SHAWORDS
Nasir Amrohvi

Nasir Amrohvi

Nasir Amrohvi

Nasir Amrohvi

poet
2Sher
2Shayari
22Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

tanhaaiyon mein shor-e-qayaamat bapaa hai khair

تنہائیوں میں شور قیامت بپا ہے خیر کس کی کمی ہے یاد نہیں آ رہا ہے خیر لازم ہے ہم کو دیکھنا جو کچھ فلک دکھائے اک بے وفا کے ہونٹوں پہ لفظ وفا ہے خیر تجھ سے بچھڑ کے زیست کا امکان ہی نہیں تو چھوڑ جان جاں یہ مرا مسئلہ ہے خیر خون جگر نے سرخ کیا دست ناز کو ان کو یہ لگ رہا ہے کہ رنگ حنا ہے خیر وہ آئنے کو دیکھتے ہیں آئنہ انہیں اک آئنے کے سامنے اک آئنہ ہے خیر تجھ کو تو خوب خوب ہے میرے دکھوں کا علم تو تو مری حیات میں شامل رہا ہے خیر ناصرؔ کمال شعر میں دعویٰ نہیں مگر جو کچھ تھا میرے دل میں وہ سب کہہ دیا ہے خیر

غزل · Ghazal

kisi ke hijr mein shab bhar udaas rahnaa hai

کسی کے ہجر میں شب بھر اداس رہنا ہے سو مجھ کو صبح تلک محو یاس رہنا ہے یہ حال ہے کہ تری دید کو ترستا ہوں میں سوچتا تھا مجھے تیرے پاس رہنا ہے تمہارے لاکھ دلاسے بھی رائیگاں ہوں گے اس ایک شخص کو تا عمر اداس رہنا ہے یہ زیست تیرے ستم کی رہین ہے جاناں ترے فراق کو اس کی اساس رہنا ہے سو بزم یار میں جا کر غزل سنائیں گے نگاہ ناز میں ہم کو تو خاص رہنا ہے یہ اور بات کہ دریا سے دوستی ہے مری لکھا ہوا مری قسمت میں پیاس رہنا ہے جنون عشق میں بے جا ہے فکر عریانی خیال یار کو میرا لباس رہنا ہے

غزل · Ghazal

badli hui dildaar nazar dekh rahe hain

بدلی ہوئی دل دار نظر دیکھ رہے ہیں دیکھی نہیں جاتی ہے مگر دیکھ رہے ہیں کچھ لوگوں کی نظروں میں مری آبلہ پائی کچھ لوگ مرا عزم سفر دیکھ رہے ہیں ہے سامنے ان کے میرے ہونٹوں پہ تبسم لیکن وہ مرا دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں یوں دیکھتے رہنے میں بصارت ہی گنوا دی پر اب بھی تری راہ گزر دیکھ رہے ہیں اک میں کہ فقط ان کی طرف دیکھ رہا ہوں اک وہ ہیں کہ رب جانے کدھر دیکھ رہے ہیں پہلے تو مرے ہاتھ قلم کر دئے اور اب حیرت سے مرا کار ہنر دیکھ رہے ہیں ناصرؔ ترے شانوں پہ ترے چاہنے والے یہ بھی تو غنیمت ہے کہ سر دیکھ رہے ہیں

غزل · Ghazal

ye soch rakhaa hai koi shikva nahin karungaa

یہ سوچ رکھا ہے کوئی شکوہ نہیں کروں گا میں اپنی غیرت مزید رسوا نہیں کروں گا مری وفائیں ترے رویے پہ منحصر ہیں وفا کروں گا مگر یہ وعدہ نہیں کروں گا نہیں سناؤں گا اب گلابوں کو تیرا قصہ میں تتلیوں سے بھی تیرا چرچا نہیں کروں گا وہ اک مسیحا جو ساری بستی کا چارہ گر ہے وہ مجھ سے کہتا ہے تجھ کو اچھا نہیں کروں گا تم اب کے مجھ کو جو راستے میں کہیں ملو گے تو دیکھ لینا کوئی اشارہ نہیں کروں گا بڑی امیدوں سے میں نے پوچھا وفا کرو گے بڑے تفاخر سے مجھ سے بولا نہیں کروں گا کسی کے ڈر سے میں جان ناصرؔ کو دوست کہہ دوں معاف کیجے گا ہرگز ایسا نہیں کروں گا

غزل · Ghazal

khayaal-e-jaanaan utar rahaa hai dil-e-hazin par

خیال جاناں اتر رہا ہے دل حزیں پر ہے آسماں کا نزول یعنی مری زمیں پر میں لاکھ روٹھوں اسے منانے کا ڈھب پتہ ہے بس ایک بوسہ حسیں لبوں کا مری جبیں پر جہاں پہ ہم دونوں پچھلی سردی میں مل چکے ہیں رکھے ہیں اب بھی گلاب سوکھے ہوئے وہیں پر میں اس کی خاطر جنوں کی حد سے گزر گیا ہوں خدا کی بندی ہے اب بھی قائم نہیں نہیں پر نہ جانے کتنی حسین آنکھیں مری طرف ہیں مگر یہ آنکھیں ٹکی ہیں اس ایک نازنیں پر ہماری غزلوں میں یوں تو سب کچھ ہی نارمل ہے بس آنسوؤں کے نشاں ملیں گے کہیں کہیں پر نہ شہرتوں کی بلندیوں پر گمان کرنا پلٹ کے آنا پڑے گا اک دن تمہیں زمیں پر

غزل · Ghazal

aaj aavaaza-e-haq kis ko sunaai degaa

آج آوازۂ حق کس کو سنائی دے گا سچ تو بس وہ ہے جو اندھوں کو دکھائی دے گا دور حاضر میں کہاں کس کی رگوں میں سرخی کون ہاتھوں کو ترے رنگ حنائی دے گا غیر ہیں سب مری میت کو اٹھانے والے میں نے سوچا تھا کہ کاندھا مرا بھائی دے گا اب کہاں خون کے رشتوں کا بھرم ہے باقی کون اس دور میں رشتوں کی دہائی دے گا ہے زمانے میں برائی کا چلن کچھ ایسا ہر برا شخص ہر اچھے کو برائی دے گا تیری یادیں تری باتیں تری غزلیں ناصرؔ بعد تیرے بھی ترا ذکر سنائی دے گا

Similar Poets