das bachchon ke abbaa hain magar hai yahi khvaahish
har vaqt hi baiThi rahe lailaa mire aage

Nazar Barni
Nazar Barni
Nazar Barni
Popular Shayari
6 totalab bach ke kahaan jaae har ik samt hai divaar
biivi mire pichhe hai to bachcha mire aage
kisi ko de ke ''vote'' apnaa navaa-sanj-e-fughaan kyuun ho?
jo sar khaali ho ''bheje'' se to phir munh mein zabaan kyuun ho?
hai bajaa kaam ki chori mein to mashhur hain ham
peT rishvat se jo bharte hain to majbur hain ham
''qafas mein mujh se rudaad-e-chaman kahte na Dar hamdam''
chalaa hai jis pe ''bulldozer'' vo meraa hi makaan kyuun ho?
'nazar' ne un ko jab dekhaa to daddy saath the un ke
hamaare darmiyaan har vaqt vo pir-e-mughaan kyuun ho?
Ghazalغزل
حسن کو بے نقاب ہونے دو عشق کو کامیاب ہونے دو زیست غرق شراب ہونے دو ہر حقیقت کو خواب ہونے دو طور و موسیٰ سے ماورا ہیں ہم راز کا سد باب ہونے دو دیکھنا ہے ابھی حیات کو جشن اک نیا انقلاب ہونے دو میں بلا نوش و بادہ خوار سہی میری ہستی خراب ہونے دو آج کی شب تو ان کی محفل میں عشق کو باریاب ہونے دو ملتفت کوئی ہو رہا ہے نظرؔ لطف اور بے حساب ہونے دو
husn ko be-naqaab hone do
ہے اب تو حسیناؤں کا حلقہ مرے آگے سلمیٰ مرے پیچھے ہے زلیخا میرے آگے بیوی کے لیے کیا کوئی قانون نہیں ہے ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے ہر بھانت کی عورت ہے مرے خواب کی تعبیر ٹن ٹن مرے پیچھے ہے تو ریکھا مرے آگے اب بچ کے کہاں جائیے ہر سمت ہے دیوار بیوی مرے پیچھے ہے تو بچہ مرے آگے بے پردہ وہ کالج میں تو پھرتی ہیں برابر اوڑھا مرے محبوب نے برقعہ مرے آگے دھنوان ہے سسرال یہی میری سزا ہے ہر وقت ہی بیوی کا ہے ڈنڈا مرے آگے کیوں مجھ کو منسٹری سے ہٹانے پہ تلے ہو رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے کھا کھا کے دوائیں میں جواں رہتا ہوں ہر دم لگتا ہے مرا لڑکا بھی ابا مرے آگے دس بچوں کے ابا ہیں مگر ہے یہی خواہش ہر وقت ہی بیٹھی رہے لیلیٰ مرے آگے میں اب کے الیکشن میں گنوا بیٹھا ضمانت ڈوبا مری قسمت کا ستارہ مرے آگے اب وہ بھی تو کہنے لگے مجھ کو نظرؔ انکل نکلا ہے مرادوں کا جنازہ مرے آگے
hai ab to hasinaaon kaa halqa mire aage
وہی بیگم کی خوں خواری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے وہی دیرینہ بیماری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے وہی ٹر ٹر وہی خفگی وہی غمزے وہی عشوے وہی طعنوں کی بیماری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے بڑھاپے میں بھی ان کو شوق ہیں عہد جوانی کے لپ اسٹک کی خریداری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے وہی ہے روٹھنا ان کا وہی میکے کی ہی دھمکی وہی ذلت وہی خواری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے کبھی ہے ساس کا رونا کبھی نندوں سے ہے جھگڑا زباں ہے اس کی دودھاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے فقط اپنے ہی میکے کی کیا کرتی ہیں تعریفیں مری اماں سے بیزاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ادب کا ڈاکٹر بن کر ملا کیا ہم غریبوں کو غریبی اور بیکاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ہوئی شادی ہوئے بچے نظرؔ کا حال ہے پتلا وہی اب بھی ہے لاچاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے
vahi begam ki khun-khvaari jo pahle thi so ab bhi hai
بڑھاپے میں بھی ان میں عشق کا امکان باقی ہے رٹائر ہو گئے پھر بھی بدن میں جان باقی ہے نہ کرسی ہے نہ عہدہ ہے نہ اب پہچان باقی ہے صفایا ہو گیا مضمون کا عنوان باقی ہے کنارے پر کھڑا محبوب چلاتا رہا پھر بھی بھنور میں اپنی کشتی ہے ابھی طوفان باقی ہے سیاست میں سیاست داں نہیں کرسی ضروری ہے نہیں ملتے اسے گاہک مگر دوکان باقی ہے زباں کھلوا نہیں سکتا کسی قیمت پہ وہ ہم سے اگر منہ میں بنارس کا ذرا سا پان باقی ہے وہ ہیں مقروض سر تا پا مگر دعوت کھلاتے ہیں زمیں داری کی ان میں آج تک کچھ آن باقی ہے نظرؔ تعلیم کے پیشہ میں ہم کنگال رہتے تھے سیاست کا ہمارے واسطے میدان باقی ہے
buDhaape mein bhi in mein 'ishq kaa imkaan baaqi hai
کسی کو دے کے ووٹ اپنا نواسنج فغاں کیوں ہو جو سر خالی ہو بھیجے سے تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو ہمارے لیڈروں كا کامیابی کا یہ نکتہ ہے جو کرنا ہے رکھو دل میں وہ پبلک میں بیاں کیوں ہو کہا صیاد نے پر نوچ کر صحن گلستاں میں گھٹن ہو لاکھ سینے میں مگر آہ و فغاں کیوں ہو بڑھاپے میں بھی کر ڈالی ہے تو نے تیسری شادی ذرا انصاف سے کہہ دے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم چلا ہے جس پہ بلڈوزر وہ میرا ہی مکاں کیوں ہو قطب سے کود جاؤں گا اگر مرنا ہی ٹھہرا ہے تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو وہ کہتا ہے کہ امریکہ کو لیٹن نے بسایا تھا ہو جب استاد ہی جاہل تو میرا امتحاں کیوں ہو نظرؔ نے ان کو جب دیکھا تو ڈیڈی ساتھ تھے ان کے ہمارے درمیاں ہر وقت وہ پیر مغاں کیوں ہو
kisi ko de ke vote apnaa navaa-sanj-e-fughaan kyon ho
اپنے اشکوں کی یہ برسات کسے پیش کروں شب فرقت کی یہ سوغات کسے پیش کروں غم دوراں کی شکایت غم جاناں کا گلا اف یہ پیچیدہ خیالات کسے پیش کروں کون پوچھے گا مرے حال فسردہ کا مزاج غم دوراں کی حکایات کسے پیش کروں زیست کو تلخ بناتے ہیں جو ہر دم میری الجھے الجھے وہ سوالات کسے پیش کروں منتشر ہو گیا شیرازۂ الفت افسوس دل کے بکھرے ہوئے ذرات کسے پیش کروں غم کی تشہیر سے ہو جاتی ہے توہین وفا اس اذیت کے حسابات کسے پیش کروں چن کے اشعار غزل کے میں سناؤں کس کو دل سے امڈے ہوئے نغمات کسے پیش کروں آج بھی وہ تو نظر آتے ہیں مائل بہ ستم اور پھر شوق کے جذبات کسے پیش کروں
apne ashkon ki ye barsaat kise pesh karun





