SHAWORDS
Navin C. Chaturvedi

Navin C. Chaturvedi

Navin C. Chaturvedi

Navin C. Chaturvedi

poet
11Sher
11Shayari
13Ghazal

Sherشعر

See all 11

Popular Sher & Shayari

22 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

kitni baar bataaun tujh ko kaisaa lagtaa hai

کتنی بار بتاؤں تجھ کو کیسا لگتا ہے تجھ سے ملنا باتیں کرنا اچھا لگتا ہے نتھنی سے اوپر پلکوں سے نیچے گھونگھٹ رکھ مجھ کو آدھا چاند بہت ہی پیارا لگتا ہے صدیوں سے ہے یوں ہی تر و تازہ اور خوشبو دار کیسے کہہ دوں عشق گلابوں جیسا لگتا ہے آنسو کا قطرہ کھارا ہی ہوتا ہے لیکن تجھ کو دیکھ کر چھلکے ہے تو میٹھا لگتا ہے کہاں ترا اپنا پن اور کہاں میرے احسان پربت ہو کر بھی میرا قد بونا لگتا ہے اب بھی دل والوں کی بزمیں سجتی ہیں لیکن پہلے میلے لگتے تھے اب مجمع لگتا ہے

غزل · Ghazal

aur to apni qismat mein kyaa likkhaa hai

اور تو اپنی قسمت میں کیا لکھا ہے تیرے نام کی مالا جپنا لکھا ہے کب تک میرا نام چھپائے گی سب سے ہیر ترے چہرہ پر رانجھا لکھا ہے اگر نہیں میں تو پھر اس کا نام بتا جس کی قسمت میں مے خانہ لکھا ہے پڑھنے والے پڑھ کر چپ ہو جاتے ہیں کورے کاغذ پر جانے کیا لکھا ہے کوئی بھی یگ ہو کوئی بھی افسانہ عاشق کی تقدیر میں رونا لکھا ہے

غزل · Ghazal

ham vahi naadaan hain jo khvaabon ko dhar kar taak par

ہم وہی ناداں ہیں جو خوابوں کو دھر کر تاک پر جاگتے ہی روز رکھ دیتا ہے خود کو چاک پر دل وہ دریا ہے جسے موسم بھی کرتا ہے تباہ کس طرح الزام دھر دیں ہم کسی تیراک پر ہم تو اس کے ذہن کی عریانیوں پر مر مٹے داد اگرچہ دے رہے ہیں جسم اور پوشاک پر ہم بخوبی جانتے ہیں بس ہمارے جاتے ہی کیسے کیسے گل کھلیں گے اس بدن کی خاک پر بات اور بیوہار ہی سے جان سکتے ہیں اسے علم کی املا لکھی جاتی نہیں پوشاک پر

غزل · Ghazal

ghanimat se guzaaraa kar rahaa huun

غنیمت سے گزارا کر رہا ہوں مگر چرچا ہے جلسہ کر رہا ہوں زمانے تجھ سے توبہ کر رہا ہوں بدن کا رنگ نیلا کر رہا ہوں ٹھہرنا تک نہیں سیکھا ابھی تک ازل سے وقت ضائع کر رہا ہوں تسلی آج بھی ہے فاصلوں پر سرابوں کا ہی پیچھا کر رہا ہوں مرا سایہ مرے بس میں نہیں ہے مگر دنیا پہ دعویٰ کر رہا ہوں

غزل · Ghazal

hairat-angez huaa chaahti hai

حیرت انگیز ہوا چاہتی ہے آہ زرخیز ہوا چاہتی ہے اپنی تھوڑی سی دھنک دے بھی دے رات رنگ ریز ہوا چاہتی ہے آب جو دیکھ ترے ہوتے ہوئے آگ آمیز ہوا چاہتی ہے بس پیالہ ہی طلب گار نہیں مے بھی لبریز ہوا چاہتی ہے روشنی تجھ سے بھلا کیا پرہیز تو ہی پرہیز ہوا چاہتی ہے

غزل · Ghazal

tamaam khushk dayaaron ko aab detaa thaa

تمام خشک دیاروں کو آب دیتا تھا ہمارا دل بھی کبھی آسمان جیسا تھا عجیب لگتی ہے محنت کشوں کی بد حالی یہاں تلک تو مقدر کو ہار جانا تھا نئے سفر کا ہر اک موڑ بھی نیا تھا مگر ہر ایک موڑ پہ کوئی صدائیں دیتا تھا بغیر پوچھے مرے سر میں بھر دیا مذہب میں روکتا بھی تو کیسے کہ میں تو بچہ تھا کوئی بھی شکل ابھرنا محال تھا یارو ہمارے سایہ کے اوپر شجر کا سایہ تھا تمام عمر خود اپنے پہ ظلم ڈھاتے رہے محبتوں کا اثر تھا کہ کوئی نشہ تھا بڑا سکون ملا اس سے بات کر کے ہمیں وہ شخص جیسے کسی جھیل کا کنارہ تھا بس ایک وار میں دنیا نے کر دیے ٹکڑے مری طرح سے مرا عشق بھی نہتا تھا علاوہ اس کے مجھے اور کچھ ملال نہیں وہ مان جائے گا اس بات کا بھروسہ تھا

Similar Poets