SHAWORDS
Sabir Waseem

Sabir Waseem

Sabir Waseem

Sabir Waseem

poet
6Sher
6Shayari
12Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

jo khvaab mere nahin the main un ko dekhtaa thaa

جو خواب میرے نہیں تھے میں ان کو دیکھتا تھا اسی لیے آنکھ کھل گئی تھی اسی لیے دل دکھا ہوا تھا اداسیوں سے بھری ہوئی التجا سنی تھی کسی نگر میں کوئی کسی کو پکارتا تھا وہ اک صدا تھی کہ ہفت عالم میں گونجتی تھی نہ جانے کیسے کوئی کسی سے بچھڑ گیا تھا عجیب حیرت بکھیرتے تھے وہ داستاں گو کہ شب نے جانے سے صاف انکار کر دیا تھا گزشتگاں کو بھی یہ گلہ تھا سنا ہے میں نے سنا ہے ان کو بھی اسم اعظم نہیں ملا تھا فضا سنہری تھی رنگ پھیلا تھا چار جانب کہ چاند سے وہ زمیں پہ جیسے اتر رہا تھا سفر کے آخر پہ شمعیں روشن سی ہو گئی تھیں کوئی مسرت کی سب حدوں سے گزر گیا تھا

غزل · Ghazal

vo dhuup vo galiyaan vahi uljhan nazar aae

وہ دھوپ وہ گلیاں وہی الجھن نظر آئے اس شہر سے اس شہر کا آنگن نظر آئے اس غم کے اجالے میں جو اک شخص کھڑا ہے وہ دور سے مجھ کو مرا ساجن نظر آئے اک ہجر کے شعلے میں کئی بار جلے ہم اس آس میں شاید کہ نیا پن نظر آئے یہ رات گئے کون ہے اس پیڑ کے نیچے اک دیپ سا ہر شاخ پہ روشن نظر آئے وہ بات کہو جس کو ترستی رہے دنیا وہ حرف لکھو جس میں کوئی فن نظر آئے

غزل · Ghazal

raah mein shahr-e-tarab yaad aayaa

راہ میں شہر طرب یاد آیا جو بھلایا تھا وہ سب یاد آیا جانے اب صبح کا عالم کیا ہو آج وہ آخر شب یاد آیا ہم پہ گزرا ہے وہ لمحہ اک دن کچھ نہیں یاد تھا رب یاد آیا جب نہیں عمر تو وہ پھول کھلا کب کا بچھڑا ہوا کب یاد آیا رقص کرنے لگی تاروں بھری شب تو بھی اس رات عجب یاد آیا کتنا اقرار چھپا تھا اس میں تیرے انکار کا ڈھب یاد آیا ہوش اڑنے لگے ناصرؔ کی طرح آج وہ یار غضب یاد آیا

غزل · Ghazal

palkon par nam kyaa phail gayaa

پلکوں پر نم کیا پھیل گیا ہر سمت دھواں سا پھیل گیا مری ریکھا پوش ہتھیلی پر اک شام کا سایا پھیل گیا جو حرف چھپایا لوگوں سے وہ چہرہ بہ چہرہ پھیل گیا ترا نام لیا تو صحرا میں اک سایہ اترا پھیل گیا اب میرے اور خدا کے بیچ اک ہجر کا لمحہ پھیل گیا جب نئے سفر پر نکلا میں رستوں پر صدمہ پھیل گیا شاموں کی سرخی سمٹ گئی راتوں کا قصہ پھیل گیا میں پیاس بجھانے پہنچا تو دریا میں صحرا پھیل گیا اس ارض و سما کی وسعت میں دکھ تیرا میرا پھیل گیا

غزل · Ghazal

asir-e-shaam hain Dhalte dikhaai dete hain

اسیر شام ہیں ڈھلتے دکھائی دیتے ہیں یہ لوگ نیند میں چلتے دکھائی دیتے ہیں وہ اک مکان کہ اس میں کوئی نہیں رہتا مگر چراغ سے جلتے دکھائی دیتے ہیں یہ کیسا رنگ نظر آیا اس کی آنکھوں میں کہ سارے رنگ بدلتے دکھائی دیتے ہیں وہ کون لوگ ہیں جو تشنگی کی شدت سے کنار آب پگھلتے دکھائی دیتے ہیں اندھیری رات میں بھی شہر کے دریچوں سے ہمیں تو چاند نکلتے دکھائی دیتے ہیں

غزل · Ghazal

mire dhyaan mein hai ik mahal kahin chaubaaron kaa

مرے دھیان میں ہے اک محل کہیں چوباروں کا وہاں جاؤں کیسے رستہ ہے انگاروں کا وہاں ہریالی کے کنج میں ایک بسیرا ہے وہاں دریا بہتا رہتا ہے مہکاروں کا تم دل کا دریچہ کھول کے باہر دیکھو تو انبوہ گزرنے والا ہے دل داروں کا مری خلوت کو یہ انسانوں کا جنگل ہے مری وحشت کو یہ صحرا ہے دیواروں کا اک پیلے رنگ کی دھند جمی ہے چہروں پر کوئی آ کے دیکھے حال ترے بیماروں کا ہم قریہ قریہ ملکوں ملکوں پھرتے ہیں دنیا میں کوئی دیس نہیں بنجاروں کا خواب کی دولت چین سے سونے والوں کی تارے گننا کام ہے ہم بیداروں کا

Similar Poets