"niind TuuTi hai to ehsas-e-ziyan bhi jaaga dhuup divar se angan men utar aa.i hai"

Sarshar Siddiqui
Sarshar Siddiqui
Sarshar Siddiqui
Sherشعر
See all 7 →niind TuuTi hai to ehsas-e-ziyan bhi jaaga
نیند ٹوٹی ہے تو احساس زیاں بھی جاگا دھوپ دیوار سے آنگن میں اتر آئی ہے
ujDe hain ka.i shahar, to ye shahar basa hai
اجڑے ہیں کئی شہر، تو یہ شہر بسا ہے یہ شہر بھی چھوڑا تو کدھر جاؤ گے لوگو
main ne ibadaton ko mohabbat bana diya
میں نے عبادتوں کو محبت بنا دیا آنکھیں بتوں کے ساتھ رہیں دل خدا کے ساتھ
na-mustajab itni dua.en huiin ki phir
نا مستجاب اتنی دعائیں ہوئیں کہ پھر میرا یقیں بھی اٹھ گیا رسم دعا کے ساتھ
ik kar-e-muhal kar raha huun
اک کار محال کر رہا ہوں زندہ ہوں کمال کر رہا ہوں
'sarshar' main ne ishq ke ma.ani badal diye
سرشارؔ میں نے عشق کے معنی بدل دیے اس عاشقی میں پہلے نہ تھا وصل کا چلن
Popular Sher & Shayari
14 total"ujDe hain ka.i shahar, to ye shahar basa hai ye shahar bhi chhoDa to kidhar jaoge logo"
"main ne ibadaton ko mohabbat bana diya ankhen buton ke saath rahin dil khuda ke saath"
"na-mustajab itni dua.en huiin ki phir mera yaqin bhi uTh gaya rasm-e-dua ke saath"
"ik kar-e-muhal kar raha huun zinda huun kamal kar raha huun"
"'sarshar' main ne ishq ke ma.ani badal diye is ashiqi men pahle na tha vasl ka chalan"
niind TuuTi hai to ehsaas-e-ziyaan bhi jaagaa
dhuup divaar se aangan mein utar aai hai
naa-mustajaab itni duaaein huiin ki phir
meraa yaqin bhi uTh gayaa rasm-e-duaa ke saath
'sarshaar' main ne ishq ke maani badal diye
is aashiqi mein pahle na thaa vasl kaa chalan
miri talab mein takalluf bhi inkisaar bhi thaa
vo nukta-sanj thaa sab mere hasb-e-haal diyaa
main ne ibaadaton ko mohabbat banaa diyaa
aankhein buton ke saath rahin dil khudaa ke saath
ik kaar-e-muhaal kar rahaa huun
zinda huun kamaal kar rahaa huun
Ghazalغزل
mere badan mein thi tiri khushbu-e-pairahan
میرے بدن میں تھی تری خوشبوئے پیرہن شب بھر مرے وجود میں مہکا ترا بدن ہوں اپنے ہی ہجوم تمنا میں اجنبی میں اپنے ہی دیار نفس میں جلا وطن سب پتھروں پہ نام لکھے تھے رفیقوں کے ہر زخم سر ہے سنگ ملامت پہ خندہ زن اب دشت بے اماں ہی میں شاید ملے پناہ گھر کی کھلی فضا میں تو بڑھنے لگی گھٹن ہر آدمی ہے پیکر فریاد ان دنوں ہر شخص کے بدن پہ ہے کاغذ کا پیرہن خوش فہم ہیں کہ صرف روایت پرست ہیں خوش فکر تھے کہ لے اڑے تاریخ کا کفن اس دور میں یہاں بھی فلسطین کی طرح کچھ لوگ بے زمیں ہوئے کچھ لوگ بے وطن مثل صبا کوئی ادھر آیا ادھر گیا گھر میں بسی ہوئی ہے مگر بوئے پیرہن سرشارؔ میں نے عشق کے معنی بدل دیے اس عاشقی میں پہلے نہ تھا وصل کا چلن
ishq tak apni dastaras bhi nahin
عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں اور دل مائل ہوس بھی نہیں اب کہاں جائیں گے خراب بہار آشیاں بھی نہیں قفس بھی نہیں برق کی بیکسی کو روتا ہوں اب نشیمن میں خار و خس بھی نہیں کس نے دیکھا شگفتگی کا مآل زندگی اتنی دور رس بھی نہیں ہم اسیروں کے واسطے سرشار رسم پابندئ قفس بھی نہیں
shahr mein jab bhi zulekhaa se kharidaar aae
شہر میں جب بھی زلیخا سے خریدار آئے کتنے یوسف تھے کہ خود ہی سر بازار آئے چھیڑ دی قامت و گیسو کی حکایت ہم نے کسی صورت سے تو ذکر رسن و دار آئے جب بھی زنداں میں اسیروں کو ملا مژدۂ گل میری نظروں میں تمہارے لب و رخسار آئے دوسری راہ وفا میں کوئی منزل ہی نہ تھی جو تری بزم سے اٹھے وہ سر دار آئے جب کیا ترک تمنا کا ارادہ ہم نے سامنے کتنے ہی ٹوٹے ہوئے پندار آئے ہوش مندوں نے سجا لی غم دل کی محفل ہم سے دیوانے سر انجمن دار آئے ہم سے سیکھے کوئی آداب قدح نوشی کے ہم کہ میخانے میں غافل گئے ہوشیار آئے غور سے دیکھ سخن فہموں کے چہرے سرشارؔ کتنے اس شکل میں غالبؔ کے طرفدار آئے
khalvat-e-zaat hai aur anjuman-aaraai hai
خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے بزم سی بزم ہے تنہائی سی تنہائی ہے وہ ہے خاموش مگر اس کے سکوت لب پر رقص کرتا ہوا اک عالم گویائی ہے جب اندھیرے مری آنکھوں کا لہو چاٹ چکے تب ان آنکھوں میں رفاقت کی چمک آئی ہے اب خدا اس کو بنایا ہے تو یاد آتا ہے جیسے اس بت سے تو برسوں کی شناسائی ہے نیند ٹوٹی ہے تو احساس زیاں بھی جاگا دھوپ دیوار سے آنگن میں اتر آئی ہے پس دیوار ابد دیکھ رہا ہوں اے دوست میری آنکھوں میں مرے عہد کی بینائی ہے میرے چہرے پہ ہے وہ عکس کہ آئینۂ ذات کبھی میرا کبھی خود اپنا تماشائی ہے میرے سچ میں تو کوئی کھوٹ نہیں تھا سرشارؔ پھر یہ کیوں زہر سے تریاک کی بو آئی ہے
sahraa hi ghanimat hai, jo ghar jaaoge logo
صحرا ہی غنیمت ہے، جو گھر جاؤ گے لوگو وہ عالم وحشت ہے کہ مر جاؤ گے لوگو یادوں کے تعاقب میں اگر جاؤ گے لوگو میری ہی طرح تم بھی بکھر جاؤ گے لوگو وہ موج صبا بھی ہو تو ہشیار ہی رہنا سوکھے ہوئے پتے ہو بکھر جاؤ گے لوگو اس خاک پہ موسم تو گزرتے ہی رہے ہیں موسم ہی تو ہو تم بھی گزر جاؤ گے لوگو اجڑے ہیں کئی شہر تو یہ شہر بسا ہے یہ شہر بھی چھوڑا تو کدھر جاؤ گے لوگو حالات نے چہروں پہ بہت ظلم کئے ہیں آئینہ اگر دیکھا تو ڈر جاؤ گے لوگو اس پر نہ قدم رکھنا کہ یہ راہ وفا ہے سرشار نہیں ہو، کہ گزر جاؤ گے لوگو





