SHAWORDS
Salik Lakhnavi

Salik Lakhnavi

Salik Lakhnavi

Salik Lakhnavi

poet
23Sher
23Shayari
8Ghazal

Sherشعر

See all 23

Popular Sher & Shayari

46 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

hujum-e-shahr se hai ab talaash-e-viraana

ہجوم شہر سے ہے اب تلاش ویرانہ خرد کی بھیڑ سے گھبرا گیا ہے دیوانہ کشادہ ظرف ہے کتنی یہ بزم رندانہ جناب شیخ کو سمجھا نہیں ہے بیگانہ کتاب زیست ہے مجموعہ اک فسانوں کا اسی میں ہے کہیں میرا بھی ایک افسانہ پلا کچھ اور اے ساقی کہ ہوش ہے اب تک کسی کی یاد میں حائل ہے شور مے خانہ جسے بھی دیکھیے ماتم گزار قسمت ہے ہوس نے کر دیا دنیا کو اک عزا خانہ ہمیں سے مے کدہ سالکؔ ہمیں رہیں پیاسے چلو اٹھو کہ بدل دیں نظام مے خانہ

غزل · Ghazal

mileinge raah mein sahraa bahut bahut gulshan

ملیں گے راہ میں صحرا بہت بہت گلشن یہ دیکھنا ہے کہاں روکتی ہے اپنی تھکن چلے چلو کہ ہے آراستہ رہ منزل کہیں ہے دار بقدر جنوں کہیں ہے رسن رہ حیات میں اک رنگ میں تھے کتنے رنگ الجھ کے رہ گیا دل کی نگاہ کا دامن تھی گل مثال مری گفتگو ترے رخ سے چرا لیا ترے ہونٹوں سے میں نے رنگ سخن کہاں کہاں نہ جلی تیری یاد کی قندیل کہاں کہاں نہ ہوئی دل کی جستجو روشن

غزل · Ghazal

achchhi thi yaa buri thi bas ik haal par gai

اچھی تھی یا بری تھی بس اک حال پر گئی یہ زندگی گزرنے کی شے تھی گزر گئی رہزن ہوں جس کے رہنما اس کارواں کی خیر کس رہگزر سے پوچھوں کہ منزل کدھر گئی وہ حرف حق وہ جستجو یہ حسرتوں کے ڈھیر لاشیں پڑی ہوئی ہیں جہاں تک نظر گئی کس کھو میں منہ چھپائے ہیں جن کے بڑے تھے بول وہ انقلاب خیز حکایت کدھر گئی اس دور میں جو دیکھے ہیں منظر نہ پوچھئے جھوٹوں کے ہاتھوں سچوں کی ٹوپی اتر گئی سہما ہوا ضمیر ہے تالے زباں پہ ہیں حق مر گیا یہ شہر میں کیسے خبر گئی

غزل · Ghazal

mire siine mein soz-e-aarzu kis ki inaayat hai

مرے سینے میں سوز آرزو کس کی عنایت ہے سبو میرا مئے ناب سبو کس کی عنایت ہے جہان خاک زا میں ایک ذرہ ہے وجود اپنا مگر ذرے میں ذوق جستجو کس کی عنایت ہے گریباں کہکشاں کا تھام لیتی ہے نظر اپنی جنون و شوق شور‌ ہا و ہو کس کی عنایت ہے یہ مانا باغباں میں ہوں یہ صحن گلستاں میرا مگر پھولوں میں جوش رنگ و بو کس کی عنایت ہے مصور ہوں یہ میرے رنگ ہیں یہ مو قلم میرا مگر تصویر میں رنگ نمو کس کی عنایت ہے یہ مضراب و سرود و ساز محفل سب مرے لیکن مغنی کا دل آہنگ جو کس کی عنایت ہے یہ ممکن ہے نگاہ عشق سے پنہاں رہے جلوہ مگر احساس زلف مشک بو کس کی عنایت ہے یہ میری بندش الفاظ یہ میری غزل سالکؔ مرے شعروں میں پنہاں گفتگو کس کی عنایت ہے

غزل · Ghazal

dil-e-be-qaid ne baa-nur-e-imaan kaafiri ki hai

دل بے قید نے با نور ایماں کافری کی ہے حرم میں سر جھکایا ہے بتوں کی چاکری کی ہے بصد بے چارگی روز ازل سے ابن آدم نے خدا کے ہر تصور پر کسی کی بت گری کی ہے خدا شاہد انہیں ہاتھوں نے توڑے ہیں ہزاروں بت خدا شاہد انہیں ہاتھوں نے اکثر آذری کی ہے متاع بندگی بخشش کی خاطر لے کر آیا تھا سر محشر خدا کے ساتھ بھی سوداگری کی ہے مشیت تھی رہے مجبور محکومی عمل میرے کبھی کی ہے عزازیلی کبھی پیغمبری کی ہے بس اک در کے سوا یہ سر کہیں جھکنے نہیں پایا فقیری میں بھی اس دل نے بڑی اسکندری کی ہے کبھی تاریخ سازی کی کبھی افسانے بن ڈالے کبھی سالکؔ نے ان کی یاد میں کچھ شاعری کی ہے

غزل · Ghazal

har aaine se meraa dil puchhtaa hai

ہر آئینے سے میرا دل پوچھتا ہے یہ سالکؔ وہی ہے تو پہچانتا ہے وہ سچ لائے جتنے وہ سب جھوٹ نکلے مجھے جھوٹا کہتے ہیں وہ انتہا ہے خدا آزمائے صنم آزمائے صنم جانتے ہیں خدا جانتا ہے بہت سونی سونی ہیں لیلیٰ کی راہیں کہ مجنوں کا دل بے صدا ہو گیا ہے یہ مانا کہ سب ہیں رواں سوئے منزل جسے دیکھو وہ قافلے سے جدا ہے میں توبہ زدہ ہوں مجھے یہ بتاؤ مرے بعد میخانے کا حال کیا ہے

Similar Poets