"adavaten thin, taghaful thaa, ranjishen thiin bahut bichhaDne vaale men sab kuchh thaa, bevafa.i na thi"

Naseer Turabi
Naseer Turabi
Naseer Turabi
Sherشعر
See all 20 →adavaten thin, taghaful thaa, ranjishen thiin bahut
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
shahr men kis se sukhan rakhiye kidhar ko chaliye
شہر میں کس سے سخن رکھیے کدھر کو چلیے اتنی تنہائی تو گھر میں بھی ہے گھر کو چلیے
kuchh roz nasir aao chalo ghar men raha jaa.e
کچھ روز نصیر آؤ چلو گھر میں رہا جائے لوگوں کو یہ شکوہ ہے کہ گھر پر نہیں ملتا
vo ham-safar tha magar us se ham-nava.i na thi
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
bichhaDte vaqt un ankhon men thi hamari ghazal
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی
milne ki tarah mujh se vo pal bhar nahin milta
ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا دل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتا
Popular Sher & Shayari
40 total"shahr men kis se sukhan rakhiye kidhar ko chaliye itni tanha.i to ghar men bhi hai ghar ko chaliye"
"kuchh roz nasir aao chalo ghar men raha jaa.e logon ko ye shikva hai ki ghar par nahin milta"
"vo ham-safar tha magar us se ham-nava.i na thi ki dhuup chhanv ka aalam raha juda.i na thi"
"bichhaDte vaqt un ankhon men thi hamari ghazal ghazal bhi vo jo kisi ko abhi suna.i na thi"
"milne ki tarah mujh se vo pal bhar nahin milta dil us se mila jis se muqaddar nahin milta"
kuchh roz nasir aao chalo ghar mein rahaa jaae
logon ko ye shikva hai ki ghar par nahin miltaa
vo ham-safar thaa magar us se ham-navaai na thi
ki dhuup chhaanv kaa aalam rahaa judaai na thi
bichhaDte vaqt un aankhon mein thi hamaari ghazal
ghazal bhi vo jo kisi ko abhi sunaai na thi
is kaDi dhuup mein saaya kar ke
tu kahaan hai mujhe tanhaa kar ke
aaj ki raat ujaale mire ham-saaya hain
aaj ki raat jo so luun to nayaa ho jaaun
milne ki tarah mujh se vo pal bhar nahin miltaa
dil us se milaa jis se muqaddar nahin miltaa
Ghazalغزل
tujhe kyaa khabar mire be-khabar miraa silsila koi aur hai
تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے جو مجھی کو مجھ سے بہم کرے وہ گریز پا کوئی اور ہے مرے موسموں کے بھی طور تھے مرے برگ و بار ہی اور تھے مگر اب روش ہے الگ کوئی مگر اب ہوا کوئی اور ہے یہی شہر شہر قرار ہے تو دل شکستہ کی خیر ہو مری آس ہے کسی اور سے مجھے پوچھتا کوئی اور ہے یہ وہ ماجرائے فراق ہے جو محبتوں سے نہ کھل سکا کہ محبتوں ہی کے درمیاں سبب جفا کوئی اور ہے ہیں محبتوں کی امانتیں یہی ہجرتیں یہی قربتیں دیے بام و در کسی اور نے تو رہا بسا کوئی اور ہے یہ فضا کے رنگ کھلے کھلے اسی پیش و پس کے ہیں سلسلے ابھی خوش نوا کوئی اور تھا ابھی پر کشا کوئی اور ہے دل زود رنج نہ کر گلہ کسی گرم و سرد رقیب کا رخ ناسزا تو ہے روبرو پس ناسزا کوئی اور ہے بہت آئے ہمدم و چارہ گر جو نمود و نام کے ہو گئے جو زوال غم کا بھی غم کرے وہ خوش آشنا کوئی اور ہے یہ نصیرؔ شام سپردگی کی اداس اداس سی روشنی بہ کنار گل ذرا دیکھنا یہ تمہی ہو یا کوئی اور ہے
dekh lete hain ab us baam ko aate jaate
دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے یہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتے دل کے سب نقش تھے ہاتھوں کی لکیروں جیسے نقش پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے تھی کبھی راہ جو ہمراہ گزرنے والی اب حذر ہوتا ہے اس راہ سے آتے جاتے شہر بے مہر! کبھی ہم کو بھی مہلت دیتا اک دیا ہم بھی کسی رخ سے جلاتے جاتے پارۂ ابر گریزاں تھے کہ موسم اپنے دور بھی رہتے مگر پاس بھی آتے جاتے ہر گھڑی ایک جدا غم ہے جدائی اس کی غم کی میعاد بھی وہ لے گیا جاتے جاتے اس کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔ اتنے آئے تھے تو آواز لگاتے جاتے
vo be-vafaa hai to kyaa mat kaho buraa us ko
وہ بے وفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کو نظر نہ آئے تو اس کی تلاش میں رہنا کہیں ملے تو پلٹ کر نہ دیکھنا اس کو وہ سادہ خو تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کو وہ اپنے بارے میں کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کو میں بھی نہ دیکھوں تو دیکھنا اس کو ابھی سے جانا بھی کیا اس کی کم خیالی پر ابھی تو اور بہت ہوگا سوچنا اس کو اسے یہ دھن کہ مجھے کم سے کم اداس رکھے مری دعا کہ خدا دے یہ حوصلہ اس کو پناہ ڈھونڈ رہی ہے شب گرفتہ دلاں کوئی بتاؤ مرے گھر کا راستہ اس کو غزل میں تذکرہ اس کا نہ کر نصیرؔ کہ اب بھلا چکا وہ تجھے تو بھی بھول جا اس کو
dard ki dhuup se chehre ko nikhar jaanaa thaa
درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا آئنہ دیکھنے والے تجھے مر جانا تھا راہ میں ایسے نقوش کف پا بھی آئے میں نے دانستہ جنہیں گرد سفر جانا تھا وہم و ادراک کے ہر موڑ پہ سوچا میں نے تو کہاں ہے مرے ہم راہ اگر جانا تھا آگہی زخم نظارہ نہ بنی تھی جب تک میں نے ہر شخص کو محبوب نظر جانا تھا قربتیں ریت کی دیوار ہیں گر سکتی ہیں مجھ کو خود اپنے ہی سائے میں ٹھہر جانا تھا تو کہ وہ تیز ہوا جس کی تمنا بے سود میں کہ وہ خاک جسے خود ہی بکھر جانا تھا آنکھ ویران سہی پھر بھی اندھیروں کو نصیرؔ روشنی بن کے مرے دل میں اتر جانا تھا
milne ki tarah mujh se vo pal bhar nahin miltaa
ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا دل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتا یہ راہ تمنا ہے یہاں دیکھ کے چلنا اس راہ میں سر ملتے ہیں پتھر نہیں ملتا ہم رنگیٔ موسم کے طلب گار نہ ہوتے سایہ بھی تو قامت کے برابر نہیں ملتا کہنے کو غم ہجر بڑا دشمن جاں ہے پر دوست بھی اس دوست سے بہتر نہیں ملتا کچھ روز نصیرؔ آؤ چلو گھر میں رہا جائے لوگوں کو یہ شکوہ ہے کہ گھر پر نہیں ملتا
diyaa saa dil ke kharaabe mein jal rahaa hai miyaan
دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں دیے کے گرد کوئی عکس چل رہا ہے میاں یہ روح رقص چراغاں ہے اپنے حلقے میں یہ جسم سایہ ہے اور سایہ ڈھل رہا ہے میاں یہ آنکھ پردہ ہے اک گردش تحیر کا یہ دل نہیں ہے بگولہ اچھل رہا ہے میاں کبھی کسی کا گزرنا کبھی ٹھہر جانا مرے سکوت میں کیا کیا خلل رہا ہے میاں کسی کی راہ میں افلاک زیر پا ہوتے یہاں تو پاؤں سے صحرا نکل رہا ہے میاں ہجوم شوخ میں یہ دل ہی بے غرض نکلا چلو کوئی تو حریفانہ چل رہا ہے میاں تجھے ابھی سے پڑی ہے کہ فیصلہ ہو جائے نہ جانے کب سے یہاں وقت ٹل رہا ہے میاں طبیعتوں ہی کے ملنے سے تھا مزہ باقی سو وہ مزہ بھی کہاں آج کل رہا ہے میاں غموں کی فصل میں جس غم کو رائیگاں سمجھے خوشی تو یہ ہے کہ وہ غم بھی پھل رہا ہے میاں لکھا نصیرؔ نے ہر رنگ میں سفید و سیاہ مگر جو حرف لہو میں مچل رہا ہے میاں





