SHAWORDS
Sarfraz Nawaz

Sarfraz Nawaz

Sarfraz Nawaz

Sarfraz Nawaz

poet
13Sher
13Shayari
5Ghazal

Sherشعر

See all 13

Popular Sher & Shayari

26 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

tire khulus ke qisse sunaa rahaa huun main

ترے خلوص کے قصے سنا رہا ہوں میں پرانا قرض ہے اب تک چکا رہا ہوں میں خدا کرے کہ وہی بات اس کے دل میں ہو جو بات کہنے کی ہمت جٹا رہا ہوں میں سفر کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا میرا رکے جو پاؤں تو کاندھوں پہ جا رہا ہوں میں سماعتوں کے سبھی در یہاں مقفل ہیں نہ جانے کب سے صدائیں لگا رہا ہوں میں لگا ہوں آج حفاظت میں خود چراغوں کی کئی دنوں تو مخالف ہوا رہا ہوں میں یہ عقل ہوش، نظر، خواب، لمس، گویائی لو آج داؤ پہ سب کچھ لگا رہا ہوں میں کہ جب بھی چاہیں انہیں ڈھونڈ لیں مری آنکھیں اس احتیاط سے منظر سجا رہا ہوں میں مرے بغیر کوئی تم کو ڈھونڈتا کیسے تمہیں پتہ ہے تمہارا پتہ رہا ہوں میں

غزل · Ghazal

nazar bhi aayaa to khud se chhupaa liyaa main ne

نظر بھی آیا تو خود سے چھپا لیا میں نے یہ کون ہے جسے اپنا بنا لیا میں نے تمہارا لمس چھپا ہے بدن کی پرتوں میں چھوا جو خود کو لگا تم کو پا لیا میں نے اسی کے سامنے جو رحمتوں کا مالک ہے شکایتوں کو دعا میں ملا لیا میں نے نہ کچھ دوا کی ضرورت نہ چارہ گر کی تلاش یہ روگ کون سا دل کو لگا لیا میں نے جھلس گیا ہوں جلا ہوں دھواں دھواں ہو کر اندھیری رات سے تم کو بچا لیا میں نے وہ ملنے جلنے کے موسم گزر گئے کب کے ملا جو کوئی گلے سے لگا لیا میں نے تمہارے سچ کی حفاظت میں یوں ہوا اکثر کہ اپنے آپ کو جھوٹا بنا لیا میں نے

غزل · Ghazal

ye main ne maanaa ki pahra hai sakht raaton kaa

یہ میں نے مانا کہ پہرہ ہے سخت راتوں کا یہیں سے نکلے گا پھر قافلہ چراغوں کا یوں خوشبوؤں میں ڈبوئے ہوئے رکھوں کب تک گناہ کیوں نہ میں کر لوں قبول ہاتھوں کا چراغ پا ہے مری نیند ان دنوں مجھ سے میں کوئی شہر بسانے لگا تھا خوابوں کا ہرن سی چوکڑی بھرنے لگے گی ہر دھڑکن جو ذکر چھیڑ دوں اس کی غزال آنکھوں کا خمار و کیف و سرور و نشاط کا عالم میں قرض دار بہت ہوں تمہاری باہوں کا اے دن تو روشنی دے کر کے اس کے بدلے میں حساب مانگ نہ مجھ سے سیاہ راتوں کا بدن سرائے میں ٹھہرا ہوا مسافر ہوں چکا رہا ہوں کرایہ میں چند سانسوں کا

غزل · Ghazal

kise khabar thi ki is ko bhi TuuT jaanaa thaa

کسے خبر تھی کہ اس کو بھی ٹوٹ جانا تھا ہمارا آپ سے رشتہ بہت پرانا تھا ہم اپنے شہر سے ہو کر اداس آئے تھے تمہارے شہر سے ہو کر اداس جانا تھا صدا لگائی مگر کوئی بھی نہیں پلٹا ہر ایک شخص نہ جانے کہاں روانہ تھا یوں چپ ہوا کہ پھر آنکھیں ہی ڈبڈبا اٹھیں نہ جانے اس کو ابھی اور کیا بتانا تھا کسے پڑی تھی مرا حال پوچھتا مجھ سے مجھے تو رسم نبھانی تھی مسکرانا تھا بھنک نہ جانے یہ کیسے لگی ہواؤں کو کہ مجھ کو راہ گزر پر دیا جلانا تھا چھپی تھی اس میں ہی تمہید بھی جدائی کی ہمارا آپ سے ملنا تو اک بہانہ تھا تجھے خبر ہی نہیں میرے جیتنے والے ترے لئے تو ہمیشہ ہی ہار جانا تھا نگاہ شوق سے یوں غیر کو ترا تکنا نوازؔ اور نہیں کچھ مجھے ستانا تھا

غزل · Ghazal

yuun uDaati hai jo havaa mujh ko

یوں اڑاتی ہے جو ہوا مجھ کو پہلے ہلکا بہت کیا مجھ کو مدتوں سے یہاں مقفل ہوں آ کبھی آ کے کھٹکھٹا مجھ کو آخری وقت آ گیا ہے کیا دے رہے ہیں سبھی دعا مجھ کو تجھ تک آنے کبھی نہیں دے گا میرے حصے کا دائرہ مجھ کو روزمرہ کی اس کہانی میں کوئی کردار تو بنا مجھ کو عشق ادب ہے تو اپنے آپ آئے گر سبق ہے تو پھر پڑھا مجھ کو کر کے سودا جو پاؤں کا بیٹھا دے گیا کوئی راستہ مجھ کو وہ کوئی عام سا ہی جملہ تھا تیرے منہ سے برا لگا مجھ کو

Similar Poets