bazm-e-aghyaar mein us ne mujhe daryaaft kiyaa
baad muddat ke use yaad miri aai hai
Mohammad Wilayatullah
Mohammad Wilayatullah
Mohammad Wilayatullah
Popular Shayari
2 totalpae daryaaft asraar-e-haqiqat sab hain sargardaan
falak ke paar lekin aql-e-insaani nahin jaati
Ghazalغزل
ڈرتا ہوں عرض حال سے دھوکا نہ ہو کہیں وہ روٹھ جائیں اور بھی ایسا نہ ہو کہیں کب تک تلاش دل کی کروں اور کہاں کہاں زلفوں میں دیکھ لیجئے الجھا نہ ہو کہیں قاصد مرے مکاں کی طرف سے گیا جو آج ہوتا ہے شک مجھے کہ بلایا نہ ہو کہیں ہو جائے جل کے خاک نہ خود یہ مرا وجود ڈرتا ہوں آہ کا اثر الٹا نہ ہو کہیں دل لے کے اپنے پاس بلائیں وہ کس لئے یہ بھی تو سوچتے ہیں تقاضا نہ ہو کہیں اے شیخ تیری بات کا کیا اعتبار ہو پردے میں اس عبا کے بھی دنیا نہ ہو کہیں مدت ہوئی کہ دل کو قرار و سکوں نہیں پھرتا ہے جیسے اس کا ٹھکانا نہ ہو کہیں ان کا مریض غم ہے کئی دن سے جاں بہ لب وہ دل میں سوچتے ہیں بہانہ نہ ہو کہیں کوئے بتاں میں تیرا گزر ہے جو بار بار اے دل تو ایسی باتوں سے رسوا نہ ہو کہیں حافظؔ کی چشم تر پہ نظر چاہئے ضرور یہ تار اشک دیکھیے دریا نہ ہو کہیں
Dartaa huun arz-e-haal se dhokaa na ho kahin
آشنائے درد تو اے خوگر عشرت نہیں لذت غم کے برابر دوسری لذت نہیں قدر و قیمت دل کی ہے جب تک ہے اس میں موج درد جس میں رنگ و بو اس گل کی کچھ وقعت نہیں نالۂ شب گیر ہو پرجوش ہو طوفان اشک ابر باراں کی بھی اس کے سامنے قیمت نہیں لطف درد دل سے تو ہے بے خبر اے چارہ گر اس جہاں میں اس سے بڑھ کر دوسری نعمت نہیں یہ جگر باقی ہے غم کی میہمانی کے لئے دل سبک خاطر ہے اس میں خون کی رنگت نہیں دل دیا ہے جس کو واعظ ہے ہمیں اس کی تلاش حور جنت سے شناسائی نہیں الفت نہیں دولت دنیائے دوں سرچشمۂ افکار ہے بادشاہی کو فقیری سے کوئی نسبت نہیں زیست میں میری کمی تھی اک غم جاں کاہ کی مل گیا قسمت سے وہ بھی اب کوئی حسرت نہیں ہو گیا افسوس حافظؔ نامراد آرزو ڈھونڈھتا ہے اور کہیں تسکین کی صورت نہیں
aashnaa-e-dard tu ai khugar-e-ishrat nahin
دل میں میرے ہر گھڑی دریائے غم لبریز ہے بات جو منہ سے نکلتی ہے وہ درد آمیز ہے ضبط کرتا ہوں تو بڑھتا ہے مرا سوز دروں اشک سے بھی اپنے ڈرتا ہوں کہ طوفاں خیز ہے پہلے ان آنکھوں سے سیل اشک ہوتا تھا رواں اب وفور غم سے میری چشم تر خوں ریز ہے آرزو تک ہو گئی دل کے لئے بار گراں ناتوانی کے سبب ارماں بھی حسرت خیز ہے ہے عبث سامان فرحت غمزدہ دل کے لئے میرے لب کو خود تبسم سے بڑا پرہیز ہے دن گئے تفریح کے جب سے ہوا دل غم کدہ کیا غرض ہم کو اگر دنیا طرب انگیز ہے اس زمیں پر کر رہا ہے طے مسافت ہر نفس وہ مبارک ہے قدم جس کا سفر میں تیز ہے قلب حافظؔ تا دم آخر نہ پائے گا سکوں جملہ سامان طرب انگیز وحشت خیز ہے
dil mein mere har ghaDi dariyaa-e-gham labrez hai
مکاں میرا ازل سے ڈھونڈھتی پھرتی تھی ویرانی نہایت شوق سے کی دل نے رنج و غم کی مہمانی قرار اس کو نہیں ملتا سنگھار اس کا نہیں بنتا مرے دل سے ترے گیسو نے سیکھی ہے پریشانی خطائے فاش ہے ہم نے جفا کو کیوں جفا سمجھا قیامت تک نہ جائے گی ہماری یہ پشیمانی بتائیں کیا تمہاری اک نہیں سے ہم پہ کیا گزری امیدیں تھیں ہزاروں ہائے جن پر پھر گیا پانی عدو کے قول کی تم نے ہمیشہ پاسداری کی ہماری بات لیکن آج تک اک بھی نہیں مانی نظر آتا ہے آساں سب جسے دشوار کہتے ہیں طریق عشق میں ہر ایک دشواری ہے آسانی مزہ دیتا نہیں حافظؔ رخ و گیسو کا نظارہ مثال آئینہ جب تک نہ ہو آنکھوں میں حیرانی
makaan meraa azal se DhunDhti phirti thi viraani
ہر وقت الجھتا ہے یہ دل زلف دوتا میں سمجھاتا ہوں کم بخت نہ پڑ جا کے بلا میں دیکھو نہ کبھی خوئے ستم اپنی بدلنا ملتا ہے مزا ہم کو بہت جور و جفا میں کس لطف سے ایام گزرتے ہیں ہمارے دن نالہ و فریاد میں شب آہ و بکا میں مٹی ہوئی برباد ترے عشق میں ایسی کچھ خاک کے ذرے نظر آتے ہیں ہوا میں کیوں چل دئے مے خانہ سے اے شیخ ٹھہرنا پوشیدہ نظر آتا ہے کچھ آج عبا میں کہتی ہے یہ توبہ کہ گنہ گار میں بہتر اے دل کبھی بھولے سے بھی پڑنا نہ ریا میں کر دوں شب فرقت کا بیاں حشر میں لیکن ڈرتا ہوں طوالت نہ پڑے روز جزا میں مرنا جسے کہتے ہیں وہ ہے زیست کا آغاز ملتی ہے بقا سب کو اسی راہ فنا میں کس کے لئے اللہ نے جنت کو بنایا بندے تو یہاں رہتے ہیں ہر وقت خطا میں مقبول ہوئی حشر میں گر میری خجالت مل جائے گی جنت بھی گناہوں کی سزا میں واعظ کہے کچھ بھی ہمیں معلوم ہے یا رب سو خلد ہیں پوشیدہ تری ایک رضا میں ہل جاتی ہے دنیا مری فریاد سے حافظؔ تاثیر غضب کی ہے مری آہ رسا میں
har-vaqt ulajhtaa hai ye dil zulf-e-dutaa mein
راز اپنا جو کہہ دیا تو نے دل ناداں یہ کیا کیا تو نے درد دل کی نہ کی دوا تو نے نہ سنی میری التجا تو نے صاف ہے کس قدر یہ داد دست دل دیا میں نے اور لیا تو نے نذر میں نے کیا جو اپنا دل اس کے بدلے میں کیا دیا تو نے ہو عوض یا نہ ہو کرم ہے ترا دل مضطر تو لے لیا تو نے راہ پر مڑ کے کیوں مجھے دیکھا کی محبت کی ابتدا تو نے وعدہ کر کے جو لے لیا واپس اے ستم گر یہ کیوں کیا تو نے نہیں پہلو میں جب قیام و قرار اے خدا کیوں یہ دل دیا تو نے دل لگایا تھا ایک سے حافظؔ اے خدا کیوں کیا جدا تو نے مجھ کو پیدا کیا خدا تو نے اور سب کچھ عطا کیا تو نے تیری رحمت کا کچھ حساب نہیں دی ہے ہر درد کی دوا تو نے کر کے توبہ سنبھل گیا عاصی پھر بھی اس کو بچا لیا تو نے دی ہیں دنیا میں نعمتیں کیا کیا اپنے بندوں کو اے خدا تو نے پہلے بتلا دیا گناہ ہے کیا عفو کی اس کی پھر خطا تو نے دور پھینکا نہ بعد مردن بھی پاس اپنے بلا لیا تو نے رحم تیرا غضب پہ غالب ہے کیوں بنائی سزا جزا تو نے ناز اس نے اٹھائے اے حافظؔ رہ کے دنیا میں کیا کیا تو نے
raaz apnaa jo kah diyaa tu ne





