"bane hain ek sitare ki khaak se shayad ki donon raqs men rahte hain aur sakin hain"

Neelam Bhatti
Neelam Bhatti
Neelam Bhatti
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"hava-e-sabz chali hai mire khayalon men bana raha hai gulistan miri qaba shayad"
bane hain ek sitaare ki khaak se shaayad
ki donon raqs mein rahte hain aur saakin hain
havaa-e-sabz chali hai mire khayaalon mein
banaa rahaa hai gulistaan miri qabaa shaayad
Ghazalغزل
dhaDak rahaa hai khayaalaat ke samundar mein
دھڑک رہا ہے خیالات کے سمندر میں وہ بہہ رہا ہے مری ذات کے سمندر میں بدن کو چھوڑ دیا چاند پر بسیرا ہے کبھی تو آئے گا وہ رات کے سمندر میں نہیں جواب کوئی صرف شور پھیلا ہے وہ آ چکا ہے سوالات کے سمندر میں وہ میری آنکھ کے نظارے میں سمایا ہے میں چھپ گئی ہوں کرامات کے سمندر میں فلک کے پاس مجھے اک سفر پہ جانا ہے زمیں کے سارے طلسمات کے سمندر میں پگھل رہا ہے کوئی فاصلوں کی حدت سے چراغ جل رہا ہے ذات کے سمندر میں یہ کون ہے جو مری آنکھ کے نظارے کو دکھائی دے رہا ہے رات کے سمندر میں وہ جوڑتا ہے زمانے کے تانے بانے کو بکھر رہا ہے روایات کے سمندر میں وہ ایک لمحہ جو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا لرز رہا ہے وہ خدشات کے سمندر میں فلک میں تیرتی صدیوں کا فاصلہ نیلمؔ سمیٹ لیتی ہے لمحات کے سمندر میں
guzarti shaam ne phir se pukaaraa
گزرتی شام نے پھر سے پکارا گرا ہے آنکھ سے کوئی ستارہ چرا لو وقت کی چادر سے مجھ کو چھپا لو آنکھ میں اپنی خدارا سمندر سوچ میں ڈوبا ہوا ہے کسی پر ہار بیٹھا ہے کنارا فضا بدلی ہوئی ہے شہر جاں کی کسی نے آج پھر مجھ کو پکارا لبوں کو ہے تکلف آرزو سے مری خاموشیاں ہیں اک اشارہ تمہارے ساتھ ہو تو زندگی ہے تمہارے بعد رسمی سا گزارا اگرچہ لوٹ جانے کا کہا ہے نہیں لگتا لگے گا دل ہمارا تخیل چاندنی ہے چاند بھی ہے اگرچہ تیرگی نے ہے نکھارا کسے معلوم ہے جھگڑے میں نیلمؔ بظاہر جیت کر بھی کون ہارا
sukut-e-shab mein larazte hain vaahime tere
سکوت شب میں لرزتے ہیں واہمے تیرے خموشیوں میں اترتے ہیں قافلے تیرے بکھر رہے ہیں رگ جان کی اذیت میں نزول درد میں پوشیدہ سلسلے تیرے اگرچہ ہونے کو ہوتا بہت ہے دنیا میں کبھی رہے نہ مروت سے واسطے تیرے تو آئے گا کہ نہیں کون جان پائے گا تھمے ہوئے ہیں تذبذب میں فیصلے تیرے یہ تیرگی جو بھٹکتی ہے میری آنکھوں میں اسی کے پیر میں جلتے ہیں آبلے تیرے شب وصال بھی رخصت ہوا اندھیرے میں سحر نے دیکھ لیے آج حوصلے تیرے طلسم خواب ہے تیرا مرا فسانہ بھی کہ میری آنکھ میں برپا ہیں سانحے تیرے
dard-e-dil ki baqaa hai shishe mein
درد دل کی بقا ہے شیشے میں کیونکہ ہر سانحہ ہے شیشے میں آسماں چھپ گیا ہے شیشے میں وقت پھر سے تھما ہے شیشے میں کون ساغر میں رقص کرتا ہے کون اترا ہوا ہے شیشے میں آنکھ میں پھر کوئی سمندر ہے آنسو رکنے لگا ہے شیشے میں جو کبھی بھول کر نہیں آتا برملا آ چکا ہے شیشے میں ایک سایہ جو ساتھ رہتا تھا تیرا چہرہ بنا ہے شیشے میں صحن دل میں دراڑ آئے گی بال اب آ چکا ہے شیشے میں شہر میں تیرے بادہ خواروں کا کام بے حد چلا ہے شیشے میں ایک اترا ہے بام پر میرے ایک شب بھر جلا ہے شیشے میں تو نہیں ہے تو درد والوں کے درد کا سلسلہ ہے شیشے میں میرے دل سے ترے تغافل کا عمر سے واسطہ ہے شیشے میں میرے ہونے سے تم سے ملنے تک ہر حسیں واقعہ ہے شیشے میں معنی اترا جو آسمانوں سے حرف زندہ ہوا ہے شیشے میں شیشے جیسا بدن تڑپتا ہے اور اس کی دوا ہے شیشے میں آج نیلمؔ کی آنکھ کیوں چپ ہے کس نے پھر آ لیا ہے شیشے میں
aankhon mein ek dasht hai kab se rukaa huaa
آنکھوں میں ایک دشت ہے کب سے رکا ہوا پہلو میں اک چراغ ہے آدھا جلا ہوا مدت سے میرے دل میں ہے کوئی بسا ہوا محرم ہے میری ذات کا گرچہ چھپا ہوا رکھا ہوا ہے چاند کی دہلیز پر قدم رستہ ہے روشنی کا سمندر بنا ہوا پہلی نظر میں عمر کا سودا ہوا تھا طے سچ بات ہے کہ آنکھ کا وعدہ وفا ہوا خوشبو کا راز کھول رہا ہے جہان پر شعروں میں کوئی شخص ہے شاید چھپا ہوا دشت فنا میں ڈھونڈ لیا اپنی ذات کو میرا کہیں نہ ہونا ہی میری بقا ہوا تتلی چمن میں آج بہت چپ لگی مجھے جیسے کسی گلاب پہ ہو دل رکا ہوا کہنے لگی ہوں شعر میں نیلمؔ کے ساتھ ساتھ شوق نوائے دشت مرا ہم نوا ہوا
us sitamgar ne mujhe aaj pukaaraa kyon hai
اس ستم گر نے مجھے آج پکارا کیوں ہے سرد ہونٹوں پہ مروت کا فسانہ کیوں ہے مری وحشت ہے چھپی اس کی نظر میں کیوں کر اس کا چہرہ مرے چہرے کی طرح کا کیوں ہے بادۂ جاں میں اترتا ہے جو قطرہ قطرہ وہ دل افروز سخن درد نے سینچا کیوں ہے دامن دل میں چھپائی ہیں گلابی یادیں کون مہکا ہے یہاں آج یہ دھڑکا کیوں ہے وہ مجھے کہتا ہے خوشبو ہوں غزل ہوں اس کی اس کے لہجے میں مگر خوف خزاں کا کیوں ہے فاصلے بڑھنے لگے کم نہ ہوئی مجبوری دل برباد کو اک شخص کا سودا کیوں ہے رسم الفت کو نبھاتا ہے نہ جاتا ہے کہیں وہ مجھے بھول چکا ہے تو چھپاتا کیوں ہے راز کھلتا ہے محبت کا ذرا رک رک کر سرخ پھولوں کے لیے کوئی دوانہ کیوں ہے گرچہ نیلمؔ نے کسی خواب کو سوچا تو نہیں اس کی آنکھوں میں ابھی ایک دریچہ کیوں ہے





