SHAWORDS
Naz Butt

Naz Butt

Naz Butt

Naz Butt

poet
1Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

حریص خواہش لعل و گہر نہیں ہوئی میں محبتوں میں طلب گار زر نہیں ہوئی میں ترا خیال رہا دل کی دھڑکنوں کے قریں سو تیرے غم سے کبھی بے خبر نہیں ہوئی میں سجایا خود کو وفا کے سنگھار سے میں نے اسی سبب سے کبھی بے ہنر نہیں ہوئی میں کسی کو کیسے بتاتی میں منزلوں کا پتہ جب اپنے ساتھ شریک سفر نہیں ہوئی میں خدائے حسن ازل نے مجھے نوازا ہے خمار عشق سے صرف نظر نہیں ہوئی میں ہے اس کا دعویٰ کہ میں اس کی زندگی ہوں نازؔ وہ کیا کرے گا کسی دن اگر نہیں ہوئی میں

haris-e-khvaahish-e-laal-o-guhar nahin hui main

غزل · Ghazal

میں اس میں عکس طلب اپنا ڈھونڈھتی ہی رہی مگر وہ چشم محبت کہ اجنبی ہی رہی وہ اک چراغ جو اس لمس نے جلایا تھا مرے بدن میں سدا اس کی روشنی ہی رہی قرار پایا نہیں تیرے قرب میں بھی مگر تجھے گنوا کے بھی اس دل میں بے کلی ہی رہی گو مختصر تھے بہت تیرے وصل کے لمحے تمام عمر ترے غم سے دوستی ہی رہی خدا نہیں تو مگر عمر بھر محبت میں ترے حضور جبین وفا جھکی ہی رہی

main us mein aks-e-talab apnaa DhunDhti hi rahi

غزل · Ghazal

چمن سا دشت تا حد نظر کتنا حسیں ہے تو میرا ہم قدم ہے تو سفر کتنا حسیں ہے مری جانب لپکتی منزلوں سے پوچھ لینا کسی کے ساتھ چلنے کا ہنر کتنا حسیں ہے وہ میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے میرا ہو کر دعائے نیم شب کا یہ اثر کتنا حسیں ہے زہے قسمت کہ سایہ دار بھی ہے با ثمر بھی مرے سر پر محبت کا شجر کتنا حسیں ہے عجب خواب آشنا آنکھیں ہوئی ہیں وصل کی شب کھلی ہے آنکھ تو رنگ سحر کتنا حسیں ہے میں ہنستی کھیلتی ہوں جس کے خواب نارسا میں مرا احساس حسرت ہے مگر کتنا حسیں ہے نہیں ہے نازؔ کم جنت سے میرا آشیانہ محبت سے مزین میرا گھر کتنا حسیں ہے

chaman saa dasht taa-hadd-e-nazar kitnaa hasin hai

غزل · Ghazal

دل و نگاہ کی حیرت میں رہ گئے ہیں ہم خمار خواب کی لذت میں رہ گئے ہیں ہم چرا کے لے گئی دنیائے پرف فریب اس کو اور اپنی سادہ طبیعت میں رہ گئے ہیں ہم ہمیں تو کھینچ رہا تھا سفر تری جانب بس اس جہاں کی روایت میں رہ گئے ہیں ہم وہ دیکھتا ہے کہ جیسے نہ ہم کو دیکھا ہو اس آئنے کی شرارت میں رہ گئے ہیں ہم ہمیں تلاش رہا تھا وصال کا لمحہ کسی کے ہجر کی ساعت میں رہ گئے ہیں ہم ہوا کے ساتھ کہاں تک گلاب جا سکتے بکھر کے راہ محبت میں رہ گئے ہیں ہم وہ اپنے خواب کے ہم راہ جا چکا ہے ناز اکیلے اپنی حقیقت میں رہ گئے ہیں ہم

dil-o-nigaah ki hairat main rah gae hain ham

غزل · Ghazal

کچھ اس ادا سے ہمیں غم گسار ملتے ہیں ہزار زخم پس اعتبار ملتے ہیں شب فراق کی وحشت نہ پوچھئے ہم سے ہم اپنے ہجر سے دیوانہ وار ملتے ہیں یہ شہر زخم فروشاں ہے ہائے کیا کیجے کہ پائے گل بھی یہاں خار خار ملتے ہیں وہ جن کی کوکھ میں شوق خرد پنپتا ہے وہ ولولے بھی جنوں کا شکار ملتے ہیں سجا کے رکھتے ہیں جن کو چمک کی خواہش میں وہ آئنے بھی ہمیں داغدار ملتے ہیں ہمیں انہی سے توقع ہے نازؔ منزل کی جو راستے ہمیں بن کر غبار ملتے ہیں

kuchh is adaa se hamein gham-gusaar milte hain

غزل · Ghazal

پہلے دکھ درد کئی دل میں سنبھالے میں نے پھر کیا خود کو ترے غم کے حوالے میں نے کیوں کھلے تجھ پہ سفر میں تھی عزیت کیسی کب دکھائے ہیں تجھے روح کے چھالے میں نے تو نے ہر گام جو بخشے ہیں اندھیرے مجھ کو ان اندھیروں میں ترے خواب اجالے میں نے تیری تصویر مرے پاس تھی یعنی تو تھا دن ترے ہجر کے اس خواب میں ٹالے میں نے تیرے غم سے کیا دنیا کے غموں کا چارہ یعنی اک خار سے سب خار نکالے میں نے شہر والوں نے انہیں ابر کرم سمجھا ناز اپنے آنسو جو ہواؤں میں اچھالے میں نے

pahle dukh dard kai dil mein sambhaale main ne

Similar Poets