SHAWORDS
Munawwar Rana

Munawwar Rana

Munawwar Rana

Munawwar Rana

poet
103Sher
103Shayari
45Ghazal
6Quotes

Sherشعر

See all 103

Popular Sher & Shayari & Quotes

212 total

Ghazalغزل

See all 45
غزل · Ghazal

aisaa lagtaa hai ki kar degaa ab aazaad mujhe

ایسا لگتا ہے کہ کر دے گا اب آزاد مجھے میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے میں ہوں سرحد پہ بنے ایک مکاں کی صورت کب تلک دیکھیے رکھتا ہے وہ آباد مجھے ایک قصے کی طرح وہ تو مجھے بھول گیا اک کہانی کی طرح وہ ہے مگر یاد مجھے کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے میں سمجھ جاتا ہوں اس میں کوئی کمزوری ہے میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے

غزل · Ghazal

anaa havas ki dukaanon mein aa ke baiTh gai

انا ہوس کی دکانوں میں آ کے بیٹھ گئی عجیب مینا ہے شکروں میں آ کے بیٹھ گئی جگا رہا ہے زمانہ مگر نہیں کھلتیں کہاں کی نیند ان آنکھوں میں آ کے بیٹھ گئی وہ فاختہ جو مجھے دیکھتے ہی اڑتی تھی بڑے سلیقے سے بچوں میں آ کے بیٹھ گئی تمام تلخیاں ساغر میں رقص کرنے لگیں تمام گرد کتابوں میں آ کے بیٹھ گئی تمام شہر میں موضوع گفتگو ہے یہی کہ شاہزادی غلاموں میں آ کے بیٹھ گئی نہیں تھی دوسری کوئی جگہ بھی چھپنے کی ہماری عمر کھلونوں میں آ کے بیٹھ گئی اٹھو کہ اوس کی بوندیں جگا رہی ہیں تمہیں چلو کہ دھوپ دریچوں میں آ کے بیٹھ گئی چلی تھی دیکھنے سورج کی بد مزاجی کو مگر یہ اوس بھی پھولوں میں آ کے بیٹھ گئی تجھے میں کیسے بتاؤں کہ شام ہوتے ہی اداسی کمرے کے طاقوں میں آ کے بیٹھ گئی

غزل · Ghazal

mahfil mein aaj marsiya-khvaani hi kyuun na ho

محفل میں آج مرثیہ خوانی ہی کیوں نہ ہو آنکھوں سے بہنے دیجیے پانی ہی کیوں نہ ہو نشے کا اہتمام سے رشتہ نہیں کوئی پیغام اس کا آئے زبانی ہی کیوں نہ ہو ایسے یہ غم کی رات گزرنا محال ہے کچھ بھی سنا مجھے وہ کہانی ہی کیوں نہ ہو کوئی بھی ساتھ دیتا نہیں عمر بھر یہاں کچھ دن رہے گی ساتھ جوانی ہی کیوں نہ ہو اس تشنگی کی قید سے جیسے بھی ہو نکال پینے کو کچھ بھی چاہیے پانی ہی کیوں نہ ہو دنیا بھی جیسے تاش کے پتوں کا کھیل ہے جوکر کے ساتھ رہتی ہے رانی ہی کیوں نہ ہو تصویر اس کی چاہیے ہر حال میں مجھے پاگل ہو سر پھری ہو دوانی ہی کیوں نہ ہو سونا تو یار سونا ہے چاہے جہاں رہے بیوی ہے پھر بھی بیوی پرانی ہی کیوں نہ ہو اب اپنے گھر میں رہنے نہ دیں گے کسی کو ہم دل سے نکال دیں گے نشانی ہی کیوں نہ ہو

غزل · Ghazal

dariyaa-dili se abr-e-karam bhi nahin milaa

دریا دلی سے ابر کرم بھی نہیں ملا لیکن مجھے نصیب سے کم بھی نہیں ملا پھر انگلیوں کو خوں میں ڈبونا پڑا ہمیں جب ہم کو مانگنے پہ قلم بھی نہیں ملا سچ بولنے کی راہ میں تنہا ہمیں ملے اس راستے میں شیخ حرم بھی نہیں ملا میں نے تو ساری عمر نبھائی ہے دوستی وہ مجھ سے کھا کے میری قسم بھی نہیں ملا دل کو خوشی بھی حد سے زیادہ نہیں ملی کاسے کے اعتبار سے غم بھی نہیں ملا

غزل · Ghazal

ye but jo ham ne dobaara banaa ke rakkhaa hai

یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہے اسی نے ہم کو تماشا بنا کے رکھا ہے وہ کس طرح ہمیں انعام سے نوازے گا وہ جس نے ہاتھوں کو کاسہ بنا کے رکھا ہے یہاں پہ کوئی بچانے تمہیں نہ آئے گا سمندروں نے جزیرہ بنا کے رکھا ہے تمام عمر کا حاصل ہے یہ ہنر میرا کہ میں نے شیشے کو ہیرا بنا کے رکھا ہے کسے کسے ابھی سجدہ گزار ہونا ہے امیر شہر نے کھاتا بنا کے رکھا ہے میں بچ گیا تو یقیناً یہ معجزہ ہوگا سبھی نے مجھ کو نشانہ بنا کے رکھا ہے کوئی بتا دے یہ سورج کو جا کے ہم نے بھی شجر کو دھوپ میں چھاتا بنا کے رکھا ہے

غزل · Ghazal

saari daulat tire qadmon mein paDi lagti hai

ساری دولت ترے قدموں میں پڑی لگتی ہے تو جہاں ہوتا ہے قسمت بھی گڑی لگتی ہے ایسے رویا تھا بچھڑتے ہوئے وہ شخص کبھی جیسے ساون کے مہینے میں جھڑی لگتی ہے ہم بھی اپنے کو بدل ڈالیں گے رفتہ رفتہ ابھی دنیا ہمیں جنت سے بڑی لگتی ہے خوش نما لگتے ہیں دل پر ترے زخموں کے نشاں بیچ دیوار میں جس طرح گھڑی لگتی ہے تو مرے ساتھ اگر ہے تو اندھیرا کیسا رات خود چاند ستاروں سے جڑی لگتی ہے میں رہوں یا نہ رہوں نام رہے گا میرا زندگی عمر میں کچھ مجھ سے بڑی لگتی ہے

Similar Poets