isi khayaal mein har shaam-e-intizaar kaTi
vo aa rahe hain vo aae vo aae jaate hain

Nazar Hyderabadi
Nazar Hyderabadi
Nazar Hyderabadi
Popular Shayari
2 totalis chashm-e-siyah-mast pe gesu hain pareshaan
mai-khaane pe ghanghor ghaTaa khel rahi hai
Ghazalغزل
شہر آلام کا شہریار آ گیا سر برہنہ مرا تاجدار آ گیا صبح خنداں لئے روئے تاباں لئے شام غربت ترا غم گسار آ گیا صبر ارزاں ہوا جبر لرزاں ہوا صاحب شان صد اختیار آ گیا نالہ کارو اٹھو سوگوارو اٹھو بے قرارو کوئی بے قرار آ گیا کائنات اپنی ہے اب حیات اپنی ہے غم کشو غم زدو غم گسار آ گیا تازہ اب غم نہ کر خم کو اب خم نہ کر ساقیا حاصل انتظار آ گیا جام چھلکا دیا شعلہ بھڑکا دیا یاد آخر زلیخا کا پیار آ گیا رات کھلنے لگی چاندنی دھل گئی ماہ وش مہ شکن مہ شعار آ گیا زخم پنہاں مہک طائر جاں لہک گل بدن گل جبیں گل عذار آ گیا بات کیوں روک لی آنکھ کیوں نم ہوئی مجھ کو دیکھو مجھے اعتبار آ گیا آپ سوچیں نظرؔ کس لئے مست ہے آپ کے ساتھ ابر بہار آ گیا
shahr-e-aalaam kaa shahryaar aa gayaa
فغاں کے ساتھ ترے راحت قرار چلے نوا گران وفا ہمتوں کو ہار چلے یہ کیا کہ پھول کھلے اور زخم رسنے لگے ملے سکوں بھی اگر باد نوبہار چلے یہ ملتفت سی نگاہیں فروغ جام کے ساتھ چلے یہ دور چلے اور بار بار چلے ہزار برہمیٔ زلف یار بھی دیکھی تجھے تو کاکل گیتی مگر سنوار چلے خیال و علم کا بھی مول تول ہوتا ہے ہمارے عہد میں کیا کیا نہ کاروبار چلے حیات ساتھ چلی کائنات ساتھ چلی عجیب شان سے کچھ لوگ سوئے دار چلے وہی تو تھے کبھی چشم و چراغ محفل غم جو بے قرار سے اٹھے جو اشک بار چلے تھکے تھکے سے قدم اور طویل راہ حیات مسافران عدم بوجھ سا اتار چلے زمین فیض ستارے لٹا رہی ہے نظرؔ یہ کیا کہ آپ یہاں سے بھی سوگوار چلے
fughaan ke saath tire raahat-e-qaraar chale
دل محو تماشائے لب بام نہیں ہے پیغام بہ اندازۂ پیغام نہیں ہے اے جان گراں سیر ترا رہبر و رہزن ہے کون اگر وقت سبک گام نہیں ہے جو تیرے دیار رخ و کاکل میں نہ گزرے وہ صبح نہیں ہے وہ مری شام نہیں ہے اس پرسش حالات کے انداز کے قرباں کس طرح کہوں میں مجھے آرام نہیں ہے کیا بات ہے اے تلخئ آزار محبت فہرست شہیداں میں مرا نام نہیں ہے مے خانے میں اور شورش ایام در آئے افسوس کہ ہاتھوں میں مرے جام نہیں ہے اکثر لب شاعر سے جو سنتا ہے زمانہ وہ زیست کی آواز ہے الہام نہیں ہے اے مست مے شوق سنبھال اپنے سبو کو دنیا ہے یہ خم خانۂ خیام نہیں ہے اک طرفہ تماشا ہے نظرؔ تیری طبیعت شاعر بھی ہے اور شہر میں بدنام نہیں ہے
dil mahv-e-tamaashaa-e-lab-e-baam nahin hai
کس توقع پہ شریک غم یاراں ہوں گے یاد ہم کس کو بھلا اے دل ناداں ہوں گے رونق بزم بہت اب بھی سخنداں ہوں گے ان میں کیا ہم سے بھی کچھ سوختہ ساماں ہوں گے ہم پہ جو بیت گئے بیت گئی بیت گئی کیا کہیں آپ سنیں گے تو پشیماں ہوں گے یاد اک غم ہے کہ فریاد فسوں ہے کہ جنوں درد کے رشتے ہیں مشکل سے نمایاں ہوں گے تھم گئے اشک کہ آنکھوں میں چمک لوٹ آئے یہ دیے شام ڈھلے گی تو فروزاں ہوں گے یاس کی رات میں ہر آس نے دم توڑ دیا جانے کب صبح کے آثار نمایاں ہوں گے تو سلامت کہ تری بزم میں اے ارض وطن زندگی ہے تو کبھی ہم بھی غزل خواں ہوں گے ہاں کبھی تو نظر آئیں گے نظرؔ وہ گلیاں جن میں خورشید کئی اب بھی خراماں ہوں گے
kis tavaqqoa pe sharik-e-gham-e-yaaraan honge





