SHAWORDS
Mumtaz Iqbal

Mumtaz Iqbal

Mumtaz Iqbal

Mumtaz Iqbal

poet
5Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہجر میں کچھ اتنے ہیبت ناک ہو جاتے ہیں ہم جوں ہی خود کو دیکھتے ہیں خاک ہو جاتے ہیں ہم بے سبب اپنی انا کی لاش کرتے ہیں خراب عاشقی میں کس قدر سفاک ہو جاتے ہیں ہم آہ وہ آنکھیں رواں دریا ہیں اور ایسا کہ بس ڈوب کر اچھے بھلے تیراک ہو جاتے ہیں ہم کھلتے ہیں بند قبا جس وقت دوران وصال شوق سے مثل گریباں چاک ہو جاتے ہیں ہم خوب کرتے ہیں جنوں اس کے بدن کے دشت میں پھر جنوں میں شامل ادراک ہو جاتے ہیں ہم وہ ہمیں شربت پلاتا ہے شرابوں کی طرح اس فریب آب میں ناپاک ہو جاتے ہیں ہم

hijr mein kuchh itne haibatnaak ho jaate hain ham

غزل · Ghazal

خشک بہت ہو جاتے ہیں جب ہم صحرا ہو جاتے ہیں صحرا میں بھی آب رسانی کے در وا ہو جاتے ہیں رات میں اس کے در پر روتے روتے مر جاتے ہیں ہم صبح کو وہ قم کہہ دیتا ہے پھر زندہ ہو جاتے ہیں ہم ناپاک رہا کرتے ہیں وصل نہیں کرتے ہیں جب اس کے بدن کے آب میں دھل کر پاکیزہ ہو جاتے ہیں آنکھیں وہ زنداں ہیں جن میں اک چہرہ رہ جاتا ہے روشنی منظر نیندیں آنسو خواب رہا ہو جاتے ہیں مٹی کی تعظیم کرو تو اور تکبر کرتی ہے کنکر پتھر جیسے آدم زاد خدا ہو جاتے ہیں اس کے وصال کا اللہ جانے ہم تو اتنا جانتے ہیں اس کے بدن کی زد میں آ کر وصل زدہ ہو جاتے ہیں

khushk bahut ho jaate hain jab ham sahraa ho jaate hain

غزل · Ghazal

میں بہت دشوار ہوں آسان کر دیجے مجھے فتح کر لیجے مجھے حیران کر دیجے مجھے میں بہت بکھرا پڑا ہوں مجھ کو یکجا کیجیے بس خدا بن کر نیا انسان کر دیجے مجھے آپ اگر اپنا بدن مجھ کو عنایت کیجیے خاک ہوں میں خاک ہی میں سان کر دیجے مجھے بس یہی مرض فراموشی مجھے بھی چاہیے دوڑ کر چھو لیجیے نسیان کر دیجے مجھے پھیلتے رہیے مرے اندر اداسی کی طرح اور اک شب صورت ہذیان کر دیجے مجھے آپ گر ہیں صاف تو اس کی ضرورت ہی نہیں آپ میلے ہیں تو خود کو چھان کر دیجے مجھے روزگار عشق بھی اک کام ہے لیکن حضور آپ اپنے گھر کا اک دربان کر دیجے مجھے میں بڑا دانا بنا پھرتا ہوں میرے زعم کو توڑ کر رکھ دیجیے نادان کر دیجے مجھے

main bahut dushvaar huun aasaan kar diije mujhe

غزل · Ghazal

خوش بہت رہتا ہوں میں تھوڑا سا غم دے دیجیے یار یوں کیجے مجھے لوح و قلم دے دیجیے یاد رکھیے جب مرے عاشق بنیں گے آپ تب حکم ہوگا بس مری چوکھٹ پہ دم دے دیجیے آپ ہیں محبوب اتنی سادگی اچھی نہیں مسکرا کر اک ذرا زلفوں کو خم دے دیجیے آپ جام تشنگی بھر دیجیے اغیار کا اور یوں کیجے ہمیں اوروں سے کم دے دیجیے خشک ہونٹھوں پر مرے رکھ دیجیے آپ اپنے ہونٹھ سیر کر دیجے مرا آب ارم دے دیجیے

khush bahut rahtaa huun main thoDaa saa gham de dijiye

غزل · Ghazal

خاک سے تبدیل ہو کر آب ہو جاتے ہیں ہم اس بدن دریا میں جب غرقاب ہو جاتے ہیں ہم وہ نظر انداز کرتا ہے تو ہو جاتے ہیں گم وہ بلاتا ہے تو پھر پایاب ہو جاتے ہیں ہم لوگ جب تعریف کرتے ہیں تو کھل اٹھتے ہیں اور اس کے چہرے پر بہ شکل آب ہو جاتے ہیں ہم ہم سے اک گرداب کی صورت لپٹ جاتا ہے وہ اور وفور شوق میں سیلاب ہو جاتے ہیں ہم ہے کوئی جادو کہ اکثر اک اسی کی بزم میں جھانکتے ہی صورت آداب ہو جاتے ہیں ہم

khaak se tabdil ho kar aab ho jaate hain ham

Similar Poets