zinda rahne ke the jitne uslub
zindagi kaT gai tab yaad aae

Sadique Naseem
Sadique Naseem
Sadique Naseem
Popular Shayari
3 totaltumhaaraa naam kisi ajnabi ke lab par thaa
zaraa si baat thi dil ko magar lagi hai bahut
jab bhi tiri qurbat ke kuchh imkaan nazar aae
ham khush hue itne ki pareshaan nazar aae
Ghazalغزل
ہر شخص کو ایسے دیکھتا ہوں جیسے کہیں دور جا رہا ہوں دیکھی ہی نہیں خزاں کی صورت کس گلشن شوق کی ہوا ہوں خود اپنی نگاہ سے ہوں روپوش آئنہ ہوں جہاں نما ہوں بے نور ہوئی ہیں جب سے آنکھیں آئنے تلاش کر رہا ہوں ناقدر شناس جوہری کو راہوں میں پڑا ہوا ملا ہوں جب رات کی زلف بھیگتی ہے سناٹے کی طرح گونجتا ہوں اس دور خزاں نصیب میں بھی کلیاں سی کھلا کھلا گیا ہوں آنکھوں میں وحشتیں رچی ہیں خوابوں میں بھی خاک چھانتا ہوں ہے چہرہ جو داغ داغ اپنا ہر آئنے سے خفا خفا ہوں تلوار پہ رقص کا نتیجہ جب پاؤں کٹے تو سوچتا ہوں پردۂ صبا نہ خوف صرصر خاکستر یاس پر کھلا ہوں
har shakhs ko aise dekhtaa huun
نظر نظر سے وہ کلیاں کھلا کھلا بھی گیا گل مراد کو قدموں میں روندتا بھی گیا بلند شاخ کے گل کی طرح نہ ہاتھ آیا وہ رفعتوں پہ رہا اپنی چھب دکھا بھی گیا مجھے نوید جدائی سنانے آیا تھا جدا ہوا تو مری سمت دیکھتا بھی گیا وہ زخم زخم پہ مرہم لگانے آیا تھا ادائے بخیہ گری سے انہیں دکھا بھی گیا وہ میرا شعلہ جبیں موجۂ ہوا کی طرح دیئے جلا بھی گیا اور دیئے بجھا بھی گیا وہ کم نگاہ تھا کم ظرف تو نہ تھا کہ مجھے پیالہ دے بھی گیا تشنگی بڑھا بھی گیا سخن کے آئنوں میں دیکھ دیکھ اپنے نقوش جھجک جھجک بھی گیا اور جھومتا بھی گیا مری ہی طرح تھا وہ بھی جنوں کی زد میں مگر مجھے سنبھال کے خود کو سنبھالتا بھی گیا وہ جس کا دامن شفاف اب بھی ہے بے داغ وفور شوق میں مجھ کو گلے لگا بھی گیا اس اک نظارے میں تھے کتنے دیدنی پہلو وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرا بھی گیا غم وداع میں پنہاں تھا اور بھی اک غم کہ دل سے شوق ملاقات بارہا بھی گیا فراق یوسف گم گشتہ کم نہ تھا صادق کہ میرے ہاتھ سے کنعان کوئٹہ بھی گیا
nazar nazar se vo kaliyaan khilaa khilaa bhi gayaa
شکست آبلۂ دل میں نغمگی ہے بہت سنے گا کون کہ دنیا بدل گئی ہے بہت ہر ایک نقش میں ہے نا تمامیوں کی جھلک ترے جہاں میں کسی چیز کی کمی ہے بہت گلے لگا کے گل و نسترن کو رویا ہوں کہ مجھ کو نظم گلستاں سے آگہی ہے بہت یہاں کسی کا بھی چہرہ دکھائی دے نہ سکے حریم دل میں تمنا کی روشنی ہے بہت میں ایک لمحہ بھی مانند شمع جل نہ سکوں وہ ایک شب کے لیے ہی سہی جلی ہے بہت ہے خود فریب بہت میرے عہد کا فن کار ہنر نہیں بھی تو شور ہنر وری ہے بہت لبوں پہ جاں ہو تو احساس تلخ و شیریں کیا کہیں سے زہر ہی لاؤ کہ تشنگی ہے بہت خرد کو ناز ہے کیوں رسم کجکلاہی پر سر جنوں کے لیے مشت خاک بھی ہے بہت گراں ہے جنس وفا اور مشتری نایاب ہزار بار لٹا ہوں کہ دل غنی ہے بہت عجب نشاط کے پہلو غم حبیب میں ہیں کہ ڈوبتی نہیں یہ ناؤ ڈولتی ہے بہت تمہارا نام کسی اجنبی کے لب پر تھا ذرا سی بات تھی دل کو مگر لگی ہے بہت دم وداع میں یوں مسکرا رہا ہوں نسیمؔ کہ جیسے ان سے جدائی کی بھی خوشی ہے بہت
shikast-e-aabla-e-dil mein naghmagi hai bahut
جو لب پہ نہ لاؤں وہی شعروں میں کہوں میں یوں آئینۂ حسرت گفتار بنوں میں آئینۂ آغاز میں دیکھوں رخ انجام کلیوں کے چٹکنے کی صدا سے بھی ڈروں میں میرے لیے خلوت بھی ہے ہنگامے کی صورت وہ شور تمنا ہے کہ کس کس کو سنوں میں ٹھہرو تو یہ گھر کیا دل و جاں بھی ہیں تمہارے جاتے ہو تو کیوں راہ کی دیوار بنوں میں ہر گام نگاہوں سے لپٹ اٹھتے ہیں شعلے اور دل کی یہی ضد ہے اسی راہ چلوں میں ہر ایک نظر آبلہ پا دیکھ رہا ہوں بستے ہوئے شہروں کو بھی صحرا ہی کہوں میں کوئی بھی سر دار چراغاں نہیں کرتا اور سب کی تمنا ہے کہ منصور بنوں میں نقاشیٔ تخیل سے گھبرا سا گیا ہوں کب تک یوں ہی خوابوں کے جزیروں میں رہوں میں جو لے گیا جان و جگر و دل سر راہے وہ گھر مرے آ جائے تو کیا نذر کروں میں مجھ کو ہے جنوں زمزمۂ برگ خزاں کا پت جھڑ کے لئے گوش بر آواز رہوں میں صادقؔ مجھے منظور نہیں ان کی نمائش ہر چند کہ زخموں کا خریدار تو ہوں میں
jo lab pe na laaun vahi sheron mein kahun main
اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے طواف شمع کریں اور کسی کے پر نہ جلے ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک سوچتا ہے تمام شہر جلے ایک میرا گھر نہ جلے ہمیں یہ دکھ کہ نمود سحر نہ دیکھ سکے سحر کو ہم سے شکایت کہ تا سحر نہ جلے چراغ شہر نہیں ہم چراغ صحرا ہیں کسے خبر کہ جلے اور کسے خبر نہ جلے تری دلیل بجا پر یہ کیسے مانا جائے شجر کو آگ لگے اور کوئی ثمر نہ جلے شعور قرب کی یہ بھی ہے اک عجب منزل ہم اس کو غیر کی محفل میں دیکھ کر نہ جلے یہ شام مرگ تمنا کی شام ہے صادقؔ کوئی چراغ کسی طاق چشم پر نہ جلے
is ehtimaam se parvaane peshtar na jale





