشک خزاں بھی ہوں گے اتنا نزدیک سے مت دیکھ مری آنکھوں کو ان میں کچھ پچھلی محبت کے نشاں بھی ہوں گے پیاس ہی پیاس ہے بینائی کے کشکولوں میں اشک آنکھوں سے بچیں گے تو رواں بھی ہوں گے اس کی خوشبو ہی نہیں آتی مری سانسوں سے غور سے دیکھیے ہونٹوں کے نشاں بھی ہوں گے یہ جو لپٹیں ابھی اٹھی ہیں مری شہرت کی ان میں کچھ لوگ ابھی جل کے دھواں بھی ہوں گے
har takalluf bilaa-zarurat hai
ہر تکلف بلا ضرورت ہے سچ کہوں آپ سے محبت ہے میں اسے جتنا دیکھنا چاہوں وہ بھی اتنی ہی خوبصورت ہے میں بہت خوش ہوں اور خوشی کا سبب آپ بالکل نہیں ہیں وحشت ہے میری سانسیں بھی ہو گئیں مشروط عشق کیا ہے کوئی مصیبت ہے اور وہ کس طرح کرے اظہار میں نہ سمجھوں تو مجھ پہ لعنت ہے آنے والے دنوں میں جیتا ہوں مجھ کو آئندگاں سے نسبت ہے





