"baap ziina hai jo le jaata hai uncha.i tak maan dua hai jo sada saya-figan rahti hai"

Sarfraz Nawaz
Sarfraz Nawaz
Sarfraz Nawaz
Sherشعر
See all 13 →baap ziina hai jo le jaata hai uncha.i tak
باپ زینہ ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک ماں دعا ہے جو سدا سایہ فگن رہتی ہے
is ga.e saal baDe zulm hue hain mujh par
اس گئے سال بڑے ظلم ہوئے ہیں مجھ پر اے نئے سال مسیحا کی طرح مل مجھ سے
be-sada si kisi avaz ke pichhe pichhe
بے صدا سی کسی آواز کے پیچھے پیچھے چلتے چلتے میں بہت دور نکل جاتا ہوں
ishq adab hai to apne aap aa.e
عشق ادب ہے تو اپنے آپ آئے گر سبق ہے تو پھر پڑھا مجھ کو
ham apne shahr se ho kar udaas aa.e the
ہم اپنے شہر سے ہو کر اداس آئے تھے تمہارے شہر سے ہو کر اداس جانا تھا
khuda kare ki vahi baat us ke dil men ho
خدا کرے کہ وہی بات اس کے دل میں ہو جو بات کہنے کی ہمت جٹا رہا ہوں میں
Popular Sher & Shayari
26 total"is ga.e saal baDe zulm hue hain mujh par ai na.e saal masiha ki tarah mil mujh se"
"be-sada si kisi avaz ke pichhe pichhe chalte chalte main bahut duur nikal jaata huun"
"ishq adab hai to apne aap aa.e gar sabaq hai to phir paDha mujh ko"
"ham apne shahr se ho kar udaas aa.e the tumhare shahr se ho kar udaas jaana tha"
"khuda kare ki vahi baat us ke dil men ho jo baat kahne ki himmat juTa raha huun main"
khudaa kare ki vahi baat us ke dil mein ho
jo baat kahne ki himmat juTaa rahaa huun main
safar kahaan se kahaan tak pahunch gayaa meraa
ruke jo paanv to kaandhon pe jaa rahaa huun main
mire baghair koi tum ko DhunDtaa kaise
tumhein pata hai tumhaaraa pata rahaa huun main
ham apne shahr se ho kar udaas aae the
tumhaare shahr se ho kar udaas jaanaa thaa
baap ziina hai jo le jaataa hai unchaai tak
maan duaa hai jo sadaa saaya-figan rahti hai
vo koi aam saa hi jumla thaa
tere munh se buraa lagaa mujh ko
Ghazalغزل
tire khulus ke qisse sunaa rahaa huun main
ترے خلوص کے قصے سنا رہا ہوں میں پرانا قرض ہے اب تک چکا رہا ہوں میں خدا کرے کہ وہی بات اس کے دل میں ہو جو بات کہنے کی ہمت جٹا رہا ہوں میں سفر کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا میرا رکے جو پاؤں تو کاندھوں پہ جا رہا ہوں میں سماعتوں کے سبھی در یہاں مقفل ہیں نہ جانے کب سے صدائیں لگا رہا ہوں میں لگا ہوں آج حفاظت میں خود چراغوں کی کئی دنوں تو مخالف ہوا رہا ہوں میں یہ عقل ہوش، نظر، خواب، لمس، گویائی لو آج داؤ پہ سب کچھ لگا رہا ہوں میں کہ جب بھی چاہیں انہیں ڈھونڈ لیں مری آنکھیں اس احتیاط سے منظر سجا رہا ہوں میں مرے بغیر کوئی تم کو ڈھونڈتا کیسے تمہیں پتہ ہے تمہارا پتہ رہا ہوں میں
nazar bhi aayaa to khud se chhupaa liyaa main ne
نظر بھی آیا تو خود سے چھپا لیا میں نے یہ کون ہے جسے اپنا بنا لیا میں نے تمہارا لمس چھپا ہے بدن کی پرتوں میں چھوا جو خود کو لگا تم کو پا لیا میں نے اسی کے سامنے جو رحمتوں کا مالک ہے شکایتوں کو دعا میں ملا لیا میں نے نہ کچھ دوا کی ضرورت نہ چارہ گر کی تلاش یہ روگ کون سا دل کو لگا لیا میں نے جھلس گیا ہوں جلا ہوں دھواں دھواں ہو کر اندھیری رات سے تم کو بچا لیا میں نے وہ ملنے جلنے کے موسم گزر گئے کب کے ملا جو کوئی گلے سے لگا لیا میں نے تمہارے سچ کی حفاظت میں یوں ہوا اکثر کہ اپنے آپ کو جھوٹا بنا لیا میں نے
ye main ne maanaa ki pahra hai sakht raaton kaa
یہ میں نے مانا کہ پہرہ ہے سخت راتوں کا یہیں سے نکلے گا پھر قافلہ چراغوں کا یوں خوشبوؤں میں ڈبوئے ہوئے رکھوں کب تک گناہ کیوں نہ میں کر لوں قبول ہاتھوں کا چراغ پا ہے مری نیند ان دنوں مجھ سے میں کوئی شہر بسانے لگا تھا خوابوں کا ہرن سی چوکڑی بھرنے لگے گی ہر دھڑکن جو ذکر چھیڑ دوں اس کی غزال آنکھوں کا خمار و کیف و سرور و نشاط کا عالم میں قرض دار بہت ہوں تمہاری باہوں کا اے دن تو روشنی دے کر کے اس کے بدلے میں حساب مانگ نہ مجھ سے سیاہ راتوں کا بدن سرائے میں ٹھہرا ہوا مسافر ہوں چکا رہا ہوں کرایہ میں چند سانسوں کا
kise khabar thi ki is ko bhi TuuT jaanaa thaa
کسے خبر تھی کہ اس کو بھی ٹوٹ جانا تھا ہمارا آپ سے رشتہ بہت پرانا تھا ہم اپنے شہر سے ہو کر اداس آئے تھے تمہارے شہر سے ہو کر اداس جانا تھا صدا لگائی مگر کوئی بھی نہیں پلٹا ہر ایک شخص نہ جانے کہاں روانہ تھا یوں چپ ہوا کہ پھر آنکھیں ہی ڈبڈبا اٹھیں نہ جانے اس کو ابھی اور کیا بتانا تھا کسے پڑی تھی مرا حال پوچھتا مجھ سے مجھے تو رسم نبھانی تھی مسکرانا تھا بھنک نہ جانے یہ کیسے لگی ہواؤں کو کہ مجھ کو راہ گزر پر دیا جلانا تھا چھپی تھی اس میں ہی تمہید بھی جدائی کی ہمارا آپ سے ملنا تو اک بہانہ تھا تجھے خبر ہی نہیں میرے جیتنے والے ترے لئے تو ہمیشہ ہی ہار جانا تھا نگاہ شوق سے یوں غیر کو ترا تکنا نوازؔ اور نہیں کچھ مجھے ستانا تھا
yuun uDaati hai jo havaa mujh ko
یوں اڑاتی ہے جو ہوا مجھ کو پہلے ہلکا بہت کیا مجھ کو مدتوں سے یہاں مقفل ہوں آ کبھی آ کے کھٹکھٹا مجھ کو آخری وقت آ گیا ہے کیا دے رہے ہیں سبھی دعا مجھ کو تجھ تک آنے کبھی نہیں دے گا میرے حصے کا دائرہ مجھ کو روزمرہ کی اس کہانی میں کوئی کردار تو بنا مجھ کو عشق ادب ہے تو اپنے آپ آئے گر سبق ہے تو پھر پڑھا مجھ کو کر کے سودا جو پاؤں کا بیٹھا دے گیا کوئی راستہ مجھ کو وہ کوئی عام سا ہی جملہ تھا تیرے منہ سے برا لگا مجھ کو





