SHAWORDS
Nadeem Ahmad

Nadeem Ahmad

Nadeem ahmad

Nadeem ahmad

poet
6Shayari
8Ghazal

Popular Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

رکنا پڑے گا اور بھی چلنے کے نام پر گرتی رہے گی خلق سنبھلنے کے نام پر پھنستا گیا ہوں اور نکلنے کی سعی میں آفت مزید آئی ہے ٹلنے کے نام پر یہ کیا طلسم ہے کہ ابھرنے کے شوق میں آواز دب گئی ہے نکلنے کے نام پر دل کا شجر تو اور بھی پلنے کی آڑ میں مرجھا گیا ہے پھولنے پھلنے کے نام پر وہ جا چکا ہے اور بدن کے نواح میں اب جم رہی ہے برف پگھلنے کے نام پر بدلے گا کوئی روز نئے پن کے شوق میں یکساں رہے گا کوئی بدلنے کے نام پر معنی کا سبزہ گاہ نظر آ گیا تو پھر بھڑکے گا لفظ شعر میں ڈھلنے کے نام پر

ruknaa paDegaa aur bhi chalne ke naam par

3 views

غزل · Ghazal

ایک تو کاوش جگر بھی کروں اور پھر منت ثمر بھی کروں عشق میں خیر تھا جنوں لازم اب کوئی دوسرا ہنر بھی کروں سوچتا ہوں ترے تعاقب میں خود کو رسوائے بال و پر بھی کروں پہلے بن مانگے زندگی دے دی اور پھر شرط ہے بسر بھی کروں شعر لکھوں بھی اور لوگوں میں شاعری اپنی مشتہر بھی کروں لفظ و معنی کا جبر جھیلوں بھی اور پھر خود کو معتبر بھی کروں کام کچھ بے سبب بھی کر ڈالوں اور کچھ کام سوچ کر بھی کروں

ek to kaavish-e-jigar bhi karun

2 views

غزل · Ghazal

خاک اطراف میں اڑتی ہے بہت پانی دے اس مسافت کو بھی ایک خطۂ بارانی دے کچھ دنوں دشت بھی آباد ہوا چاہتا ہے کچھ دنوں کے لیے اب شہر کو ویرانی دے یا مجھے مملکت عشق کی شاہی سے نواز یا مجھے پھر سے وہی بے سر و سامانی دے میری دانائی نے رکھا نہ کہیں کا مجھ کو میرے مولا تو مجھے پھر وہی نادانی دے اب کہانی کو بھی الجھا ذرا افسانہ طراز شوق کچھ اور بڑھا آنکھ کو حیرانی دے

khaak atraaf mein uDti hai bahut paani de

1 views

غزل · Ghazal

مری نظر کو در و بام پر لگایا ہوا ہے چلو کسی نے مجھے کام پر لگایا ہوا ہے وہ اور ہوں گے جو صحرا میں پا بہ جولاں ہیں مجھے تو شہر نے احکام پر لگایا ہوا ہے اگر وہ آیا تو اس بار صبح مانوں گا بہت دنوں سے مجھے شام پر لگایا ہوا ہے کبھی تو لگتا ہے یہ عذر لنگ ہے ورنہ مجھے تو کفر نے اسلام پر لگایا ہوا ہے وہ اور لوگ ہیں جو اس کے پاس بیٹھے ہیں ہمیں تو اس نے کسی کام پر لگایا ہوا ہے

miri nazar ko dar-o-baam par lagaayaa huaa hai

1 views

غزل · Ghazal

پانے کی طرح کا نہ تو کھونے کی طرح کا ہونا بھی یہاں پر ہے نہ ہونے کی طرح کا معلوم نہیں نیند کسے کہتے ہیں لیکن کرتا تو ہوں اک کام میں سونے کی طرح کا ہنسنے کی طرح کا کوئی موسم مرے باہر منظر مرے اندر کوئی رونے کی طرح کا ایسی کوئی حالت ہے کہ مدت سے بدن کو اک مرحلہ درپیش ہے ڈھونے کی طرح کا پہلے کی طرح آدمی ملتا تو ہے لیکن آدھے کی طرح کا کبھی پونے کی طرح کا

paane ki tarah kaa na to khone ki tarah kaa

1 views

غزل · Ghazal

منہ اندھیرے ہی کوئی گھر سے نکلتا ہوا تھا ایک منظر تھا کہ منظر سے نکلتا ہوا تھا ایک خلقت کہ نہ ہونے میں پھنسی جاتی تھی اور میں ہونے کے چکر سے نکلتا ہوا تھا کچھ تو وہ خود ہی چلا آیا تھا باہر باہر اور کچھ میں بھی اب اندر سے نکلتا ہوا تھا خوب روشن سی کوئی چیز مرے سامنے تھی اور دھواں تھا کہ مرے سر سے نکلتا ہوا تھا مدتوں یوں ہی تہ بال چلے آتے تھے آسماں تھا کہ مرے پر سے نکلتا ہوا تھا

munh-andhere hi koi ghar se nikaltaa huaa thaa

1 views

Similar Poets