"apne andaz-e-takallum ko badal de varna mera lahja bhi tire saath badal sakta hai"

Nazim Barelvi
Nazim Barelvi
Nazim Barelvi
Sherشعر
apne andaz-e-takallum ko badal de varna
اپنے انداز تکلم کو بدل دے ورنہ میرا لہجہ بھی ترے ساتھ بدل سکتا ہے
sha.eri to vardat-e-qalb ki rudad hai
شاعری تو واردات قلب کی روداد ہے قافیہ پیمائی کو میں شاعری کیسے کہوں
ga.e mausam ka ik piila sa patta shakh par rah kar
گئے موسم کا اک پیلا سا پتا شاخ پر رہ کر نہ جانے کیا بتانا چاہتا ہے ان بہاروں کو
Popular Sher & Shayari
6 total"sha.eri to vardat-e-qalb ki rudad hai qafiya-paima.i ko main sha.eri kaise kahun"
"ga.e mausam ka ik piila sa patta shakh par rah kar na jaane kya batana chahta hai in baharon ko"
gae mausam kaa ik piilaa saa pattaa shaakh par rah kar
na jaane kyaa bataanaa chaahtaa hai in bahaaron ko
apne andaaz-e-takallum ko badal de varna
meraa lahja bhi tire saath badal saktaa hai
shaaeri to vaardaat-e-qalb ki rudaad hai
qaafiya-paimaai ko main shaaeri kaise kahun
Ghazalغزل
ashk chashm-e-but-e-be-jaan se nikal saktaa hai
اشک چشم بت بے جاں سے نکل سکتا ہے آہ پر سوز سے پتھر بھی پگھل سکتا ہے اپنے انداز تکلم کو بدل دے ورنہ میرا لہجہ بھی ترے ساتھ بدل سکتا ہے لوگ کہتے تھے کہ پھلتا نہیں نفرت کا شجر ہم کو لگتا ہے کہ اس دور میں پھل سکتا ہے میرے سینے میں محبت کی تپش باقی ہے میری سانسوں سے ترا حسن پگھل سکتا ہے چاند کی چاہ میں اڑتے ہوئے پنچھی کی طرح دل بھی ناداں ہے کسی شے پہ مچل سکتا ہے جذبۂ عشق سے روشن ہے مرا دل ناظمؔ یہ دیا تیز ہواؤں میں بھی جل سکتا ہے
sunaa di kis ne rudaad-e-gham-e-dil kohsaaron ko
سنا دی کس نے روداد غم دل کوہساروں کو میں اکثر سوچتا ہوں دیکھ کر ان آبشاروں کو گئے موسم کا اک پیلا سا پتا شاخ پر رہ کر نہ جانے کیا بتانا چاہتا ہے ان بہاروں کو چلے آؤ نہ روکے گا غبار راہ اب تم کو کہ پر نم کر دیا اشکوں سے میں نے رہ گزاروں کو سمجھ پائے ہیں ان کو اور نہ سمجھیں گے خرد والے دل عاشق سمجھ لیتا ہے جن مبہم اشاروں کو خبر نامے کی سرخی میں انہیں کا ذکر تھا ناظمؔ بتائے تھے جو میں نے راز اپنے راز داروں کو
kyaa hai mere dil ki haalat vaaqai kaise kahun
کیا ہے میرے دل کی حالت واقعی کیسے کہوں کیوں ہے میری آنکھ میں اتنی نمی کیسے کہوں میری اک اک سانس پہ حق ہے مرے اللہ کا میں بھلا اس زندگی کو آپ کی کیسے کہوں کون ہے میرا مخالف کس نے کی ہے مخبری جانتا ہوں میں بتاؤں گا ابھی کیسے کہوں شاعری تو واردات قلب کی روداد ہے قافیہ پیمائی کو میں شاعری کیسے کہوں یہ جو میرے گھر کے جلنے سے ہوئی ہے چار سو لوگ کہتے ہیں کہیں میں روشنی کیسے کہوں سامنے آیا تو ناظمؔ اس نے پہچانا نہیں فیس بک کی دوستی کو دوستی کیسے کہوں





