SHAWORDS
Prem Warbartani

Prem Warbartani

Prem Warbartani

Prem Warbartani

poet
3Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

گفتگو کیوں نہ کریں دیدۂ تر سے بادل لوٹ آئے ہیں ستاروں کے سفر سے بادل کیا غضب ناک تھی سورج کی برہنہ شمشیر کالے مجرم کی طرح نکلے نہ گھر سے بادل رات کی کوکھ کوئی چاند کہاں سے لائے یہ زمیں بانجھ ہے برسے کہ نہ برسے بادل برف سے کہیے کہ سوغات کرے ان کی قبول لائے ہیں آگ کے دستانے سفر سے بادل میں کہ ہوں دھوپ کا آزاد پرندہ لیکن بال کیوں نوچ رہے ہیں مرے پر سے بادل آخری خط تو لکھوں گا میں لہو سے خود کو اب بھی مایوس جو لوٹے ترے در سے بادل نہ کسی جسم کا جادو نہ گھٹا گیسو کی پریمؔ کیوں روٹھ گئے پریم نگر سے بادل

guftugu kyuun na karein dida-e-tar se baadal

1 views

غزل · Ghazal

دیکھو کہ دل جلوں کی کیا خوب زندگی ہے پروانے جل چکے ہیں اور شمع جل رہی ہے کہنے کو مختصر سا اک لفظ ہے محبت لیکن اسی میں ساری دنیا چھپی ہوئی ہے خواب حسیں سے مجھ کو چونکا دیا ہے کس نے کس نے چمن میں آ کر آواز مجھ کو دی ہے دیکھو ذرا فروغ حسن بہار دیکھو اک اک کلی چمن کی دلہن بنی ہوئی ہے لائے بشر کہاں سے اس حسن کی مثالیں قدرت جسے بنا کر حیرت میں کھو گئی ہے بجھتی نہیں ہے سارے عالم کے آنسوؤں سے یہ کیسی آگ میرے دل میں بھڑک رہی ہے اے پریمؔ ضرب سر سے زنداں کو توڑ ڈالو پابندیوں کا جینا بھی کوئی زندگی ہے

dekho ki dil-jalon ki kyaa khuub zindagi hai

غزل · Ghazal

پہلے تو بہت گردش دوراں سے لڑا ہوں اب کس کی تمنا ہے جو مقتل میں کھڑا ہوں گو قدر مری بزم سخن میں نہیں لیکن ہیرے کی طرح فن کی انگوٹھی میں جڑا ہوں خیرات میں بانٹے تھے جہاں میں نے ستارے خود آج وہیں کاسۂ شب لے کے کھڑا ہوں ہوتا کوئی پتھر بھی تو کام آتا جنوں کے ٹوٹا ہوا شیشہ ہوں سر راہ پڑا ہوں سمٹوں تو کسی سیپ کے سینے میں سما جاؤں اے پریمؔ جو پھیلوں تو سمندر سے بڑا ہوں

pahle to bahut gardish-e-dauraan se laDaa huun

غزل · Ghazal

رو بہ رو سینہ بہ سینہ پا بہ پا اور لب بہ لب ناچتی شب میں برہنہ ہو گئے کیوں سب کے سب خود کشی کر لی بھرے گلشن میں جس نے بے سبب میں نے سیکھا ہے اسی ہم راز سے جینے کا ڈھب ہنستے ہنستے روح کی آواز پاگل ہو گئی گنبدوں کی خامشی نے دیر تک کھولے نہ لب پی رہے ہیں خوشنما شیشوں میں لوگ اپنا لہو اور کیا ہوگا انوکھے رنگ کا جشن طرب اے محبت اب تو لوٹا دے مرے سجدے مجھے مرتے دم تک زندگی کرتی رہی تیرا ادب لاش سورج کی سیہ کمرے میں تھی لٹکی ہوئی میرے گھر کا قفل کھولا شب کی تنہائی نے جب پریمؔ تیری شاعری ہے یا مقدس جوئے شیر تیشۂ تخلیق جس سے داد کرتا ہے طلب

ru-ba-ru sina-ba-sina paa-ba-paa aur lab-ba-lab

غزل · Ghazal

یہ شب تو کیا سحر کو بھی شاید نہیں پتا میں آخری چراغ ہوں سورج کے شہر کا بزم سکوت دل میں ہے ہلچل مچی ہوئی سارنگیاں ہیں کس کے بدن کی غزل سرا میری بیاض درد وہ پڑھ کر بہت ہنسے تھا نام جن کا پہلے ورق پر لکھا ہوا دیکھا عجیب خواب اماوس کی رات نے ہم چل رہے تھے چاند پہ دونوں برہنہ پا شعلوں کے ہاتھ تھے کہ ٹھٹھرتے چلے گئے پھر برف کا لباس کسی نے پہن لیا سونے کی طشتری میں سجا کر نہ پھول بھیج یہ کھیل مجھ غریب سے دیکھا نہ جائے گا خوشبو کے خواب میں نہ ڈھلی زندگی مگر چندن کی لکڑیوں سے جلانا مری چتا کاغذ کی ناؤ آگ کے دریا میں ڈال دی کیا جانے اور چاہتی کیا ہے تری انا اے دوست اس قدر بھی اکیلا کوئی نہ ہو میں خود بھی اپنے ساتھ نہیں دوسرا تو کیا اے پریمؔ یوں تو دھوم تھی سارے جہان میں اپنے ہی گھر میں کوئی ہمیں پوچھتا نہ تھا

ye shab to kyaa sahar ko bhi shaayad nahin pataa

غزل · Ghazal

پھرتے رہے ازل سے ابد تک اداس ہم آئے نہ انقلاب زمانہ کو راس ہم دیکھیں گے چھو کے سرخ بدن آفتاب کا تبدیل کر چکے ہیں خلا کا لباس ہم یہ زندگی تو خون جگر پی گئی تمام کیسے بجھائیں سوکھے سمندر کی پیاس ہم شہر جنوں کی دھوپ جلا دے گی جسم و جاں چلئے چلیں گھنیرے چناروں کے پاس ہم پر نور ہے ہمیں سے خرابہ حیات کا راتوں کا رنگ تم ہو اجالوں کی آس ہم امرت شراب زہر اجی کچھ تو ڈالئے آئے ہیں لے کے دور سے خالی گلاس ہم جب سے بچھڑ گئی تری خانہ بدوش یاد اے پریمؔ سونے گھر کی طرح ہیں اداس ہم

phirte rahe azal se abad tak udaas ham

Similar Poets