"naam mera sunte hi sharma ga.e tum ne to khud aap ko rusva kiya"

Naseem Dehlvi
Naseem Dehlvi
Naseem Dehlvi
Sherشعر
See all 52 →naam mera sunte hi sharma ga.e
نام میرا سنتے ہی شرما گئے تم نے تو خود آپ کو رسوا کیا
ankhon men hai lihaz tabassum-fiza hain lab
آنکھوں میں ہے لحاظ تبسم فزا ہیں لب شکر خدا کے آج تو کچھ راہ پر ہیں آپ
kufr-o-din ke qa.ede donon ada ho ja.enge
کفر و دیں کے قاعدے دونوں ادا ہو جائیں گے ذبح وہ کافر کرے منہ سے کہیں تکبیر ہم
sailab-e-chashm-e-tar se zamana kharab hai
سیلاب چشم تر سے زمانہ خراب ہے شکوے کہاں کہاں ہیں مرے آب دیدہ کے
rabt-e-baham ke maze baham rahen to khuub hain
ربط باہم کے مزے باہم رہیں تو خوب ہیں یاد رکھنا جان جاں گر میں نہیں تو تو نہیں
vo jis raste se nikle dekh lena
وہ جس رستے سے نکلے دیکھ لینا کہ اس رستے میں پھر رستا نہ ہوگا
Popular Sher & Shayari
104 total"ankhon men hai lihaz tabassum-fiza hain lab shukr-e-khuda ke aaj to kuchh raah par hain aap"
"kufr-o-din ke qa.ede donon ada ho ja.enge zab.h vo kafir kare munh se kahen takbir ham"
"sailab-e-chashm-e-tar se zamana kharab hai shikve kahan kahan hain mire ab-dida ke"
"rabt-e-baham ke maze baham rahen to khuub hain yaad rakhna jan-e-jan gar main nahin to tu nahin"
"vo jis raste se nikle dekh lena ki us raste men phir rasta na hoga"
aankhon mein hai lihaaz tabassum-fizaa hain lab
shukr-e-khudaa ke aaj to kuchh raah par hain aap
sailaab-e-chashm-e-tar se zamaana kharaab hai
shikve kahaan kahaan hain mire aab-dida ke
rabt-e-baaham ke maze baaham rahein to khuub hain
yaad rakhnaa jaan-e-jaan gar main nahin to tu nahin
kaaba nahin hai zaahid-e-ghaafil nishaan-e-dost
dil DhunD aashiqon kaa yahi hai makaan-e-dost
kyaa us haraam-khor ko juz murda hai nasib
aayaa na munh mein gor ke luqma halaal kaa
naam meraa sunte hi sharmaa gae
tum ne to khud aap ko rusvaa kiyaa
Ghazalغزل
shikaayat ke evaz ham shukr karte hain sanam tere
شکایت کے عوض ہم شکر کرتے ہیں صنم تیرے مزا دینے لگے کچھ سہتے سہتے اب ستم تیرے نہ پوچھ اب مجھ سے تو میری امیدوں کی یہ صورت ہے کہ ہیں بھی اور نہیں بھی جس طرح پر لطف کم تیرے جدھر تو نے کیا رخ زیر پا میرا تصور تھا نہ باور ہو تو دیکھ آنکھوں میں ہیں نقش قدم تیرے لب جاں بخش جاناں کب اجازت دیں گے مرنے کی قیامت تک نہ دیکھیں گے قدم خواب عدم تیرے نہیں رکھتا کوئی سرمایہ اعمال پاس اپنے بھروسے کے لئے عاشق کے کافی ہیں کرم تیرے تمنا غیر کی کرنا خلاف رسم الفت ہے میں احسان اجل کیوں لوں نہیں ہیں کیا ستم تیرے ذرا دیکھیں تو کیوں کر دم نکل جاتا ہے صدموں سے فراق دل ربا آج امتحاں کرتے ہیں ہم تیرے مجھے بھولے نہیں پاس محبت اس کو کہتے ہیں شب وصلت میں بھی ہیں دوری جاناں کرم تیرے ہجوم بے خودی میں اے نسیمؔ اب پاس معنی کیا اجازت دے برا اچھا لکھیں جو کچھ قلم تیرے
havas ye rah gai dil mein ki muddaaa na milaa
ہوس یہ رہ گئی دل میں کہ مدعا نہ ملا بہت جہان میں ڈھونڈھا پر آشنا نہ ملا ہوا ہے کون سا معشوق با وفا اے دل گلا عبث ہے اگر وہ ملا ملا نہ ملا عجیب قسمت بد تھی شب فراق میں ہم کمال ڈھونڈھ پھرے خانۂ قضا نہ ملا نہ دے تو ہاتھ سے ہوں ضعف سے میں رنگ حنا ہواے شوق فنا میں جہاں اڑا نہ ملا جواب دے گی بھلا روز باز پرس تو کیا اڑا اڑا کے ہمیں خاک میں صبا نہ ملا وہ کشتہ نگہ قہر تھا کہ محشر میں مرے جلانے کو احکام دل ربا نہ ملا غریق بحر ستم عمر کی ہوئی کشتی بہت سا ہم نے پکارا پہ نا خدا نہ ملا کمال و عیش و جوانی و ملک و مال و طرب یہ سب ملے ہمیں پر یار با وفا نہ ملا عجیب جوش جنوں میں ہوئی تھی پامالی کہ ایک آبلہ تک دوست دار پا نہ ملا چبھے ہزار تمنا سے کیوں نہ بے کھٹکے کہ خار کو کوئی ہم سا برہنہ پا نہ ملا بہت سی کرتے رہے باغ دہر میں گل گشت پر اپنے بلبل دل کو نسیمؔ سا نہ ملا
dekh o qaatil basar karte hain kis mushkil se ham
دیکھ او قاتل بسر کرتے ہیں کس مشکل سے ہم چارہ گر سے درد نالاں درد سے دل دل سے ہم ہائے کیا بے خود کیا ہے غفلت امید نے حال دل کہتے ہیں اپنا پھر اسی قاتل سے ہم رشک اعدا نے کیے روشن بدن میں استخواں شمع محفل ہو کے اٹھے آپ کی محفل سے ہم اس کو کہتے ہیں وفاداری کہ بعد از قتل بھی داغ خوں ہو کر نہ چھوٹے دامن قاتل سے ہم طول تھی راہ عدم گھبرا کے سوئے قبر میں پاؤں پھیلائے تھکے جب دورئ منزل سے ہم جسم روشن سے نظر آتے ہیں جلوے روح کے حسن لیلیٰ دیکھتے ہیں پردۂ محمل سے ہم خالی از احساں نہیں یہ بھی کہ وقت اضطراب خوش تو ہو جاتے ہیں تیرے وعدۂ باطل سے ہم آؤ آپس میں سمجھ لیں غیر کاہے کو سنے تم کہو دل سے ہمارے کچھ تمہارے دل سے ہم سن کے رو دیتے ہیں اکثر صورت زخم جگر آپ شرماتے ہیں اپنے خندۂ باطل سے ہم رشک ہے حسرت پہ اس کی دل میں آتا ہے یہی اپنے قالب کو بدل لیں قالب بسمل سے ہم سینۂ دل میں ہجوم داغ حسرت ہے نسیمؔ پھول چن لیتے ہیں اپنے گلشن حاصل سے ہم
shikaayat se gharaz kyaa muddaaa kyaa
شکایت سے غرض کیا مدعا کیا نہیں تو دوست دشمن کا گلا کیا نہ آیا نامہ بر گھبرا رہا ہوں نہیں معلوم کیا گزری ہوا کیا بہت اچھی نہایت خوب گزری اجی آفت زدوں کا پوچھنا کیا نہ دو مجھ کو مبارک باد بے سود بری تقدیر والوں کا بھلا کیا یہ کیوں چتون پھری کیوں آنکھ بدلی بھلا میں نے قصور ایسا کیا کیا کب اس کوچے میں ٹھہرے گی مری خاک نہ ہوگا کوئی احسان ہوا کیا امید اس سے غلط سمجھا یہ او دل ستم گر سے تمنائے وفا کیا بڑھا کر ہاتھ لیں ان کو یہ مشکل نصیب ایسے مبارک پھر دعا کیا نہ گھبراؤ اجی کروٹ نہ بدلو ارادے ہیں ابھی خاطر میں کیا کیا یہ کب تک پارسائی عاشقوں سے محبت ہے تو پھر ہم سے حیا کیا جگر پانی ہے صدموں سے لہو دل مرے سینے میں او ظالم رہا کیا کیا ہوتا کوئی احساں تو ظالم کریں گے شکر تیرا ہم ادا کیا نہیں ممکن کہ تجھ کو رحم آئے وہ میں کیا اور میری التجا کیا معاذ اللہ گر ہے نوجوانی رہو گے عمر بھر تم پارسا کیا کہاں ہے درد دل میں جو کہو ہائے مزا دے گا ہمارا ماجرا کیا کسے دیکھا کہ بھولا آپ کو بھی تعجب ہے یہ مجھ کو ہو گیا کیا نسیمؔ آؤ ذرا تم بھی سنو تو یہ چرچا ہو رہا ہے جا بہ جا کیا
alfaaz-o-maaani ki karvaT jo badalte hain
الفاظ و معانی کی کروٹ جو بدلتے ہیں پہلو مرے مطلب کے پہلو سے نکلتے ہیں شکل اور بدلتی ہے جب شکل بدلتے ہیں ہم صورت اشک اکثر بے پاؤں بھی چلتے ہیں کچھ زور نہیں چلتا جب زور نہیں چلتا وہ دل کی طرح میرے قابو سے نکلتے ہیں فصل آئی ہے یہ کیسی کس جوش پہ ہے مستی بو دیتے ہیں گل مے کی ہم عطر جو ملتے ہیں
zargar-o-haddaad khush hon vo karein tadbir ham
زرگر و حداد خوش ہوں وہ کریں تدبیر ہم طوق زر تم پہنو پہنیں آہنی زنجیر ہم اور دیوانوں سے رکھتے ہیں ذرا توقیر ہم ڈالتے ہیں آپ اپنے پاؤں میں زنجیر ہم کفر و دیں کے قاعدے دونوں ادا ہو جائیں گے ذبح وہ کافر کرے منہ سے کہیں تکبیر ہم یوں ہی خوش کرتے ہیں دل اپنا امید وصل میں کھینچتے ہیں ایک جا اپنی تری تصویر ہم آ گیا جس دن خیال جوشش دیوانگی چاک کر ڈالیں گے اپنا نامۂ تقدیر ہم سن تو او ظالم بھلا یہ بھی کوئی انصاف ہے لائق الطاف اعدا قابل تعزیر ہم وصل میرے ان کے ہوگا کچھ اب اس میں شک نہیں کہہ دو آمیں دے چکے اس خواب کی تعبیر ہم روز کا جھگڑا اٹھائے کون کر لیتے ہیں آج امتحان کاوش قاتل تہ شمشیر ہم کیوں نہ مستغنی رہیں فضل خدا سے اے نسیمؔ رکھتے ہیں ملک سخن کی واقعی جاگیر ہم





