SHAWORDS
Naeem Raza Bhatti

Naeem Raza Bhatti

Naeem Raza Bhatti

Naeem Raza Bhatti

poet
5Sher
5Shayari
9Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

jis se falak paDegi dil-e-paaemaal mein

جس سے فلک پڑے گی دل پائمال میں وہ کہکشاں نہیں ہے ترے خد و خال میں وہ رات میری نیند کا قضیہ اٹھا نہ دے دن کاٹتا ہوں اب میں اسی احتمال میں خوابیدگی کی تاب ابھاروں گا شعر میں تیرا جمال اونگھ رہا ہے خیال میں اب گیلی لکڑیوں کا بہانہ فضول ہے دن بھر سے آگ گھوم رہی ہے جلال میں یعنی یہ جسم اپنی کھنک سے کھڑا ہوا یا اختیار آب سے اترا سفال میں

غزل · Ghazal

us ne bhi khud ko be-kanaar kiyaa

اس نے بھی خود کو بے کنار کیا جس کا ساحل نے انتظار کیا آئنے میں سلگ رہا تھا لہو پھر بھی حیرت کا دل شمار کیا کورا ہونے سے پیشتر میں نے ایک اک رنگ اختیار کیا میری دیوانگی بھروسہ رکھ میں نے پانی کو بھی غبار کیا میں کہیں بھی پہنچ نہیں پایا کیونکہ سائے کو رہ گزار کیا تم بھی مصروف ہو رہے ہو رضاؔ تم نے بھی عشق اختیار کیا

غزل · Ghazal

koi pal ji uThe agar ham bhi

کوئی پل جی اٹھے اگر ہم بھی دم نہ لے پائے گا یہاں دم بھی کار بے کار کا اثاثہ ہے مجھ سے بے جان کے سوا غم بھی کیا مرے بس میں کچھ نہیں رکھا غیب سے آئے گا اگر نم بھی جس جگہ اپنی بے بسی ہنس دے خاک کر پائے گا وہاں رم بھی اپنی بے اعتدالیوں کے سبب میں اگر بڑھ گیا ہوا کم بھی

غزل · Ghazal

vahm hai hast bhi niist bhi vahm hai

وہم ہے ہست بھی نیست بھی وہم ہے دین و دنیا کی ہر اک گلی وہم ہے کیسی آواز ہے کان پھٹ جائیں گے ہے بھی یا یہ مرا دائمی وہم ہے یہ تماشائے علم و ہنر دوستو کچھ نہیں ہے فقط کاغذی وہم ہے کھینچ لی ہے کماں میں نے اظہار کی اب ذرا پھر کہو زندگی وہم ہے اتنا حساس ہوں جتنا کوئی نہیں مان لو نہ رضاؔ آخری وہم ہے

غزل · Ghazal

hai talkh-tar hayaat is sharaab se

ہے تلخ تر حیات اس شراب سے تو عشق ہار دے گا اجتناب سے کہانیاں دہک رہی ہیں رات کی بدن الجھ رہے ہیں ماہتاب سے خدائے خواب خیمہ زن تھا آنکھ میں سو دل چٹخ رہا تھا اضطراب سے میں روشنی کے بیج بو کے سو گیا چراغ اگ رہے ہیں کشت خواب سے رفو گرو ہم ایسے خستہ تن یہاں ادھڑ ادھڑ کے آئیں گے سراب سے رضاؔ یہ خوشبوؤں کا ذائقہ نہیں جو رس رہا ہے جسم کے گلاب سے

غزل · Ghazal

dil-e-durvesh ki duaa se uThaa

دل درویش کی دعا سے اٹھا یہ ہیولیٰ سا جو ہوا سے اٹھا جسم الجھا مگر تھکن اتری پر جو اک کرب نہروا سے اٹھا نشۂ خواب بعد میں اترا پہلے خوشنودئی ولا سے اٹھا شہر سر مست میں شفق اتری اور منظر کوئی ورا سے اٹھا اس کو میں انقلاب کہتا ہوں یہ جو انکار کی فضا سے اٹھا

Similar Poets