apni marzi se bhi do-chaar qadam chalne de
zindagi ham tire kahne pe chale hain barson
Mohsin Ummeedi Burhanpuri
Mohsin Ummeedi Burhanpuri
Mohsin Ummeedi Burhanpuri
Popular Shayari
2 totalhusn tanhaa nahin haqdaar vafaa kaa 'mohsin'
ishq ne bhi kaf-e-afsos male hain barson
Ghazalغزل
آپ کے پاس مرے درد کا درماں بھی نہیں خیر فطرت مری منت کش احساں بھی نہیں میرے چہرے سے مرے درد کا اندازہ غلط وہ فسانہ ہوں کہ جس کا کوئی عنواں بھی نہیں کس سے روداد کہوں راہ کی دشواری کی ہم سفر اب تو مری گردش دوراں بھی نہیں میں نے احساس کے بت توڑ دئے ہیں محسنؔ اب مرے سر مرے احباب کا احساں بھی نہیں
aap ke paas mire dard kaa darmaan bhi nahin
وفا خلوص محبت دلوں میں زندہ ہے یہ رسم خاص ابھی مے کدوں میں زندہ ہے یہ بات کہہ دے کوئی موت کے سفیروں سے مرا وجود سلگتے گھروں میں زندہ ہے غرور حسن حدوں سے گزر کے خاک ہوا وقار عشق وفا کی حدوں میں زندہ ہے تھکن تو پاؤں کی منزل پہ سو گئی یارو جلن سفر کی ابھی آبلوں میں زندہ ہے کسی کھنڈر میں تلاشو وفا کو تم محسنؔ یہ خاک اوڑھے ہوئے مقبروں میں زندہ ہے
vafaa khulus mohabbat dilon mein zinda hai
نہ تو چوپال نہ پنگھٹ نہ تو کھیتوں جیسا شہر میں ایک بھی منظر نہیں گاؤں جیسا ان کے چہروں پہ ہے معصوم بہاروں کا سماں سایۂ زلف ہے ساون کی گھٹاؤں جیسا ہم شکایت تری کرتے بھی تو کیسے کرتے تھا جفاؤں کا بھی انداز وفاؤں جیسا دشت در دشت بھٹکتا ہے مقدر کب سے عشق کے پاؤں میں چکر ہے بگولوں جیسا بڑھ گیا اور بھی احساس محبت محسنؔ اس کے ہونٹوں پہ تبسم تھا دعاؤں جیسا
na to chaupaal na panghaT na to kheton jaisaa
ان کے آنے کی آس رہنے دے زندگی کچھ تو پاس رہنے دے عہد رفتہ کا غم رہے تازہ اک شجر بے لباس رہنے دے ہوش آیا تو ٹوٹ جاؤں گا جا مجھے بے قیاس رہنے دے وقت کب آئے اور بھر جائے ہاتھ میں یہ گلاس رہنے دے وہ پلائے مجھے مگر محسنؔ بوند دو بوند پیاس رہنے دے
un ke aane ki aas rahne de
لویں چراغ وفا کی بڑھا کے دیکھتے ہیں ہم اپنا ظرف نظر آزما کے دیکھتے ہیں پھر اپنے دل کو کسی غم میں مبتلا جانو وہ بار بار ادھر مسکرا کے دیکھتے ہیں وہ لوگ جن کو شعور نگاہ حاصل ہے وہ اپنے آپ میں جلوے خدا کے دیکھتے ہیں ضرور اس کے دریچے سے ہو کے آئی ہے جو بدلے بدلے سے تیور صبا کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی ہنسی میں ہے زندگی محسنؔ تو آؤ اس کو ذرا سا ہنسا کے دیکھتے ہیں
lavein charaagh-e-vafaa ki baDhaa ke dekhte hain
سننا چاہوں کبھی حالات سنانا چاہوں اس سے ملنے کے لئے روز بہانا چاہوں کوئی حد ہے مری وحشت مرے پاگل پن کی لمحہ لمحہ شب فرقت کا سہانا چاہوں غم زمانے کے چلے آئیں مہاجر بن کر اپنے اندر میں نیا شہر بسانا چاہوں اس کے کوچے میں بھٹکنے سے بھی محروم ہوں میں راستہ روک لے دنیا جو میں جانا چاہوں سایۂ زلف کی پر کیف فضا میں محسنؔ دو گھڑی چین سے سونے کا بہانا چاہوں
sunnaa chaahun kabhi haalaat sunaanaa chaahun





