SHAWORDS
Sarshar Siddiqui

Sarshar Siddiqui

Sarshar Siddiqui

Sarshar Siddiqui

poet
7Sher
7Shayari
5Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

mere badan mein thi tiri khushbu-e-pairahan

میرے بدن میں تھی تری خوشبوئے پیرہن شب بھر مرے وجود میں مہکا ترا بدن ہوں اپنے ہی ہجوم تمنا میں اجنبی میں اپنے ہی دیار نفس میں جلا وطن سب پتھروں پہ نام لکھے تھے رفیقوں کے ہر زخم سر ہے سنگ ملامت پہ خندہ زن اب دشت بے اماں ہی میں شاید ملے پناہ گھر کی کھلی فضا میں تو بڑھنے لگی گھٹن ہر آدمی ہے پیکر فریاد ان دنوں ہر شخص کے بدن پہ ہے کاغذ کا پیرہن خوش فہم ہیں کہ صرف روایت پرست ہیں خوش فکر تھے کہ لے اڑے تاریخ کا کفن اس دور میں یہاں بھی فلسطین کی طرح کچھ لوگ بے زمیں ہوئے کچھ لوگ بے وطن مثل صبا کوئی ادھر آیا ادھر گیا گھر میں بسی ہوئی ہے مگر بوئے پیرہن سرشارؔ میں نے عشق کے معنی بدل دیے اس عاشقی میں پہلے نہ تھا وصل کا چلن

غزل · Ghazal

ishq tak apni dastaras bhi nahin

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں اور دل مائل ہوس بھی نہیں اب کہاں جائیں گے خراب بہار آشیاں بھی نہیں قفس بھی نہیں برق کی بیکسی کو روتا ہوں اب نشیمن میں خار و خس بھی نہیں کس نے دیکھا شگفتگی کا مآل زندگی اتنی دور رس بھی نہیں ہم اسیروں کے واسطے سرشار رسم پابندئ قفس بھی نہیں

غزل · Ghazal

shahr mein jab bhi zulekhaa se kharidaar aae

شہر میں جب بھی زلیخا سے خریدار آئے کتنے یوسف تھے کہ خود ہی سر بازار آئے چھیڑ دی قامت و گیسو کی حکایت ہم نے کسی صورت سے تو ذکر رسن و دار آئے جب بھی زنداں میں اسیروں کو ملا مژدۂ گل میری نظروں میں تمہارے لب و رخسار آئے دوسری راہ وفا میں کوئی منزل ہی نہ تھی جو تری بزم سے اٹھے وہ سر دار آئے جب کیا ترک تمنا کا ارادہ ہم نے سامنے کتنے ہی ٹوٹے ہوئے پندار آئے ہوش مندوں نے سجا لی غم دل کی محفل ہم سے دیوانے سر انجمن دار آئے ہم سے سیکھے کوئی آداب قدح نوشی کے ہم کہ میخانے میں غافل گئے ہوشیار آئے غور سے دیکھ سخن فہموں کے چہرے سرشارؔ کتنے اس شکل میں غالبؔ کے طرفدار آئے

غزل · Ghazal

khalvat-e-zaat hai aur anjuman-aaraai hai

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے بزم سی بزم ہے تنہائی سی تنہائی ہے وہ ہے خاموش مگر اس کے سکوت لب پر رقص کرتا ہوا اک عالم گویائی ہے جب اندھیرے مری آنکھوں کا لہو چاٹ چکے تب ان آنکھوں میں رفاقت کی چمک آئی ہے اب خدا اس کو بنایا ہے تو یاد آتا ہے جیسے اس بت سے تو برسوں کی شناسائی ہے نیند ٹوٹی ہے تو احساس زیاں بھی جاگا دھوپ دیوار سے آنگن میں اتر آئی ہے پس دیوار ابد دیکھ رہا ہوں اے دوست میری آنکھوں میں مرے عہد کی بینائی ہے میرے چہرے پہ ہے وہ عکس کہ آئینۂ ذات کبھی میرا کبھی خود اپنا تماشائی ہے میرے سچ میں تو کوئی کھوٹ نہیں تھا سرشارؔ پھر یہ کیوں زہر سے تریاک کی بو آئی ہے

غزل · Ghazal

sahraa hi ghanimat hai, jo ghar jaaoge logo

صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھر جاؤ گے لوگو وہ عالم وحشت ہے کہ مر جاؤ گے لوگو یادوں کے تعاقب میں اگر جاؤ گے لوگو میری ہی طرح تم بھی بکھر جاؤ گے لوگو وہ موج صبا بھی ہو تو ہشیار ہی رہنا سوکھے ہوئے پتے ہو بکھر جاؤ گے لوگو اس خاک پہ موسم تو گزرتے ہی رہے ہیں موسم ہی تو ہو تم بھی گزر جاؤ گے لوگو اجڑے ہیں کئی شہر تو یہ شہر بسا ہے یہ شہر بھی چھوڑا تو کدھر جاؤ گے لوگو حالات نے چہروں پہ بہت ظلم کئے ہیں آئینہ اگر دیکھا تو ڈر جاؤ گے لوگو اس پر نہ قدم رکھنا کہ یہ راہ وفا ہے سرشار نہیں ہو، کہ گزر جاؤ گے لوگو

Similar Poets