khudaa ke haath mein apni ye Dor kitni hai
main har qadam pe hue saanahe pe sochtaa huun

Mohammad Hasnain Parwez
Mohammad Hasnain Parwez
Mohammad Hasnain Parwez
Popular Shayari
6 totalmain us ko chumtaa rahtaa thaa is saliqe se
ki mere honT pe surkhi na aae gaalon ki
she'r kahnaa bhi to zakhmon ki numaaish hai miyaan
daad milne pe mire zakhm hare hote hain
is aziyyat ko mire yaar kahaan jaante hain
main badalte hue maahaul mein Dhal jaataa huun
kisi ne gin ke bataae to dil hi Duub gayaa
kabhi ye rang tumhaare mujhe bhi azbar the
she'r kahne pe baDi daad mili hai mujh ko
haae afsos ki ash'aar ko samjhaa jaataa
Ghazalغزل
اداس رات کا منظر ہماری آنکھ میں تھا پر ایک خواب برابر ہماری آنکھ میں تھا ٹپک رہے تھے مسلسل ہی آنکھ سے آنسو یہ کس کی یاد کا کنکر ہماری آنکھ میں تھا ہمارے دل میں تسلسل سے رہ نہیں پایا وہ جس کا نقش مکرر ہماری آنکھ میں تھا حسین لمس کی خواہش ہمارے دل میں تھی حسین شخص کا پیکر ہماری آنکھ میں تھا اگرچہ ترک تعلق کو عرصہ بیت گیا مگر وہ شخص برابر ہماری آنکھ میں تھا وہ اب جو غیر کی آنکھوں میں جگمگاتا ہے کبھی وہ شخص میسر ہماری آنکھ میں تھا ہر ایک موج کنارے پہ آ کے روتی تھی عجب طرح کا سمندر ہماری آنکھ میں تھا
udaas raat kaa manzar hamaari aankh mein thaa
بھیڑ تھی حد نظر تک کتنا اونچا شور تھا خامشی بھی چونک اٹھی تھی اچھا خاصا شور تھا مجھ کو ایسا لگ رہا تھا بے حسی کے دور میں لوگ سارے مر گئے تھے اور زندہ شور تھا ایسا پہلی بار ہے یہ دونوں یکجا ہو گئے جتنی پیاری خامشی تھی اتنا پیارا شور تھا کیا بتاؤں میں تمہیں ان جادوئی لمحات میں دیکھتے ہی تم کو دل میں میرے کیسا شور تھا خامشی نے کان میرے بھر دئے تھے اس قدر کوئی چپ ہو جائے تو بھی مجھ کو لگتا شور تھا آگہی و علم کا فن یوں اکٹھا تھا میاں لوگ تھے جتنے زیادہ اتنا تھوڑا شور تھا
bhiiD thi hadd-e-nazar tak kitnaa unchaa shor thaa
بھٹکنے والے کو آخر کہیں پہ گرنا تھا تمہارے در پہ گرا ہوں یہیں پہ گرنا تھا ہوا کے دوش پہ کب تک فضا میں رہتے ہم کماں سے نکلے ہوؤں کو زمیں پہ گرنا تھا تمہاری آنکھ کی وحشت سے لگ رہا تھا ہمیں تمہارا اشک ہماری جبیں پہ گرنا تھا اب اس کی لاش کو ملبے میں ڈھونڈتے کیا ہو مکان خستہ کو اک دن مکیں پہ گرنا تھا نبھانا تھا مجھے کردار اک توازن سے جہاں سنبھلنا تھا مجھ کو وہیں پہ گرنا تھا چراغ جلتا ہے جل جل کے بجھ ہی جاتا ہے تمہاری ہاں کو کسی دن نہیں پہ گرنا تھا
bhaTakne vaale ko aakhir kahin pe girnaa thaa
پھر رات کو مہتاب کا غم چاٹ رہا ہے اور دل کو ترے خواب کا غم چاٹ رہا ہے محسوس کرو بول کے اب کیسے بتائے مچھلی کو بہت آب کا غم چاٹ رہا ہے بھاری ہیں بہت لفظ میاں عشق و ہوس کے الفاظ کو اس باب کا غم چاٹ رہا ہے جس خواب میں دیکھا تھا اسے پہلو میں اپنے اب مجھ کو اسی خواب کا غم چاٹ رہا ہے دیوار کو در کو ہی نہیں ہے ترا شکوہ کھڑکی کو بھی مہتاب کا غم چاٹ رہا ہے مجھ کو ترے حالات کا شکوہ نہیں حسنینؔ مجھ کو ترے اسباب کا غم چاٹ رہا ہے
phir raat ko mahtaab kaa gham chaaT rahaa hai
مرے نصیب میں یوں بھی غمی زیادہ ہے کسی خیال کی مجھ میں کمی زیادہ ہے یہ سرد مہری تری مجھ کو مار ڈالے گی یہ برف پہلے کی نسبت جمی زیادہ ہے میں اس کے ساتھ کبھی مطمئن نہیں ہوتا مرا وہ دوست ہے لیکن ڈمی زیادہ ہے ہمارے ہونٹ نہ دیکھو جو مسکراتے ہیں ہماری آنکھ میں دیکھو نمی زیادہ ہے کسی چراغ کے ڈر سے دبک گئی ہوگی ہوا چلی نہیں اب کے تھمی زیادہ ہے ہزاروں لوگ مرے آس پاس ہیں حسنینؔ مگر نصیب میں اس کی کمی زیادہ ہے
mire nasib mein yuun bhi ghami ziyaada hai
مرا یقین مکمل گماں سے پہلے تھا مرا وجود کہیں تو یہاں سے پہلے تھا وہ اک مقام جو جنت مثال کہلائے زمیں کے بعد مگر آسماں سے پہلے تھا ترس رہے تھے مرے کان آہٹوں کے لیے بہت اداس میں اس کارواں سے پہلے تھا خموشی ایسی کہ جیسے وہ کہہ رہی ہو غزل بیان اس کے لبوں پر بیاں سے پہلے تھا درخت سہمے ہوئے ہیں بہار میں شاید خزاں کا خوف وہاں پر خزاں سے پہلے تھا ابھی تلک جسے بھرنے سے وقت قاصر ہے وہ ایک زخم لگا بھی نشاں سے پہلے تھا
miraa yaqin mukammal gumaan se pahle thaa





