SHAWORDS
Mohammad Ahmad Ramz

Mohammad Ahmad Ramz

Mohammad Ahmad Ramz

Mohammad Ahmad Ramz

poet
11Shayari
36Ghazal

Popular Shayari

11 total

Ghazalغزل

See all 36
غزل · Ghazal

اس کے جنوں کا خواب ہے کن تعبیروں میں اچھا وہ لگتا ہے جکڑا زنجیروں میں اب تو میرے لہو تک بات پہنچتی ہے کون سا رنگ بھروں اس کی تصویروں میں بن جاتے ہیں ایک خبر ڈھہ جانے کی اپنا شمار بھی ہے کچی تعمیروں میں اس کا ترکش خالی ہونے والا ہے میرے نام کا تیر ہے کتنے تیروں میں مجھ سے سیکھو حرف و نوا کی جادوگری ڈھونڈ رہے ہو کیا اندھی تحریروں میں مرے زیر قدم ہے رمزؔ اقلیم سخن اک دنیا یہ بھی ہے مری جاگیروں میں

us ke junun kaa khvaab hai kin taabiron mein

غزل · Ghazal

کس سے پوچھوں کہ کھنڈر سا یہ بدن کس کا ہے کوئی موسم نہیں جس میں یہ چمن کس کا ہے کچھ نہیں فرش سے تا عرش بجز موج غبار یہ بیابان شب و روز وطن کس کا ہے جھیلتے رہیے یہاں رفعت و پستی کا عذاب یہ زمیں کس کی ہے یہ چرخ کہن کس کا ہے بارش سنگ ملامت سے ہے ریزہ ریزہ نہیں میرا تو یہ آئینۂ فن کس کا ہے ہو چکے مسخ مرے اپنے خد و خال تمام رمزؔ یہ چہرۂ بے داغ و شکن کس کا ہے

kis se puchhun ki khanDar saa ye badan kis kaa hai

غزل · Ghazal

دیئے منڈیروں کے روشن قطار ہونے لگے لویں تراشنے والے فرار ہونے لگے دبیز پردوں پہ مانوس لہریں اٹھنے لگی ہوا کے ہاتھ دریچوں سے پار ہونے لگے عدو بھی بھرنے لگے دم تری رفاقت کا اب ایسے ویسے تماشے بھی یار ہونے لگے اب آنے والی کسی رت کا انتظار ہو کیا جڑوں سے اپنی شجر داغ دار ہونے لگے فلک کے پرزے اب اڑنے میں کوئی دیر نہیں پہاڑ سرکے زمینوں میں غار ہونے لگے کھلا محاذ تو ہوگی ہماری پسپائی ہم اپنے خوف دروں کا شکار ہونے لگے سفر ہے سخت بہت سخت اگلے موڑ کے بعد چمک رہے تھے جو منظر غبار ہونے لگے نہ کوئی موج تماشا نہ عکس حیرت رمزؔ ہمارے آئینے بے اعتبار ہونے لگے

diye munDeron ke raushan qataar hone lage

غزل · Ghazal

یہ زاد راہ کسی مرحلے میں رکھ دینا کوئی گلاب مرے راستے میں رکھ دینا جو بحث چاہئے فن پر تو استعارہ کوئی کسی ردیف کسی قافیے میں رکھ دینا جو نقش نقش محبت تھا مٹ چکا دل سے چراغ اب یہ کسی طاقچے میں رکھ دینا گزار لوں گا کسی طرح ہجر کی راتیں کوئی کہانی مرے حافظے میں رکھ دینا بغور دیکھنا چہروں کا رنگ اترتے ہوئے مرے ہنر کی چمک آئنے میں رکھ دینا میں آپ اپنا ستارہ ہوں اپنی گردش ہوں مرا نجوم مرے زائچے میں رکھ دینا میں دیکھوں کیا ہے مرا ٹوٹنا بکھرنا رمزؔ مجھے اٹھا کے کسی زلزلے میں رکھ دینا

ye zaad-e-raah kisi marhale mein rakh denaa

غزل · Ghazal

میرے لہو کی سرشاری کیا اس کی فضا بھی کتنی دیر تیرے کف نازک پہ رہے گا رنگ حنا بھی کتنی دیر اس کی نظر کی ہلکی سی جنبش کیا کیا جوہر رکھتی ہے لا سکتا ہے تاب تماشا آئینہ بھی کتنی دیر اب کے وصل کا موسم یوں ہی بے چینی میں بیت گیا اس کے ہونٹوں پر چاہت کا پھول کھلا بھی کتنی دیر کوئی تکلم کوئی اشارہ کوئی آہٹ پاس نہیں زندہ رہے ویرانۂ جاں میں دل کی صدا بھی کتنی دیر بکھرا دیں اطراف جنوں میں کیسی کیسی خوشبوئیں کوچۂ یار میں ٹھہری ہوگی باد صبا بھی کتنی دیر میرے دل میں گہرائی تک زخم ہیں اندھی خواہش کے اور ابھی ہونٹوں پہ رہے گا زہر دعا بھی کتنی دیر اپنی ایک ادا رکھتی ہے اس کے بعد کی گدازی بھی کچھ تو سوچو اس پہ چلے گا سحر قبا بھی کتنی دیر آگے دھند ہے بے سمتی کی پیچھے غبار گم شدگی میرے سر میں ساتھ رہے گی میری انا بھی کتنی دیر اس کے تغافل کا بھی بھرم رکھ اس سے اتنی چھیڑ نہ کر رمزؔ برستی ہے بے موسم کوئی گھٹا بھی کتنی دیر

mere lahu ki sarshaari kyaa us ki fazaa bhi kitni der

غزل · Ghazal

شورش خاکستر خوں کو ہوا دینے سے کیا لمس آنکھوں کو بدن کا ذائقہ دینے سے کیا ہو چکی ہے گم صدائے بازگشت غیب بھی پتھروں کو اب کوئی نقش نوا دینے سے کیا دھند کی گہری تہوں میں سارے پیکر دفن ہیں اپنی بچھڑی ساعتوں کو اب صدا دینے سے کیا اک نہال خستہ کی صورت کھڑا ہوں راہ میں مجھ کو آنے والی رت کا آسرا دینے سے کیا کون سمجھے گا مجھے تصویر ادھوری چھوڑ دوں رنگ کوئی دائرہ در دائرہ دینے سے کیا ایک دن کھا جائے گی موسم کی سنگینی انہیں خوشبوؤں کو خواہش سیل صبا دینے سے کیا بن گئی ہے بیعت باطل اساس وقعت رمزؔ عرصۂ امکاں کو ذہن کربلا دینے سے کیا

shorish-e-khaakistar-e-khun ko havaa dene se kyaa

Similar Poets