SHAWORDS
Nusrat Siddiqui

Nusrat Siddiqui

Nusrat Siddiqui

Nusrat Siddiqui

poet
7Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

7 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

صحرا کی طرح شہر وفا ہے کہ نہیں ہے ہر صاحب دل آبلہ پا ہے کہ نہیں ہے پہچانتے ہیں لوگ ترے نام سے مجھ کو اب تیرا پتا میرا پتا ہے کہ نہیں ہے تسکین کے لمحات کو ترسی ہوئی دنیا حالات سے ہر چند خفا ہے کہ نہیں ہے ناموس وطن لوٹنے والوں کے لئے بھی یا رب کوئی آئین سزا ہے کہ نہیں ہے اس زلف کے سائے میں یہ احساس جلائے ہنستے ہوئے صحرا پہ گھٹا ہے کہ نہیں ہے جس حسن کا پرتو مری تقدیر بدل دے وہ میرے لئے ظل ہما ہے کہ نہیں ہے نصرتؔ میں اسی فکر میں رہتا ہوں پریشاں انسان کو حقیقت میں فنا ہے کہ نہیں ہے

sahraa ki tarah shahr-e-vafaa hai ki nahin hai

2 views

غزل · Ghazal

محبوب نظر آپ کے چہرے کی ضیا ہے مطلوب جبیں آپ کا نقش کف پا ہے ہم نے ترے جلوے کا جسے عکس کہا ہے لوگوں نے اسے پھول کا عنوان دیا ہے ہنستے ہوئے تاروں کا گلا گھونٹ دیا ہے سورج کی شعاعوں نے بڑا ظلم کیا ہے مرتا ہے تو مر جائے کوئی میری بلا سے مجھ کو مرے ماحول نے یہ درس دیا ہے آنکھوں میں ہیں آنسو کہ اندھیرا ہے پر افشاں جس چہرے کو دیکھا وہی دھندلا سا لگا ہے

mahbub-e-nazar aap ke chehre ki ziyaa hai

2 views

غزل · Ghazal

یاس ہی سے کبھی گزر پیارے منتظر ہیں دل و نظر پیارے پھول کھلتے گئے محبت کے تو نے دیکھا جدھر جدھر پیارے گوہر دل کی قدر کیا کرتے یہ حسیں لوگ کم نظر پیارے دو قدم ساتھ کیا چلے ہم تم بات پہنچی نگر نگر پیارے میں تو خود ہی فریب خوردہ ہوں تو مری جستجو نہ کر پیارے بن گئے لوگ صاحب دولت جنس ایماں کو بیچ کر پیارے یوں تو احباب اور بھی ہیں بہت تجھ سے بڑھ کر نہیں مگر پیارے تنگ دستی میں دیکھنا نصرتؔ بک نہ جائے کہیں ہنر پیارے

yaas hi se kabhi guzar pyaare

2 views

غزل · Ghazal

فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سے آؤ سوچ لیں پہلے رابطے بڑھانے سے عرش کانپ جاتا تھا ایک دل دکھانے سے وہ زمانہ اچھا تھا آج کے زمانے سے خواہشیں نہیں مرتیں خواہشیں دبانے سے امن ہو نہیں سکتا گولیاں چلانے سے دیکھ بھال کر چلنا لازمی سہی لیکن تجربے نہیں ہوتے ٹھوکریں نہ کھانے سے ایک ظلم کرتا ہے ایک ظلم سہتا ہے آپ کا تعلق ہے کون سے گھرانے سے کتنے زخم چھلتے ہیں کتنے پھول کھلتے ہیں گاہ تیرے آنے سے گاہ تیرے جانے سے کارزار ہستی میں اپنا دخل اتنا ہے ہنس دئے ہنسانے سے رو دئے رلانے سے چھوٹے چھوٹے شہروں پر کیوں نہ اکتفا کر لیں کھیتیاں اجڑتی ہیں بستیاں بسانے سے زخم بھی لگاتے ہو پھول بھی کھلاتے ہو کتنے کام لیتے ہو ایک مسکرانے سے اور بھی سنورتا ہے اور بھی نکھرتا ہے جلوۂ رخ جاناں دیکھنے دکھانے سے جب تلک نہ ٹوٹے تھے خیر و شر کے پیمانے وہ زمانہ اچھا تھا آج کے زمانے سے ہر طرف چراغاں ہو تب کہیں اجالا ہو اور ہم گریزاں ہیں اک دیا جلانے سے چاند آسماں کا ہو یا زمین کا نصرتؔ کون باز آتا ہے انگلیاں اٹھانے سے

faasle na baDh jaaein faasle ghaTaane se

2 views

غزل · Ghazal

یاد کا روگ مت لگا پیارے عہد ماضی کو بھول جا پیارے جی بہلتا نہیں تصور سے تو کبھی سامنے بھی آ پیارے نام کے رہ گئے ہیں دنیا میں دوست احباب اقربا پیارے یہ بھی اک طرز غم گساری ہے تو مرا حوصلہ بڑھا پیارے شیشۂ دل کو توڑنے والے تو نے اچھا نہیں کیا پیارے جذبۂ شوق مر نہ جائے کہیں احتیاطاً ہی روٹھ جا پیارے پیڑ سے گر کے زرد پتوں نے بھر دیا فرش کا خلا پیارے تیرا غم بھی غم زمانہ بھی غم بھی خالص نہیں رہا پیارے آس کے دیپ تو جلا نصرتؔ شام کا وقت ہو چلا پیارے

yaad kaa rog mat lagaa pyaare

2 views

غزل · Ghazal

دل جھیل میں پھینکا ہے تری یاد نے پتھر سر سے نہ گزر جائے کوئی موج ابھر کر یہ پھول سے رخ سرو سے قد چاند سے پیکر ہلچل سی مچا دیتے ہیں جذبات کے اندر کچھ اور ستم اور ستم اے غم دوراں کھلتے ہیں بڑی دیر میں انسان کے جوہر تو پاس بھی اتنا کہ تجھے دیکھ نہ پاؤں تو دور بھی اتنا کہ مری سوچ سے باہر میں کون سی منزل کے لئے گرم سفر ہوں چلتا نہیں کوئی بھی مرے نقش قدم پر اک تو کہ ترا ایک ہی رشتہ ہے جہاں میں اک میں کہ مرے سینکڑوں رشتے ہیں زمیں پر انساں کا سفر سوئے قمر خوب ہے لیکن فتنے نہ اٹھائے یہ کہیں چاند میں جا کر اے صبح طرب آ مری آنکھوں میں سما جا مغموم نہ کر جائیں تجھے شام کے منظر کب تک وہ کرائے کے مکانوں میں رہیں گے نصرتؔ جو بنا سکتے نہیں اپنے لئے گھر

dil-jhil mein pheinkaa hai tiri yaad ne patthar

2 views

Similar Poets