SHAWORDS
Sarfraz Zahid

Sarfraz Zahid

Sarfraz Zahid

Sarfraz Zahid

poet
25Sher
25Shayari
9Ghazal

Sherشعر

See all 25

Popular Sher & Shayari

50 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

khvaab-zaadon kaa dukh zamini hai

خواب زادوں کا دکھ زمینی ہے یہ حقیقت بڑی کمینی ہے اے خدائے گماں کوئی تجویز معرکہ اب کوئی یقینی ہے پتھروں کے مزاج میں شامل آبگینوں پہ نکتہ چینی ہے وہ مرے سامنے سے اٹھ جائے جس کا مقصد تماش بینی ہے گھر کی تزئین میں سر فہرست ایک عورت کی نکتہ چینی ہے ایک پل کے جمال میں یکجا کئی صدیوں کی دل نشینی ہے

غزل · Ghazal

kabhi honTon pe aisaa lams apni aankh khole

کبھی ہونٹوں پہ ایسا لمس اپنی آنکھ کھولے کہ بوسا خودکشی کرنے سے پہلے مسکرا دے کوئی آنسو چمکنے میں ہمارا ساتھ دیتا تو زہرہ اور عطارد اپنے گھر کی راہ لیتے لجا کر رات نے کچھ اور بھی گھونگھٹ نکالا طلب نے جسم پہنا شوق نے گہنے اتارے تصور میں ٹہلتے خال و خد کیا چاہتے ہیں اداسی سے کہو تصویر کی آنکھوں سے پوچھے دکاں اک سامنے ایسی اچانک آ گئی تھی جہاں ممکن نہ تھا ہم اپنی جیبوں میں سماتے بھکارن جاتے جاتے پیچھے مڑ کر دیکھ لے تو میں اس کے نام کر دوں دل کے مفتوحہ علاقے اتر آتیں ترے جھیلوں پہ سستانے کو ڈاریں تو اس دن ہم بھی اپنے غار سے باہر نکلتے

غزل · Ghazal

nazar ki dhuup mein aane se pahle

نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے گلابی تھا وہ سنولانے سے پہلے سنا ہے کوئی دیوانہ یہاں پر رہا کرتا تھا ویرانے سے پہلے کھلا کرتے تھے خوابوں میں کسی کے ترے تکیے پہ مرجھانے سے پہلے محبت عام سا اک واقعہ تھا ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے نظر آتے تھے ہم اک دوسرے کو زمانے کو نظر آنے سے پہلے تعجب ہے کہ اس دھرتی پہ کچھ لوگ جیا کرتے تھے مر جانے سے پہلے رہا کرتا تھا اپنے زعم میں وہ ہمارے دھیان میں آنے سے پہلے مزین تھی کسی کے خال و خد سے ہماری شام پیمانے سے پہلے

غزل · Ghazal

havaa chalti hai dam Thahraa huaa hai

ہوا چلتی ہے دم ٹھہرا ہوا ہے فضا میں کس کا غم ٹھہرا ہوا ہے تصور میں ابھرتے خال و خد پر مصور کا قلم ٹھہرا ہوا ہے اسی کو اپنی منزل کہہ رہا ہے جہاں جس کا قدم ٹھہرا ہوا ہے سماعت کے جزیروں میں کہیں پر ترے لہجے کا رم ٹھہرا ہوا ہے ذرا ٹھہرو کہ چلتی ہے ابھی سانس چلے آؤ کہ دم ٹھہرا ہوا ہے مرے خوابوں کے رخساروں پہ اب تک کسی بوسے کا نم ٹھہرا ہوا ہے خدا بھی ہے اسی کوچے کا باسی جہاں میرا صنم ٹھہرا ہوا ہے

غزل · Ghazal

aisi vaisi pe qanaa'at nahin kar sakte ham

ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم دان یہ فقر کی دولت نہیں کر سکتے ہم اک عداوت سے فراغت نہیں ملتی ورنہ کون کہتا ہے محبت نہیں کر سکتے ہم کسی تعبیر کی صورت میں نکل آتے ہیں اپنے خوابوں میں سکونت نہیں کر سکتے ہم استعاروں کے تکلف میں پڑے ہیں جب سے اپنے ہونے کی وضاحت نہیں کر سکتے ہم شاخ سے توڑ لیا کرتے ہیں آگے بڑھ کر جن کی خوش بو پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم بے خبر یوں کہ ہر اک بات خبر لگتی ہے با خبر ایسے کہ حیرت نہیں کر سکتے ہم

غزل · Ghazal

nazar ki dhuup mein aane se pahle

نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے گلابی تھا وہ سنولانے سے پہلے سنا ہے کوئی دیوانہ یہاں پر رہا کرتا تھا ویرانے سے پہلے محبت عام سا اک واقعہ تھا ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے کھلا کرتے تھے خوابوں میں کسی کے ترے تکیے پہ مرجھانے سے پہلے

Similar Poets