kabhi us ki maujon mein aflaak bahte mile hain
kabhi us ko kashti chalaate hue dekhtaa huun

Mumtaz Athar
Mumtaz Athar
Mumtaz Athar
Popular Shayari
7 totalfaqat aankhein charaaghon ki tarah se jal rahi hain
kisi ki dastaras mein hai kahaan koi sitaara
mire khilaaf shahaadat hai mo'tabar sab ki
magar kisi se kisi kaa bayaan nahin miltaa
mujhe daaeron ke hujum mein kahin bhej de
miri vusaton ko davaam kar kaf-e-kuza-gar
'aks rakhtaa thaa na apni zaat mein apnaa koi
kitne chehre aainon ke saamne rakkhe gae
havaa jab kabhi saahili giit chheDe hue ho
main patton ko taali bajaate hue dekhtaa huun
vo paani mein jab apni chhab dekhtaa hai to main bhi
nadi chaandni mein nahaate hue dekhtaa huun
Ghazalغزل
کہیں بھی شہر میں کنج اماں نہیں ملتا کہ آج رابطۂ جسم و جاں نہیں ملتا یہ سوچتا ہوں کہاں سے ہو ابتدا، آخر کہ حرف کوئی پس داستاں نہیں ملتا سمے کی لہر میں غرقاب ہو رہا ہوں میں کہیں پہ ناؤ کہیں بادباں نہیں ملتا تمام عمر کی لا حاصلی عذاب ہوئی وہ مل گیا ہے تو اپنا نشاں نہیں ملتا بتا رہی ہے بگولوں کی ہم رہی مجھ کو پس غبار کوئی کارواں نہیں ملتا مرے خلاف شہادت ہے معتبر سب کی مگر کسی سے کسی کا بیاں نہیں ملتا یہ کیسی ساعتیں سر پر ہیں آج کل اطہرؔ زمیں ملی ہے تو اب آسماں نہیں ملتا
kahin bhi shahr mein kunj-e-amaan nahin miltaa
اک ساعت دزدیدہ و نایاب سے آگے ہے عرصۂ نا خفتہ کوئی خواب سے آگے اک عکس ہے پانی میں فروزاں کسی گل کا اور مسکن گل ہے کہیں تالاب سے آگے لگتا ہے کہ صد مہر لئے اپنے جلو میں چلتا ہے کوئی انجم و مہتاب سے آگے کیا ان کو نظر آتے بھلا خاک میں گوہر گزرے جو نہیں خواہش زرتاب سے آگے سائے ہیں کئی سقف و در و بام کے پیچھے برزخ ہیں کئی منبر و محراب سے آگے آئینہ ہوئی یوں ہمیں لا حاصلی اپنی ہے ریگ رواں قریۂ شاداب سے آگے ہم روکتے کیسے دل خمیازہ طلب کو جانا تھا اسے موجۂ گرداب سے آگے عریانیٔ جاں اپنی ہمیں خوب ہے اطہرؔ ہم لوگ کہ ہیں اطلس و کمخواب سے آگے
ik saa’at-e-duzdida-o-naayaab se aage
دہکتی آگ میں بادل کے اندر بات کرتا ہے کوئی پیاسا مرے جل تھل کے اندر بات کرتا ہے جھلکتا ہے نمو کا اک تسلسل میری مٹی سے کوئی گل رخ نئی کونپل کے اندر بات کرتا ہے ہوا سے ریت کی صورت بکھرتے ہیں مرے پتے کوئی صحرا مرے جنگل کے اندر بات کرتا ہے بہت خاموش رہتا ہے لہو میری وریدوں میں در و دیوار سے مقتل کے اندر بات کرتا ہے بچھا رہتا ہے اک پل کی طرح میرے زمانوں پر گذشتہ پل مرے ہر پل کے اندر بات کرتا ہے سخن کے باب مجھ پر کھولتا ہے شب کی وحشت میں کوئی اطہرؔ بجھی مشعل کے اندر بات کرتا ہے
dahakti aag mein baadal ke andar baat kartaa hai
عجب منظر برائے گفتگو رکھا ہوا تھا چراغ اک آئنے کے روبرو رکھا ہوا تھا زمرد شاخچوں یاقوتی پھولوں نے مسلسل پرندوں کو اسیر رنگ و بو رکھا ہوا تھا دریچے میں ادھر دو نیم باز آنکھیں جڑی تھیں گلی نے آہٹوں کو نرم خود رکھا ہوا تھا منقش طشت میں لمحوں کے سر لائے گئے تھے پیالے میں زمانوں کا لہو رکھا ہوا تھا ادھر جب لشکری اپنی کمانیں کھینچتے تھے ادھر ہاتھوں میں اک تشنہ گلو رکھا ہوا تھا ستارے جس جگہ پانی کے اوپر بہہ رہے تھے بریدہ سر کنار آب جو رکھا ہوا تھا ٹھٹھرتی راکھ میں سیارگاں بے حس پڑے تھے برابر میں جہان ہاؤ ہو رکھا ہوا تھا نئے دن کا ورق خاکستری کرتی رتوں کو کتاب روز و شب نے سرخ رو رکھا ہوا تھا
'ajab manzar baraa-e-guftugu rakkhaa huaa thaa
میں زندگی کے مناظر پہ دھیان دیتا ہوا ہر اک گھڑی ہوں نیا امتحان دیتا ہوا عجیب قریۂ محکوم ہے کہ جس سے میں گزر رہا ہوں مسلسل لگان دیتا ہوا میان کوچۂ بے صوت سے نکلتا ہوں ہجوم گنگ کو اپنی زبان دیتا ہوا ابھی تو اگلے سمے دیکھنا ہے قاتل کو گواہ بنتا ہوا اور بیان دیتا ہوا کسی ہتھیلی پہ رکھا ہو وہ چراغ جو ہے سکوت گنبد شب میں اذان دیتا ہوا سحر کی کھوج میں نکلا ہے پھر لہو اپنا ہر ایک ریزۂ دل کو اڑان دیتا ہوا یہیں سے گزرے گا اطہرؔ لہو لباس کوئی ہر ایک نقش قدم سے نشان دیتا ہوا
main zindagi ke manaazir pe dhyaan detaa huaa
کوئی صورت خط ادراک پر آئی نہیں ہے ابھی تک اپنی مٹی چاک پر آئی نہیں ہے جو موج خوں ہمکتی ہے ازل سے قعر دل میں ابھی تک دیدۂ نمناک پر آئی نہیں ہے مسافت میں ہمارے ہم سفر ٹھہرے بگولے ذرا سی گرد بھی پوشاک پر آئی نہیں ہے اسے قرنوں زمانہ اوڑھ کر پھرتا رہا ہے شکن بھی چادر افلاک پر آئی نہیں ہے سمندر کرب کا یوں تو بہت بپھرا ہوا تھا تھکن لیکن ابھی پیراک پر آئی نہیں ہے گمان ہست کیا ہوتا کہ جب ہم کو یقیں تھا کہ اپنی خاک اب تک خاک پر آئی نہیں ہے در و دیوار پر ویرانیاں قائم ہیں اطہرؔ نمو کی رو وجود تاک پر آئی نہیں ہے
koi surat khat-e-idraak par aai nahin hai





