'aurat ke khaal-o-khad pe bahut daad ho ki ye
mere khudaa kaa shohra-e-aafaaq she'r hai

Osaama Ameer
Osaama ameer
Osaama ameer
Popular Shayari
3 totalkab vo paighaam-rasaa ho ki mujhe sabr nahin
kaakul-e-kham ke liye she'r raqam kartaa huun
shahzaadi is dil ki shiddat baDhti jaati hai
ye naaraazi khatm karo aur phuul qubul karo
Ghazalغزل
کبھی کبھی میں انہیں دل میں آن رکھتا ہوں پھر ایک خواب میں دونوں جہان رکھتا ہوں جب آسمان سبھی کے سروں پہ قائم ہے تو کس کے واسطے میں سائبان کرتا ہوں میں لفظ و معنی بدلتے ہوئے سر قرطاس پلٹ کے پھر وہی نوحہ بیان رکھتا ہوں ازل سے ایک ہی نقصان کھا رہا ہے مجھے ازل سے خود کو فقط رائیگان رکھتا ہوں صدائے کن پہ بنا آدمی کی رکھی گئی اس ایک صوت پہ میں اپنے کان رکھتا ہوں عجیب رمز ہے قرطاس اور لکیر کے بیچ زمین کھینچتا ہوں آسمان رکھتا ہوں پرانا عکس نیا عکس بن کے ابھرے گا میں آئنہ کے مقابل گمان رکھتا ہوں وہ میرے واسطے کیا کیا سنبھالے رکھتا ہے میں اس کے واسطے کس کس کا دھیان رکھتا ہوں
kabhi kabhi main unhein dil mein aan rakhtaa huun
اس کی جاں نذر ہوئی رات لہو کو میرے جس نے سمجھا شرر ایجادیٔ خو کو میرے باغ میں گل کا ٹھہرنا بڑا دشوار ہوا اس نے جب دیکھ لیا آئنہ رو کو میرے اک شناسا ہی مرا دہر خرافات میں ہے جو الگ وضع سے بھرتا ہے سبو کو میرے منحصر آپ کی ہی طبع رواں پر ہے حضور خوف شمشیر نہیں خشک گلو کو میرے سربسر تو ہے مرا واقف احوال و جنوں نقش پا تک نہیں ملتے ہیں کسو کو میرے سطوت شان مری آب کہاں دیکھتی ہے رنگ ہی رنگ ہیں درکار وضو کو میرے
us ki jaan nazr hui raat lahu ko mere
خلوت یک سرد میں جب مثل آئینہ کھلا کیا فراوانی لیے ہم پر وہ گنجینہ کھلا یہ ریاضت زندگی بھر کی وصال آمیز ہے جب وہ پیراہن کھلا تو شوق دیرینہ کھلا کن خنک آثار موسم میں یہ دل مائل ہوا جام چھلکے جا رہے تھے جب وہ سازینہ کھلا دہر ہو یا بزم ہو کم کم ہی ہوتا ہے کرم اس کو نا بینا نہ سمجھو جس پہ وہ بینا کھلا وحشت آئندگاں میں خاک ہیں سب خال و خد اک نظر بھر کر جو دیکھا عکس پارینہ کھلا خوب تھا پہر عنایت اپنی حیرانی کے ساتھ آج ہی کی شب تھی شاید جب وہ آئینہ کھلا
khalvat-e-yak-sard mein jab misl-e-aaina khulaa
نشاط وصل کے ہنگامے کب نہیں رکھتا میں کوئی شے بھی یہاں بے طلب نہیں رکھتا مجھے پتہ ہیں تری برہمی کے سارے سبب مجھے خبر ہے تو کچھ بے سبب نہیں رکھتا ہمارا یار ہے حساس اس معاملے میں ادب کے ساتھ کوئی بے ادب نہیں رکھتا ہمیشہ حسن کو دیکھا گیا ہے داد طلب مگر وہ حسن تو کوئی طلب نہیں رکھتا فصیل دل کی منڈیروں پہ وہ چراغ مرے جب اس کی چاہ نہیں ہوتی تب نہیں رکھتا جنوں نژاد ہے تمثال آئنہ میرا سو اپنے آپ میں کیا کیا غضب نہیں رکھتا اسے خبر ہے کہ رکھنا ہے کیا نہیں رکھنا سو جو بھی ہاتھ لگے سب کا سب نہیں رکھتا
nashaat-e-vasl ke hangaame kab nahin rakhtaa
کہیں وہ دیکھ لے دامن کو تار کرتے ہوئے بہار میں بھی ہیں ہم انتظار کرتے ہوئے فضا نہیں ہے کسی طرح بھی شفق اندام پلٹ رہے ہیں اسے سوگوار کرتے ہوئے اب اور کیا خس و خاشاک ہو رہیں گے ہم تمام ہو تو گئے انتظار کرتے ہوئے وہ آئنہ ہے سو ہم اس کے سامنے آئے ہزار طرح سے دل کو غبار کرتے ہوئے گزارتے ہیں یہ شب شورش تمنا میں دل و نگاہ کو بے اختیار کرتے ہوئے نہیں ہے گردش ایام کی خبر اس کو کہ دن گزرتا ہے کیا کیا شمار کرتے ہوئے اور اس کے نقش پہ لغزش ہنر نے پائی ہے کہ رنگ ہیچ لگے ہیں نکھار کرتے ہوئے
kahin vo dekh le daaman ko taar karte hue
میں اپنے گھر میں ہی اپنی فراوانی سے رہتا ہوں بہت اکتایا اکتایا جہاں بانی سے رہتا ہوں یہ ساری عورتیں یہ باغ یہ دریا یہ میخانے کہیں رہتا بھی ہوں تو اپنی حیرانی سے رہتا ہوں بہت ہنگامہ خیزی پہلی پہلی ساعتوں میں تھی مگر اب خلوت مشکل میں آسانی سے رہتا ہوں مسلسل ایک انبوہ زیاں کے درمیاں بے کار میں اپنے آپ میں کتنی پریشانی سے رہتا ہوں فراوانی بہم رکھتی ہے یہ آسودگی مجھ میں کسی کے دھیان میں میں اپنی بے دھیانی سے رہتا ہوں گریباں چاک ہونا شرط تھی سو کھل گیا مجھ پر کہ میں کیوں خوش ترے پھولوں کی عریانی سے رہتا ہوں
main apne ghar mein hi apni faraavaani se rahtaa huun





