"chalti phirti hui a.ankhon se azaan dekhi hai main ne jannat to nahin dekhi hai maan dekhi hai"

Munawwar Rana
Munawwar Rana
Munawwar Rana
Sherشعر
See all 103 →chalti phirti hui a.ankhon se azaan dekhi hai
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
tumhari ankhon ki tauhin hai zara socho
تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے
ab juda.i ke safar ko mire asan karo
اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو تم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو
so jaate hain fotpath pe akhbar bichha kar
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
is tarah mere gunahon ko vo dho deti hai
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
abhi zinda hai maan meri mujhe kuchh bhi nahin hoga
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
Popular Sher & Shayari & Quotes
212 total"tumhari ankhon ki tauhin hai zara socho tumhara chahne vaala sharab piita hai"
"ab juda.i ke safar ko mire asan karo tum mujhe khvab men aa kar na pareshan karo"
"so jaate hain fotpath pe akhbar bichha kar mazdur kabhi niind ki goli nahin khate"
"is tarah mere gunahon ko vo dho deti hai maan bahut ghusse men hoti hai to ro deti hai"
"abhi zinda hai maan meri mujhe kuchh bhi nahin hoga main ghar se jab nikalta huun dua bhi saath chalti hai"
is tarah mere gunaahon ko vo dho deti hai
maan bahut ghusse mein hoti hai to ro deti hai
ek aansu bhi hukumat ke liye khatra hai
tum ne dekhaa nahin aaankhon kaa samundar honaa
ye soch kar ki tiraa intizaar laazim hai
tamaam umr ghaDi ki taraf nahin dekhaa
phir karbalaa ke baa'd dikhaai nahin diyaa
aisaa koi bhi shakhs ki pyaasaa kahein jise
kal apne-aap ko dekhaa thaa maan ki aankhon mein
ye aaina hamein buDhaa nahin bataataa hai
tumhaari aankhon ki tauhin hai zaraa socho
tumhaaraa chaahne vaalaa sharaab piitaa hai
Ghazalغزل
aisaa lagtaa hai ki kar degaa ab aazaad mujhe
ایسا لگتا ہے کہ کر دے گا اب آزاد مجھے میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے میں ہوں سرحد پہ بنے ایک مکاں کی صورت کب تلک دیکھیے رکھتا ہے وہ آباد مجھے ایک قصے کی طرح وہ تو مجھے بھول گیا اک کہانی کی طرح وہ ہے مگر یاد مجھے کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے میں سمجھ جاتا ہوں اس میں کوئی کمزوری ہے میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے
anaa havas ki dukaanon mein aa ke baiTh gai
انا ہوس کی دکانوں میں آ کے بیٹھ گئی عجیب مینا ہے شکروں میں آ کے بیٹھ گئی جگا رہا ہے زمانہ مگر نہیں کھلتیں کہاں کی نیند ان آنکھوں میں آ کے بیٹھ گئی وہ فاختہ جو مجھے دیکھتے ہی اڑتی تھی بڑے سلیقے سے بچوں میں آ کے بیٹھ گئی تمام تلخیاں ساغر میں رقص کرنے لگیں تمام گرد کتابوں میں آ کے بیٹھ گئی تمام شہر میں موضوع گفتگو ہے یہی کہ شاہزادی غلاموں میں آ کے بیٹھ گئی نہیں تھی دوسری کوئی جگہ بھی چھپنے کی ہماری عمر کھلونوں میں آ کے بیٹھ گئی اٹھو کہ اوس کی بوندیں جگا رہی ہیں تمہیں چلو کہ دھوپ دریچوں میں آ کے بیٹھ گئی چلی تھی دیکھنے سورج کی بد مزاجی کو مگر یہ اوس بھی پھولوں میں آ کے بیٹھ گئی تجھے میں کیسے بتاؤں کہ شام ہوتے ہی اداسی کمرے کے طاقوں میں آ کے بیٹھ گئی
mahfil mein aaj marsiya-khvaani hi kyuun na ho
محفل میں آج مرثیہ خوانی ہی کیوں نہ ہو آنکھوں سے بہنے دیجیے پانی ہی کیوں نہ ہو نشے کا اہتمام سے رشتہ نہیں کوئی پیغام اس کا آئے زبانی ہی کیوں نہ ہو ایسے یہ غم کی رات گزرنا محال ہے کچھ بھی سنا مجھے وہ کہانی ہی کیوں نہ ہو کوئی بھی ساتھ دیتا نہیں عمر بھر یہاں کچھ دن رہے گی ساتھ جوانی ہی کیوں نہ ہو اس تشنگی کی قید سے جیسے بھی ہو نکال پینے کو کچھ بھی چاہیے پانی ہی کیوں نہ ہو دنیا بھی جیسے تاش کے پتوں کا کھیل ہے جوکر کے ساتھ رہتی ہے رانی ہی کیوں نہ ہو تصویر اس کی چاہیے ہر حال میں مجھے پاگل ہو سر پھری ہو دوانی ہی کیوں نہ ہو سونا تو یار سونا ہے چاہے جہاں رہے بیوی ہے پھر بھی بیوی پرانی ہی کیوں نہ ہو اب اپنے گھر میں رہنے نہ دیں گے کسی کو ہم دل سے نکال دیں گے نشانی ہی کیوں نہ ہو
dariyaa-dili se abr-e-karam bhi nahin milaa
دریا دلی سے ابر کرم بھی نہیں ملا لیکن مجھے نصیب سے کم بھی نہیں ملا پھر انگلیوں کو خوں میں ڈبونا پڑا ہمیں جب ہم کو مانگنے پہ قلم بھی نہیں ملا سچ بولنے کی راہ میں تنہا ہمیں ملے اس راستے میں شیخ حرم بھی نہیں ملا میں نے تو ساری عمر نبھائی ہے دوستی وہ مجھ سے کھا کے میری قسم بھی نہیں ملا دل کو خوشی بھی حد سے زیادہ نہیں ملی کاسے کے اعتبار سے غم بھی نہیں ملا
ye but jo ham ne dobaara banaa ke rakkhaa hai
یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہے اسی نے ہم کو تماشا بنا کے رکھا ہے وہ کس طرح ہمیں انعام سے نوازے گا وہ جس نے ہاتھوں کو کاسہ بنا کے رکھا ہے یہاں پہ کوئی بچانے تمہیں نہ آئے گا سمندروں نے جزیرہ بنا کے رکھا ہے تمام عمر کا حاصل ہے یہ ہنر میرا کہ میں نے شیشے کو ہیرا بنا کے رکھا ہے کسے کسے ابھی سجدہ گزار ہونا ہے امیر شہر نے کھاتا بنا کے رکھا ہے میں بچ گیا تو یقیناً یہ معجزہ ہوگا سبھی نے مجھ کو نشانہ بنا کے رکھا ہے کوئی بتا دے یہ سورج کو جا کے ہم نے بھی شجر کو دھوپ میں چھاتا بنا کے رکھا ہے
saari daulat tire qadmon mein paDi lagti hai
ساری دولت ترے قدموں میں پڑی لگتی ہے تو جہاں ہوتا ہے قسمت بھی گڑی لگتی ہے ایسے رویا تھا بچھڑتے ہوئے وہ شخص کبھی جیسے ساون کے مہینے میں جھڑی لگتی ہے ہم بھی اپنے کو بدل ڈالیں گے رفتہ رفتہ ابھی دنیا ہمیں جنت سے بڑی لگتی ہے خوش نما لگتے ہیں دل پر ترے زخموں کے نشاں بیچ دیوار میں جس طرح گھڑی لگتی ہے تو مرے ساتھ اگر ہے تو اندھیرا کیسا رات خود چاند ستاروں سے جڑی لگتی ہے میں رہوں یا نہ رہوں نام رہے گا میرا زندگی عمر میں کچھ مجھ سے بڑی لگتی ہے





