SHAWORDS
Muzaffar Ali Aseer

Muzaffar Ali Aseer

Muzaffar Ali Aseer

Muzaffar Ali Aseer

poet
5Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

تم بات کرو اس سے جو ہو بات کے قابل ہم بات کے قابل نہ ملاقات کے قابل اللہ کی قدرت ہے کہاں غیر کہاں ہم چڑھتی ہیں وہ منہ پر جو نہ تھی بات کے قابل کہہ دو مری تربت میں نکیرین نہ آئیں ہوتا نہیں دیوانہ ملاقات کے قابل کیا ذکر رخ یار کروں تیرہ دلوں سے دن کی یہ کہانی ہے نہیں رات کے قابل زیبا ہے مرا خانۂ دل ہو جو گھر اس کا یہ کعبہ ہے اس قبلۂ حاجات کے قابل شرم آئی ہے ہر چند کہ ہے نقد خرد پاس یہ نذر نہیں پیر خرابات کے قابل خاموش رہے ہم جو گئے دیر و حرم میں دونوں نظر آئے نہ مناجات کے قابل حیرت سے ہے سب برم مرقع ترے آگے کس کا ہے دہن حرف و حکایات کے قابل تو حمد کے قابل ہے ذرا شک نہیں اس میں لیکن ہے کہاں حمد تری ذات کے قابل منہ موڑ گئی تیغ تری عید کے دن بھی شاید مجھے سمجھی نہ ملاقات کے قابل اتنا بھی کلیجہ نہیں غم کو جو کھلاؤں تقدیر نے رکھا نہ مدارات کے قابل تعمیر جو کعبہ کی ہوئی ناف زمیں میں شاید یہ زمیں تھی نہ خرابات کے قابل لائق نہیں جو بات کے ہیں ہم سخن اس سے خاموش وہ بیٹھے ہیں جو ہیں بات کے قابل کرتے ہیں جو وہ فخر دو ابرو پہ بجا ہے حقا کہ یہ مطلع ہے مباہات کے قابل غنچے کو ہے بے جا دہن یار سے دعویٰ چھوٹا سا دہن کب ہے بڑی بات کے قابل ہم محفل جاناں میں اسیرؔ آپ ہی چپ ہیں باتیں وہ بنائیں کہ جو ہوں بات کے قابل

tum baat karo us se jo ho baat ke qaabil

غزل · Ghazal

جانے لگے ہیں اب دم سرد آسماں تلک ٹھنڈی سڑک بنی ہے یہاں سے وہاں تلک جلتے ہیں غم سے جان و دل و سینہ و جگر چاروں طرف ہے آگ بجھاؤں کہاں تلک بیمار ہو گیا ہوں میں قحط شراب سے للہ لے چلو مجھے پیر مغاں تلک مسجد سے دور ہے یہ دکاں مے فروش کی آتی نہیں ہے کان میں بانگ اذاں تلک نکلا جو دم تو راحت و آرام ہے اسیرؔ آوارگی ہے جسم کی روح رواں تلک

jaane lage hain ab dam-e-sard aasmaan talak

غزل · Ghazal

باغ میں پھول کھلے موسم سودا آیا گرم بازار ہوا وقت تماشہ آیا سارباں ناقۂ لیلیٰ کو نہ دوڑا اتنا پاؤں مجنوں کے تھکے ہاتھ ترے کیا آیا ایک نالہ نے مرے کام کئے باغ میں وہ گل کو تپ آئی تو شبنم کو پسینہ آیا رو کے میں نے جو کہا آپ کی ہے چاہ مجھے ہنس کے بولے کہ بڑا چاہنے والا آیا جھاڑ دی گرد جو دامن کی کبھی ہم نے اسیرؔ ہنس کے فرمایا کہ تم کو بھی سلیقہ آیا

baagh mein phuul khile mausam-e-saudaa aayaa

غزل · Ghazal

نہ آئے وہ پہلے توقف کیا موئے ہم تو کیا کیا تأسف کیا ملا زہر اگر ہاتھ سے یار کے اسے نوش جاں بے تکلف کیا مرے کیوں نہ دنیا زلیخا کی طرح خدا نے تمہیں رشک یوسف کیا اگر گنج قاروں بھی ہاتھ آ گیا اسی وقت ہم نے تصرف کیا فقط صوف پوشی پہ پایا مدار جو دریافت حال تصوف کیا مرے گھر میں تشریف لائے جو تم عنایت عنایت تلطف کیا رہا یاد مطلق نہ عہد الست جو وعدہ تھا اس میں تخلف کیا مرے داغ دل کی جو پہنچی ہوا جہنم نے بھی شور اف اف کیا پیا خون دل لقمۂ غم کے ساتھ غذا میں جو ہم نے تکلف کیا معرف ہے اللہ بھی حسن کا کہ قرآن میں ذکر یوسف کیا غلط کیوں نہ دیواں ہو میرا اسیرؔ کہ کاتب نے اس میں تصرف کیا

na aae vo pahle tavaqquf kiyaa

غزل · Ghazal

قاتل ہے تری زلف گرہ گیر کی زنجیر شمشیر کی شمشیر ہے زنجیر کی زنجیر دیوانہ تو میں ہوں کف مشاطہ میں وہ زلف غیروں کو ملی ہے مری تقدیر کی زنجیر بھولے نہیں ہم عالم وحشت میں عبادت چلنے میں صدا دیتی ہے تکبیر کی زنجیر ہے ذکر کسی زلف کا ہر وقت زباں پر ہو کیوں نہ مسلسل مری تقریر کی زنجیر معلوم ہوا آپ کا زر گر ہے مہوس لایا ہے بنا کر زر اکسیر کی زنجیر رحم آ گیا جب کاہکشاں چرخ پہ دیکھی بھاری نظر آئی مجھے اس پیر کی زنجیر رہتی ہے بگڑنے پہ وہی بدعت ظالم ٹوٹی تو بنی آہن شمشیر کی زنجیر ایذا نہیں دیتے مرے پاؤں کو سلاسل جیسے کسی دیوانۂ تصویر کی زنجیر اے آہ کہاں ہے وہ تری قوت بازو توڑے نہ در خانۂ تاثیر کی زنجیر لکھتا ہے قلم بسکہ تری زلف کی تعریف ہر سطر مرے خط میں ہے تحریر کی زنجیر ہوں مجرم الفت مری تعزیر یہی ہے ہو پاؤں میں اس زلف گرہ گیر کی زنجیر اندیشہ اسیرؔ اس لئے ہے مجھ کو اجل سے اوروں کو ملے گی مری تقدیر کی زنجیر

qaatil hai tiri zulf-e-girah-gir ki zanjir

غزل · Ghazal

بلبل کے دل سے اڑ گئی فریاد کی ہوس نکلے نہ نکلی خاطر صیاد کی ہوس تھوڑی سی عمر اور ہو یا رب مجھے عطا رہ جائے آسماں کو نہ بیداد کی ہوس بر آئے کیا مراد نہ چاہے اگر خدا نکلی ارم بنا کے نہ شداد کی ہوس ہر گل بغیر یار ہے گل چیں کا منتظر ہر عندلیب باغ کو صیاد کی ہوس اے چرخ چاہئے کبھی ایسا بھی انقلاب شیریں کو ہو نظارۂ فرہاد کی ہوس سر کو فراق یار میں ہے آرزوئے سنگ گردن کو اپنی خنجر جلاد کی ہوس کہہ دو کہ پائمال کرے میری لاش بھی قاتل کو رہ گئی ہو جو بیداد کی ہوس خواہاں ترے نہ خلد میں جائیں نہ قاف میں ہے حور کی ہوا نہ پری زاد کی ہوس شاعر کو حرص شعر اگر ہو تو کیا عجب کس کو نہیں ہے کثرت اولاد کی ہوس مانند آئنہ ہمہ تن چشم ہے یہ دل ایسی ہے دید حسن خداداد کی ہوس اس گل کی آرزو ہمیں لائی یہاں تلک تھی کس کو سیر گلشن ایجاد کی ہوس ہم قیدیوں کا قید میں کس طرح جی بچے پھیرے چھری جو حلق پہ جلاد کی ہوس کیجے مدد اسیرؔ کی ہنگام نزع ہے یا مرتضیٰ ہے آپ سے امداد کی ہوس

bulbul ke dil se uD gai fariyaad ki havas

Similar Poets