SHAWORDS
Muzammil Abbas Shajar

Muzammil Abbas Shajar

Muzammil Abbas Shajar

Muzammil Abbas Shajar

poet
5Sher
5Shayari
8Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

faraaz-e-daar ko zauq-e-junun talaash kare

فراز دار کو ذوق جنوں تلاش کرے یہ دل کہ تیری نظر کا فسوں تلاش کرے سکون کے لیے پہلے نظر نظر سے ملے نظر ملا کے یہ دل پھر سکوں تلاش کرے کسی نے زہد کیا اور تو کوئی مست ہوا جسے تو یوں نہیں ملتا وہ یوں تلاش کرے لو آج رمز نہاں کو عیاں کروں کہ بشر بروں پہ ثبت ہے تختی دروں تلاش کرے تمام شہر شجر بھیڑیوں کے جیسا ہے ہر ایک پیاس بجھانے کو خوں تلاش کرے

غزل · Ghazal

kab haqiqat vo bhalaa duniyaa mein jaam-e-jam ki hai

کب حقیقت وہ بھلا دنیا میں جام جم کی ہے جو تمہارے میکدے میں میری چشم نم کی ہے میں کسی کے لمس کی تاثیر خود میں بھر تو لوں آبرو لیکن مجھے پیاری تمہارے غم کی ہے زلف کا ہر پیچ الجھاؤ میں ڈالے ہے مگر اصل میں جادوگری تیری کمر کے خم کی ہے دیکھ لیتے ہیں تو بڑھتی ہے طلب کچھ اور بھی گو کہانی سامنے کی زخم پر مرہم کی ہے خاک میں پانی ملا کر آگ پر ہے رکھ دیا اب مجسم کو ضرورت تجھ ہوا کے دم کی ہے رخ پہ آنچل کس لیے یہ اجنبی لہجہ ہے کیوں سرسراہٹ یہ یقیناً ہجر کے پرچم کی ہے چل نہ پائیں گے کسی کے وسوسے مجھ پر شجرؔ پڑھ کر اس کے نام کی تسبیح خود پہ دم کی ہے

غزل · Ghazal

zakhm taaza kiye kuchh aur masihaai ne

زخم تازہ کیے کچھ اور مسیحائی نے پھیر لی آنکھ تماشے سے تماشائی نے دیکھنے والے کا دل ہاتھ پہ لے آئی ہے کیا فسوں پھونک دیا ہے تری انگڑائی نے مسکراؤں تو نمی آنکھ میں آ جاتی ہے یوں اچھالا ہے مجھے درد کی گہرائی نے آہ و زاری کے سوا پاس مرے کچھ بھی نہیں کاٹ کر رکھ دیا مجھ کو مری تنہائی نے خاک میں مل گیا پندار وفا کیا کیجے زخم وہ دل پہ لگایا ہے شناسائی نے

غزل · Ghazal

kahi jo ham ne ghazal ik ghazal ke chehre par

کہی جو ہم نے غزل اک غزل کے چہرے پر چڑھائی تیوری اس نے مچل کے چہرے پر ہمارے شہر میں کچھ دن گزار کر دیکھو اداسی رقص کرے گی اچھل کے چہرے پر بڑھاتا جاؤں گا ہر چند رونق مقتل میں چل پڑا ہوں لہو اپنا مل کے چہرے پر تلاش کرتے ہیں وہ آج اپنے چہرے کو جو پھرتے رہتے تھے چہرے بدل کے چہرے پر خزاں بہار کی مسند پہ آ گئی ہائے نقاب کر لیا اس نے سنبھل کے چہرے پر فضائے مکر نے صحرا کو کر دیا دریا سراب سجنے لگے ہیں رمل کے چہرے پر ادھر مروں گا ادھر مر کے جی اٹھوں گا شجرؔ حیات میں نے پڑھی ہے اجل کے چہرے پر

غزل · Ghazal

ghurur-e-bazm-e-tarab ko nami ne maar diyaa

غرور بزم طرب کو نمی نے مار دیا ہمارے ضبط کو تیری کمی نے مار دیا در نجف سے ذرا اختیار حاصل کر نہ کہہ سکے گا کبھی بے بسی نے مار دیا درون خانۂ ہستی یہ کیسا شور اٹھا بدن میں کال پڑا بیکلی نے مار دیا قلم نے لوح پہ سر رکھ کہ ایسا گریہ کیا غزل نے بین کیے شاعری نے مار دیا دعا جو موت کی مانگی تو یہ جواب ملا نہ مر سکا وہ جسے زندگی نے مار دیا سمجھ رہا تھا اسے حاصل حیات مگر اٹھا حجاب مجھے آگہی نے مار دیا انہیں پہ ہوگی شجرؔ گفتگو زمانے میں کچھ ایسے لوگ جنہیں خامشی نے مار دیا

غزل · Ghazal

aankh se aankh mile ramz khule baat chale

آنکھ سے آنکھ ملے رمز کھلے بات چلے دن نکلنے دو کہ پہلو سے مرے رات چلے تیری چوڑی کی کھنک سے ہوا تسخیر یہ دل تیری آنکھوں کے اشاروں پہ خیالات چلے وہ سحر خیز ہنسی وہ ترا شرما جانا کیسے کیسے مری ہستی پہ طلسمات چلے ذکر کو نیزے کی رفعت پہ سجایا جس نے رہ گیا حق کا وہ مرکز سو مضافات چلے کوئی تخلیق کے اسباب بھی سمجھے نا ذرا ایک نقطے سے عیاں رنگ یہاں سات چلے جب میں تسخیر ترے راز کو کر پایا تو پھر مرے رقص پہ دنیا ترے نغمات چلے مکتب عقل پڑھا پڑھ کے چلا میخانے جب نہ دانائی چلی پھر مرے جذبات چلے پرزے پرزے ہے ترے ہجر میں پیراہن جاں مجھ میں سانسوں کی طرح یوں ترے صدمات چلے لوٹ آئے گی مری سمت شجرؔ ہریالی پھر جو اک بار اسی لمس کی خیرات چلے

Similar Poets