"talatum ka ehsan kyuun ham uTha.en hamen Dubne ko kinara bahut hai"

Sahir Bhopali
Sahir Bhopali
Sahir Bhopali
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"vafa to kaisi jafa bhi nahin hai ab ham par ab itna sakht mohabbat se intiqam na le"
talaatum kaa ehsaan kyuun ham uThaaein
hamein Dubne ko kinaaraa bahut hai
vafaa to kaisi jafaa bhi nahin hai ab ham par
ab itnaa sakht mohabbat se intiqaam na le
Ghazalغزل
ab yaad tiri dard ko bahlaa na sakegi
اب یاد تری درد کو بہلا نہ سکے گی میں چاہوں بھی تو مجھ کو ہنسی آ نہ سکے گی کچھ کم نہیں اے دوست بھلانے کی مصیبت مانا کہ مری یاد بھی اب آ نہ سکے گی بیداد کرم چاہئے ہم سنگ دلوں کو یہ کم نگہی آپ کی تڑپا نہ سکے گی بس میرے ہی دم تک ہے یہ ہنگامۂ الفت پھر گردش عالم اسے دہرا نہ سکے گی کچھ ضبط و سکوں چاہئے اس راہ میں ساحرؔ بے تابئ دل حسن کو شرما نہ سکے گی
phir un ko arz-e-gham pe hansi aa rahi hai aaj
پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آج دنیا مرے سکوں کی لٹی جا رہی ہے آج ضبط ہوس کی خیر ہو کیوں طبع نا مراد پھر وضع احتیاط سے گھبرا رہی ہے آج بندہ نوازیوں کی خلش طبع ناز کو پھر خدمت نیاز پہ اکسا رہی ہے آج اللہ رے رعب حسن کہ بزم نشاط میں ہر شے لب خموش بنی جا رہی ہے آج اس پیکر شباب کہ نخوت بھری نظر ہر دعوائے ثبات کو ٹھکرا رہی ہے آج ساحرؔ نہ جانے کیا ہو اب انجام ضبط شوق پھر یاد ان کی درد کو تڑپا رہی ہے آج
khush-o-khurram na koi zaat mili
خوش و خرم نہ کوئی ذات ملی غم زدہ ساری کائنات ملی جی سے جو بھی گزر گیا غم میں اس کو سچ مچ نئی حیات ملی جس نے دعویٰ کیا محبت کا اس کو غم سے نہ پھر نجات ملی دل کو کیا کیا گمان گزرے ہیں وہ نظر جب بہ التفات ملی ان کو افسانۂ محبت میں قابل رد نہ کوئی بات ملی سارے شکوے گلے تمام ہوئے جب گلے موت سے حیات ملی شکوۂ ہجر کیا کروں ساحرؔ جیسی قسمت تھی ویسی رات ملی
jhalaktaa hai gham meri har ik khushi se
جھلکتا ہے غم میری ہر اک خوشی سے شکایت ہے مجھ کو تری بے رخی سے میں اپنے تئیں مر چکا تھا کبھی کا مگر جی رہا ہوں تمہاری خوشی سے خوشی میں مزا ہے نہ اب غم میں لذت یہ کانٹا نکالو دل زندگی سے وہ اور ہوں گے جن کو ہے چاہت کا ارماں مجھے پیار ہے آپ کی دشمنی سے کہاں تک جیوں آسرے پر کرم کے میں باز آیا بس آپ کی دوستی سے مٹی ہر طرح جان ساحرؔ کی لیکن ترا غم نہ بہلا غم زندگی سے
dhaDkaa hai raah-e-gham mein miraa dil jagah-jagah
دھڑکا ہے راہ غم میں مرا دل جگہ جگہ دعویٰ ہوا ہے ضبط کا باطل جگہ جگہ کھویا گیا ہوں راہ وفا میں کچھ اس طرح پھرتی ہے ڈھونڈھتی مجھے منزل جگہ جگہ بس اک نگاہ لطف کی حسرت لئے ہوئے پھرتا ہوں بن کے حسن کا سائل جگہ جگہ طوفان بحر غم میں یوں ہی ڈوب ڈوب کر پیدا کئے ہیں عشق نے ساحل جگہ جگہ جیتے بنے ہے غم میں نہ مرتے بنے ہے اب درپیش ہے بس اک یہی مشکل جگہ جگہ رنگ شفق یہ تابش انجم یہ بوئے گل ہے خون آرزو مرا شامل جگہ جگہ دیکھے تو کیسے حسن حقیقت نشاں کو آنکھ پردے ہیں احتیاط کے حائل جگہ جگہ ہے ذرہ ذرہ خاک کا اک حشر درکنار عرفان غم ہوا مجھے حاصل جگہ جگہ عالم وہ شوق کا ہے کہ رکتے نہیں قدم مانا کہ غم ہے دل سے مقابل جگہ جگہ اس جستجوئے حسن نے آوارہ کر دیا پھرتا ہے مجھ کو لے کے مرا دل جگہ جگہ ساحرؔ مجھے ملال کسی سے ہو کس لئے میرے سخن کے آج ہیں قائل جگہ جگہ
aziiz kyon na ho phir gham tiraa khushi ki tarah
عزیز کیوں نہ ہو پھر غم ترا خوشی کی طرح کہ اختیار بھی میرا ہے بے کسی کی طرح خدا کے واسطے مت توڑ آسرا دل کا کہ میں نے ڈالی ہے مر مر کے زندگی کی طرح وہ جس کو کھلنے سے پہلے ہی توڑ لے کوئی تری مثال ہے اے دوست اس کلی کی طرح تمہاری کون ادا پر کروں یقین کہ تم کبھی کسی کی طرح ہو کبھی کسی کی طرح نگاہ ناز میں اس بخشش و کرم کے نثار کہ تو نے ہوش بھی بخشا تو بے خودی کی طرح نہ کیوں ہو ناز تباہیٔ دل پہ اے ساحرؔ کہ مجھ کو ڈالنا ہے مٹ کے زندگی کی طرح





