SHAWORDS
M

Mir Sajjad

Mir Sajjad

Mir Sajjad

poet
2Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

تمام عمر یہی آرزو کئے جاؤ ملے وہ یا نہ ملے جستجو کئے جاؤ نہیں سرور تو یاد سرور کیا کم ہے تم آج ذکر شراب و سبو کیے جاؤ یقیں کرو کہ ملے گی ضرور منزل دوست مگر یہ شرط بھی ہے جستجو کئے جاؤ کسی کی شوخ نظر سے نظر جو مل جائے زباں خموش رہے گفتگو کئے جاؤ فرشتے رشک کریں گے فلک پہ اے سجادؔ تم اپنے دامن تر سے وضو کئے جاؤ

tamaam 'umr yahi aarzu kiye jaao

غزل · Ghazal

ذہن جب فکر ساز ہوتا ہے خوب راز و نیاز ہوتا ہے عشق نظارہ باز ہوتا ہے حسن مجبور ناز ہوتا ہے فطرتاً ابتدائے الفت میں ایک رنگ مجاز ہوتا ہے ہر نظر کے خموش نغموں میں محشر سوز و ساز ہوتا ہے کون کیا ہے یہاں پہ اے سجادؔ آج بھی امتیاز ہوتا ہے

zehn jab fikr-saaz hotaa hai

غزل · Ghazal

دنیا مرے دامن کی ہوا مانگ رہی ہے دن رات سنورنے کی دعا مانگ رہی ہے خود زندگی جینے کی دعا مانگ رہی ہے گیسو سے تری کالی دعا مانگ رہی ہے گلشن کی کلی موج صبا مانگ رہی ہے ہر شاخ کے ہونٹوں پہ صدا مانگ رہی ہے خوابوں سے خیالوں سے خطا مانگ رہی ہے یہ رات بلا جرم سزا مانگ رہی ہے نعمت تھی مری جان مگر مانگ رہی ہے جینے کے لیے رب سے دعا مانگ رہی ہے خوشبو سے محبت سے عنایت سے کرم سے پھر وادئ دل ٹھنڈی ہوا مانگ رہی ہے ہر سانس غنیمت ہے یہاں آج بھی سجادؔ ہر سانس مری رب کی رضا مانگ رہی ہے

duniyaa mire daaman ki havaa maang rahi hai

غزل · Ghazal

کہیں ہم نہ ہوں گے تو کیا کیجئے گا کسی اور سے دل لگا لیجئے گا مری یاد آئے تو لوگوں سے بچ کر اکیلے میں آنسو بہا لیجئے گا اگر پیاس سے میں لب جان ٹھہروں نگاہوں سے تھوڑا پلا دیجئے گا اگر پھر کسی موڑ پر سامنا ہو ذرا پیار سے مسکرا دیجئے گا سلامت رہے آپ کی بے وفائی ہمارے لیے بھی دعا کیجئے گا ہمیں آپ کی دوستی پر یقیں ہے جو چاہے گا دل وہ سزا دیجئے گا ہمارے طبیب محبت سے کہنا ذرا دل لگا کر دوا کیجئے گا بھری بزم سے اٹھ کے سجادؔ صاحب دیا گھر کے اندر جلا لیجئے گا

kahin ham na honge to kyaa kijiyegaa

غزل · Ghazal

یوں لگ رہا ہے جوش میں ڈھلنے لگی ہے شام اور وقت کا مزاج بدلنے لگی ہے شام چٹان بن کے سامنے آئی ہے کالی رات آنگن میں میرے جب سے ٹہلنے لگی ہے شام فصل بہار آ گئی پھر بزم یار میں کس کس ادا سے دیکھ مچلنے لگی ہے شام دکھ درد نے ہر اک سو لگا دی ہے کیسی آگ آہوں کی گرمیوں سے پگھلنے لگی ہے شام کس طرح بچ سکے گی وطن تیری آبرو نفرت کا زہر کیسے اگلنے لگی ہے شام سجادؔ نے دیا ہے محبت بھرا پیام اس پیار کی صدا پہ مچلنے لگی ہے شام

yuun lag rahaa hai josh mein Dhalne lagi hai shaam

غزل · Ghazal

پیار میں شرط کسی طرح کی منظور نہیں ہم اگر دور نہیں تم بھی تو مجبور نہیں وقت آنے دو بہت لوگ ملیں گے تم کو کیا سمجھتے ہو کہ اب سرمدؔ و منصورؔ نہیں مانتا ہوں کہ ادائیں ہیں تری توبہ شکن جو بھی ہے پھر بھی تو جنت کی کوئی حور نہیں چل پڑو تو نہیں اس بات کا ہوگا احساس دور ہے منزل مقصود مگر دور نہیں وہ جو چاہے تو ہر اک چیز کو حاصل کر لے میر سجادؔ جسے کہتے ہیں معذور نہیں

pyaar mein shart kisi tarh ki manzur nahin

Similar Poets